ناکام دھرنے، حیرت انگیز آفر، ادارہ جاتی فیصلہ

09:03 AM, 2 Feb, 2026

ڈھیروں خبریں، 90 فیصد جعلی، فیک نیوز، مطلوب و مقصود قیدی نمبر 804 یعنی بڑے خان صاحب کی رہائی، اس رہائی سے بہتوں کا مفاد وابستہ، خبریں سنئے اور سردھنئے ’’دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے‘‘ صحت، ملاقات، رہائی ساری خبروں کا محور، اقتدار کے متلاشی اسی کے لیے مارے مارے پھر رہے ہیں۔ 8 فروری کی خفیہ تیاریاں، اسلام آباد پر یلغار کا اعلان، تربیلا ڈیم سے ملک بھر کی بجلی بند کرنے کی دھمکی، الٹی میٹم پہیہ جام، شٹر ڈائون، کروڑوں انسانوں کو سڑکوں پر لانے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔ علیمہ خان کی خواہش، دس ہزار ہی نکل آئیں، رہائی کے لیے انقلاب ضروری، انقلاب خون مانگتا ہے، ایسا خون جس پر اپنا دل نہ دھڑکے، لاشیں چاہیں مگر اپنوں کی نہ ہوں، خیبر پختونخوا کے بلنڈر بوائے کی آنیاں جانیاں، وارنٹ گرفتاری کے باوجود اڈیالہ جیل سے ایک کلو میٹر دور فیکٹری ناکے پر دھرنا دئیے بیٹھے رہے، گرفتاری نہیں ہوئی، مگر چند ویلاگرز نے اپنی مرضی کی خبر دے دی، ’’وزیر اعلیٰ گرفتار، کارکنوں میں ہلچل‘‘ بلنڈر بوائے آزاد پتا نہیں کیوں، سسٹم کی تبدیلی پر روزانہ پر اعتماد تبصرے، تصوراتی فیم ورک، ن لیگ اور پی پی کو مکمل طور پر ختم کرنے کا خیالی پلائو سندھ میں کریک ڈائون کی افواہیں صدر آصف زرداری اور بلاول بھٹو کے خلاف کارروائی کے چٹکلے، سیاست کے منفرد اور حیران کن رنگ، کون کس کا کھلاڑی اللہ ہی جانے کون بشر ہے۔ بہرحال گیم آن ہے یو ٹیوبرز کی جانب سے زندہ سلامت جیتے جاگتے لیڈروں کے انتقال کی خبریں، ایک ویلاگرز نے اپنے ہی لیڈر کا جنازہ دکھا دیا۔ لیڈروں کی کفن میں لپٹی تصویریں، مقصد عوام میں اشتعال پھیلا کر ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔ رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار (یہ وہی ذات شریف ہیں جنہوں نے کہا تھا کہ خان نہیں تو پاکستان نہیں منہ میں سو صحرائوں کی خاک) نے خیالی منصوبہ کا انکشاف کیا کہ ہمارے امریکی دوستوں کا کہنا ہے کہ طالبان نے بگرام ایئر بیس نہ دیا تو وادی تیرہ کو امریکی ایئر بیس بنا لیں گے۔‘‘ سو خبریں ہزار افواہیں ویلاگرز کے تھمب نیل، ’’ڈیل ہوگئی خان رہا بنی گالہ میں جشن عوام کا سمندر اُمڈ آیا۔‘‘ علیمہ خان ہفتوں سے دس ہزار کو ترس رہی ہیں شیخ وقاص اکرم اڈیالہ روڈ پر کم ترین کارکن دیکھ کر سہیل آفریدی پر برس پڑے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے یو ٹیوبرز اور فیک نیوز دینے والوں کے خلاف بڑے کریک ڈائون کا اعلان کیا۔ بے نتھے بیلوں پر ہاتھ ڈالنا آسان ہے؟ آسان ہوتا تو اب تک روئے زمین پر موجود زومبیز کا صفایا ہوچکا ہوتا۔ ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی ڈرامائی گرفتاری میں کتنے دن لگے۔ فلمی کہانی، ریاست مخالف ٹوئٹس پر مقدمہ، عدالت میں سماعت کے دوران جج کو دھمکیاں تلخ کلامی، مقدمہ میں دونوں کو سترہ سترہ سال قید کی سزا ہوگئی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے صدر واجد گیلانی پر حملہ اور تشدد کے الزام میں ایف آئی آر کٹی لیکن گرفتاری سے بچنے کے لیے ان ہی کے دفتر میں تین راتیں چار دن پناہ لینا پڑی، وکلا کا کردار زیر بحث، چوتھے دن واجد گیلانی کے ہمراہ ہائی کورٹ جاتے ہوئے انڈر پاس میں گرفتار کرلیے گئے تو اپنے اسی محسن کے خلاف ٹرولنگ شروع کردی گئی۔ نیکی کر تھانے جا، ٹرولنگ یوتھیا بریگیڈ کے ڈی این اے میں شامل، اڈیالہ جیل کے باہر علیمہ شو میں ایک دن کی توسیع،جمعرات کو بہنوں کے ساتھ سہیل آفریدی بھی شامل ہوگئے۔ خان کے عاشق 12 مرتبہ کوشش کے باوجود ملاقات سے محروم رہے، عاشق صادق نے سردی سے بچنے کے لیے سوات کی گرم شال اوڑھی اور جیل سے ایک کلو میٹر دور فیکٹری ناکہ پر دھرنے میں شریک ہوگئے کہا پوری رات دھرنا دیں گے لیکن رات ایک بجے سی پی او راولپنڈی فورس کے ساتھ پہنچے تو سارے لیڈر قریبی دکان کا شٹر اٹھا کر اندر پناہ گزین ہوگئے۔ دھرنا ختم دو ڈھائی سو کارکن تمبو قناقتیں لپیٹ کر فرار، سپریم کورٹ دھرنے میں بھی کوئی آیا نہ گیا۔ خان اپنی پارٹی سے شدید ناراض، بد کلامی اور گالم گلوچ جیل میں کام نہ آئی، مبینہ طور پر مشقتی نے بد کلامی سے تنگ آ کر اپنا ٹرانسفر کرا لیا، نظریاتی کارکن کہاں غائب ہو گئے کوئی ملنے تک نہیں آتا، خان کی آنکھوں میں خون کی بجائے موتیا اتر آیا، انہونی بات نہیں، ساٹھ ستر سال کی عمر میں یہ بیماری عام ہے، علاج لینز اور 3 انجکشن 
دوائوں سمیت 3 لاکھ کا خرچہ، خان خوش قسمت ٹھہرے یہاں بھی مفت میں علاج ہوگیا۔ پی ٹی آئی والوں کو حکومت کا شکر گزار ہونا چاہیے لیکن خان کے عشاق حکومت کو آنکھیں دکھانے لگے۔ اس پر بھی قیامت کا شور کہ ہمیںکیوں نہیں بتایا۔ پمز ہسپتال لے جانے کا بتا دیا جاتا تو اسلام آباد کے ایکسپریس وے پر میراتھن ریس کے مناظر دیکھنے کو ملتے۔ بیماری پر ویلاگز دیکھنے کو ملے کہ خان پراسرار بیماری میں مبتلا آنکھ کا نہیں کسی اور بیماری کا آپریشن ہوا۔ ایک اچھے بھلے اینکر پرسن کو جانے کیا سوجھی کہ انہوں نے ٹی وی چینل کی غالباً ریٹنگ بڑھانے کے لیے ہنگامہ خیز خبر دے دی کہ حکومت نے شدید دبائو کے باعث پی ٹی آئی کو فائنل آفر دی ہے کہ اگر ارکان اسمبلی قائمہ کیٹیوں میں واپس آجائیں تو ایک سال بعد الیکشن اور چیف الیکشن کمشنر کا تقرر کردیا جائے گا اس کے لیے پارٹی لیڈروں سے مذاکرات ہوسکتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل انہوں نے خبر دی تھی کہ حکومت کو 6 ماہ کی مہلت دی گئی ہے کہ سمت درست نہ کی تو خلاص، مذکورہ بالا اینکر پرسن اس قسم کی اوٹ پٹانگ چھوڑنے میں اکیلے نہیں دو تین اور بھی موقع محل کی مناسبت سے بے بنیاد خبریں اڑاتے رہتے ہیں۔ ایک نوجوان نے خبر کے حوالے سے کہا کہ صحافی بھائیوں نے کائونٹر چیک کی عادت ترک کردی ہے۔ حمام میں سارے ننگے ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا دیتے ہیں۔ مذاکرات پر ایک سیانے کا تبصرہ تھا کہ مذاکرات گئے تیل لینے ڈنڈا پریڈ 2040ء تک جاری رہے گی۔ معروف کالم نگار حفیظ اللہ نیازی نے اس کی تصدیق کی کہ 2021ء میں عمران خان کے خلاف اسٹیبلشمنٹ نے جو فیصلہ کیا تھا وہ 2040ء تک نافذ العمل رہے گا، اگر چہ مینا خان جیسے نئے نئے لیڈروں کو ضد ہے کہ 8 فروری آخری احتجاج نہیں ہوگا۔ تاہم سمجھدار بازی گروں کی نظریں حالات کی نزاکت کو بھانپ گئی ہیں۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں مستعار اپوزیشن لیڈر نے اپنے کوآرڈینیٹر اور ترجمان مقرر کردئیے ہیں تاکہ ناکامی کی ساری بدنامی ان کی جھولی میں نہ گرے محمود اچکزئی نے حسین یوسفزئی کو اپنا ترجمان مقرر کردیا ہے۔ ایک عزیز نے لاہور سے فون پر خاتون اور اس کی دس ماہ کی بچی کے گٹر میں گر کر جاں بحق ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز کے سخت اور فوری ایکشن کی تعریف کی اور پُر جوش انداز میں کہا بھائی صاحب لیڈر ایسے ہوتے ہیں محترمہ نے انتظامیہ کے تین با اثر اور اعلیٰ حکام کو بر طرف کر کے آئندہ ایسے حادثات کے منہ پر ڈھکن لگا دئیے ہیں۔ 

مزیدخبریں