پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس: اقلیتی حقوق بل پر شدید اختلافات، اپوزیشن کی نعرے بازی

12:25 PM, 2 Dec, 2025

اسلام آباد: صدر مملکت کی طرف سے نو ماہ بعد بلائے گئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی کارروائی گھنٹے بھر کی تاخیر سے شروع ہوئی، جہاں اپوزیشن نے بلز پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے نعرے بازی کی۔

اجلاس کی صدارت سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کر رہے تھے، جب وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے "قومی کمیشن برائے حقوق اقلیتاں بل 2025" پیش کیا۔ اس بل کے ذریعے اقلیتی برادری کے حقوق کو مزید تحفظ دینے کی کوشش کی گئی، لیکن اس پر اپوزیشن نے شدید تحفظات ظاہر کیے۔

مولانا فضل الرحمان اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے کہا کہ یہ بل قادیانیوں کو فائدہ پہنچا سکتا ہے، جس پر وفاقی وزیر نے کہا کہ اس بل کا مقصد صرف اقلیتی برادری کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے، نہ کہ کسی مخصوص گروہ کو فائدہ دینا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ بل 12 سال سے زیر التوا تھا اور اب اس کا وقت آ چکا ہے۔

اپوزیشن کی جانب سے اس بل کی عجلت میں منظوری پر بھی سوالات اٹھائے گئے، اور پیپلز پارٹی کے عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ "یہ کوئی طریقہ نہیں کہ اچانک بل پیش کر دیا جائے اور اس پر مناسب بحث نہ کی جائے۔" ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اقلیتی برادریاں بھی اتنی ہی محب وطن ہیں جتنے مسلمان۔

اجلاس کے ایجنڈے میں دیگر اہم بلز کی منظوری بھی متوقع تھی، جن میں "پاکستان انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ، سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی بل 2023" اور "نیشنل یونیورسٹی برائے سیکیورٹی سائنسز اسلام آباد بل 2023" شامل تھے۔ اجلاس میں صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے بل بھی پیش کیا جا سکتا ہے۔

پارلیمنٹ کے اس اجلاس میں اقلیتی حقوق، جمہوریت اور قانون سازی کے حوالے سے جاری بحث نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ پاکستان میں حساس موضوعات پر اختلافات برقرار ہیں، اور اس پر مزید بات چیت کی ضرورت ہے۔

مزیدخبریں