ایشیا میں قدرتی آفات کی تباہی، 1100 افراد ہلاک ہو گئے

01:45 PM, 2 Dec, 2025

بنکاک : ایشیا کے مختلف ممالک میں سمندری طوفانوں، بارشوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے تباہی مچائی ہے، جس کے نتیجے میں 1100 سے زائد افراد کی جانیں جا چکی ہیں اور لاکھوں افراد متاثر ہو گئے ہیں۔ ایک ہفتے کے دوران یہ قدرتی آفات اتنی شدت اختیار کر گئی ہیں کہ ہزاروں لوگ بے گھر ہوگئے ہیں اور انسانی جانوں کا بڑا نقصان ہوا ہے۔

انڈونیشیا میں 604، سری لنکا میں 366، تھائی لینڈ میں 176 اور ملائیشیا میں 3 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ سری لنکا میں تباہی اتنی زیادہ ہے کہ حکومت نے ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ سری لنکا کے صدر انورا کمارا نے کہا کہ حالیہ طوفان اور سیلاب کی تباہی 2004 کے سونامی سے بھی زیادہ سنگین ہے۔

عالمی فلاحی تنظیم سیو دی چلڈرن کے مطابق، انڈونیشیا اور تھائی لینڈ میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ہزاروں بچے اسکول نہیں جا پا رہے۔ تھائی لینڈ کے جنوبی حصے میں تقریباً 76 ہزار بچے تعلیمی سرگرمیوں سے محروم ہیں کیونکہ وہاں کے اسکول یا تو بند ہیں یا متاثرہ علاقوں میں رسائی ممکن نہیں ہے۔

انڈونیشیا میں بھی صورتحال سنگین ہے جہاں ایک ہزار اسکول سیلاب کی وجہ سے بند یا تباہ ہو چکے ہیں۔ ان اسکولوں کو عارضی پناہ گاہوں کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے تدریسی سرگرمیاں معطل ہو چکی ہیں۔ سیو دی چلڈرن نے کہا کہ متاثرہ بچوں کو فوری طور پر تعلیمی اور نفسیاتی مدد کی ضرورت ہے، اور بارشوں کے جاری رہنے کی وجہ سے مزید تباہی کا خدشہ ہے۔

دوسری جانب، بھارتی ریاست تامل ناڈو میں سمندری طوفان دتوا کے باعث شدید بارشیں ہو رہی ہیں، جس کے نتیجے میں چنائی میں فلائٹ آپریشن معطل کر دیے گئے ہیں۔

مزیدخبریں