اسرائیل نے جنگ بندی کے باوجود غزہ پر قبضہ یا فوجی کارروائیوں پر غور شروع کردیا

03:16 PM, 2 Dec, 2025

غزہ : اسرائیل نے حالیہ جنگ بندی معاہدے کے باوجود غزہ میں اپنی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے یا مکمل طور پر غزہ پر قبضہ کرنے کے مختلف آپشنز پر غور کرنا شروع کر دیا ہے۔ اسرائیلی فوجی حکام کے مطابق، امریکی حکمت عملی ابھی تک فلسطینی عسکریت پسندوں کو غیر مسلح کرنے کے لئے مؤثر نہیں ہوئی، اور وہ ان کی طاقت کو دوبارہ بحال ہونے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیل نے غزہ میں بین الاقوامی افواج کی تعیناتی اور سویلین حکومت کے قیام کے بارے میں امریکی منصوبے کے دوسرے مرحلے میں تاخیر کی ہے۔ اسرائیل اب بھی فلسطینی جنگجوؤں سے یہ توقع کرتا ہے کہ وہ ہتھیار ڈال کر غزہ سے نکل جائیں، حالانکہ اس سے قبل ایک امریکی تجویز، جس میں جنگجوؤں کو رفح کے راستے اسرائیلی کنٹرول سے باہر بھیجنے کی بات کی گئی تھی، ناکام ہو چکی ہے۔

جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیلی افواج نے غزہ کے تقریباً 55 فیصد حصے پر قبضہ کر لیا ہے، لیکن وہ ابھی تک اپنے فوجی آپریشنز جاری رکھے ہوئے ہیں اور یلو لائن سے پیچھے نہیں ہٹیں۔ اسرائیل اس بات پر بھی مصر اور قطر کی ثالثی کے باوجود زور دے رہا ہے کہ جنگجوؤں کو غیر مسلح کرنے کا عمل فوری طور پر مکمل کیا جائے۔

غزہ میں جاری کشیدگی کے دوران، بین الاقوامی برادری امن کے قیام کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے، لیکن اسرائیل کے موقف میں لچک نہ آنے کی وجہ سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ اس دوران فلسطینی عوام اور عالمی طاقتیں اس بات پر غور کر رہی ہیں کہ آخرکار اس بحران کا حل کیا ہو گا۔

مزیدخبریں