جنت کے خریدار، جہنم کے مکین

09:14 AM, 2 Dec, 2025

میں پاکستان کے جس علاقے میں رہتا ہوں وہاں بازار میں جگہ جگہ چھوٹے چھوٹے بکسے لگے ہیں، دْکانوں پر پلاسٹک کے بکسے رکھے ہیں جن پر اِس قسم کی عبارات لکھی ہیں۔ ’’صدقہ مال کو بڑھاتا ہے۔‘‘ ’’صدقے سے مال کم نہیں ہوتا۔‘‘ ’’ایک روپیہ دینے سے دْنیا کے د س اَور آخرت کے ستر۔‘‘ ’’چندہ برائے مسجد۔‘‘ اِن بکسوں کو تالے لگے ہوئے ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ اِنہیں کس نے لگایا ہے۔ لوگ اِن میں روپے ڈالتے ہیں۔ پھر کوئی اِن کو خالی کرتا ہے۔ یہ پیسہ کہاں خرچ ہورہا ہے؟ کسی کے علم میں نہیں ہے۔دینے والے اَپنی طرف سے اَپنا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرکے جنت خرید رہے ہیں لیکن یہ مال کس مقصد کے لیے اِستعمال ہورہا ہے، کوئی نہیں جانتا۔
مال کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کے حوالے سے بھی ہمارے عجیب و غریب نظریات ہیں۔ یہاں لوگوں کے پاس بے تحاشہ پیسہ ہے اَور وہ اِس مال کو خرچ بھی کرنا چاہتے ہیں۔ اْن کی خواہش یہ ہے کہ اِس مال سے کسی طرح جنت خرید لی جائے۔ جنت کی خریداری کے شوق میں لوگوں نے اَیسی جگہوں پر بھی پیسہ خرچ کیا ہے جہاں سے صرف جہنم میں ہی پلاٹ مل سکتا ہے۔ لوگوں نے دہشت گرد تنظیموں کو بے بہا مال دِیا۔ شدت پسند تنظیموں کو بھی اربوں روپے دیئے۔ لوگوں نے پیروں فقیروں کو سونے اَور چاندی میں تولا۔ میں نے خود کراچی میں ایک آستانے پر گدی نشینوں کو اَپنے مریدوں سے مال لیتے دیکھا ہے۔ مرید قطار بنا کر کھڑے تھے۔ گدی نشین صاحب ایک آرام دہ گدی پر بیٹھے تھے۔ لوگ آتے، پیر صاحب کے پائوں کو ہاتھ لگاتے، اْن کے ہاتھ چومتے اَور کچھ نذرانہ اْن کے حوالے کرتے جو وہ اَپنی گدی کے نیچے رکھ لیتے۔ یہ ساری کارروائی ایک ڈرون کے ذریعے فلمائی جارہی تھی۔مریدوں نے تو اَپنی طرف سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں روپیہ دے کر جنت حاصل کرلی تھی۔ لیکن اْس مال سے صرف گدی نشین صاحب کی چاندی ہورہی تھی۔
اگر کسی سے پوچھا جائے کہ تمہارے پاس پیسے ہیں تو تم اِس سے کون سا فلاحی کام کرنا چاہو گے تو ہمارے زیادہ تر لوگ اْس مال سے یا تو دیگیں پکوا کر لوگوں میں بانٹنا چاہتے ہیں یا اْس سے مسجد یا مدرسہ بنوانا پسند کرتے ہیں۔ کوئی شخص یہ نہیں سوچتا کہ جتنے روپے سے میں تین دیگیں پکوائوں گا اْتنے روپوں سے کسی شخص کو ویلڈنگ کا سامان خرید کر دے دوں اَور اْسے ویلڈنگ کی تربیت دلوا دوں کہ وہ کچھ کما کر خود بھی کھائے اَور اَپنے گھر والوں کو بھی کھلائے۔ اِسی طرح ہم مسجد یامدرسہ بنوانا پسند کرتے ہیں، کوئی جدید علوم کا تعلیمی اِدارہ بنوانا نہیں چاہتے۔ ہم کوئی لائبریری قائم کرنا نہیں چاہتے۔ ہم کوئی اَیسی جگہ بنوانا نہیں چاہتے جہاں جدید سائنسی تحقیق کرنا ممکن ہو۔ چکن بریانی کی ایک دیگ جتنے میں بنتی ہے اْتنے میں کسی کو پھل کا ٹھیلا دِیا جاسکتا ہے۔ ہم یہ نہیں سوچتے کہ اْس ٹھیلے کے ذریعے بھی ہم دراصل بھوکوں کو کھاناہی کھلا رہے ہیں۔ ٹھیلے والا پھل بیچے گا، اْس کے منافع سے خود کھائے گا، اَپنے گھر والوں کو بھی کھلائے گا، اْس کے بچے تعلیم بھی حاصل کرلیں گے۔ ہماری سوچ  اَور نظریات و خیالات اِس قدر غلط سمت میں جاچکے ہیں کہ ہم اَب اَپنے ملک میں صرف گداگر پیدا کررہے ہیں۔ پاکستان کی ایک حکومت نے ماضی میں شہروں میں مسافر خانے قائم کردیئے کہ وہاں لوگ مفت میں رہیں اَور مفت میں کھانا کھائیں۔ لوگوں نے بہت واہ واہ کی۔ اْن کے نزدیک یہ بہت زیادہ ثواب کا کام تھا۔ حالانکہ یہ کام ملک میں صرف مفت خورے پیدا کرتا تھا۔ جتنی رقم سے وہ مسافر خانے قائم ہوئے، کئی لوگوں کو روزگار دیا جاسکتا تھا۔ 
جو لوگ سمجھدار ہیں اْنہوں نے اَپنے مال سے اعلیٰ تعلیمی اِدارے قائم کیے، تحقیق کے مراکز بنائے، کوئی فیکٹری لگائی کہ اْس سے لوگوں کو روزگار ملے اَور ملکی پیداوار میں اِضافہ ہو۔ جو چیزیں ہم باہر سے درآمد کرتے ہیں، وہ اَپنے ملک میں ہی بنائیں تاکہ قیمتی زر مبادلہ بچایا جاسکے اَور درآمداد میں کمی لائی جاسکے، برآمداد میں اِضافہ ہوسکے۔ آپ کو پاکستان کے ہر بڑے شہر میں اِس قسم کے اِدارے نظر آجائیں گے۔ لیکن اِس کے مقابلے میں آپ کو ہر شہر کے ہر چوک میں بے شمار گداگر بھی نظر آئیں گے۔ وہ وہاں اِس لیے ہیں کیونکہ اْنہیں معلوم ہے کہ لوگ اْنہیں پیسہ دیں گے۔ یہ جو جگہ جگہ پر بکسے لگے ہوئے ہیں کیا یہ پولیس کو نظر نہیں آتے؟ کیا پولیس اِس بات سے ناآشنا ہے کہ کس جماعت کو کہاں کہاں سے کتنا کتنا چندہ مل رہا ہے؟ کوئی یہ بات میڈیا پر کیوں نہیں کرتا کہ جن لوگوں کو دِین کی خدمت کرنے کا شوق ہے تو وہ یہ کام اَپنی جیب سے کریں۔ لوگوں کے چندے سے اَپنی جیبیں نہ بھریں۔ حال ہی میں جب ایک مذہبی جماعت پر کریک ڈائون ہوا تو پتا چلا کہ اْن کے پاس اربوں روپے تھے۔ جماعت کے امیر کے پچانوے بینک اکائونٹ سامنے آئے۔ دو کلو گرام کے قریب سونا گھر سے نکلا۔ سونا آج کل چھ لاکھ روپے تولہ ہوچکا ہے۔ ایک کلوگرام میں تقریباً اسی  تولے ہوتے ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو دس کروڑ روپے سے زائد کا تو صرف سونا ہی تھا۔ باقی چیزیں اِس کے علاوہ ہیں۔ یہ سب کچھ لوگوں نے دیا ہی ہوگا اَوریہ سوچ کر دیا ہوگا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں روپیہ دے رہے ہیں اَور یوں جنت خرید رہے ہیں۔ اْسی مال سے ملک میں فتنہ و فساد پھیلایا گیا۔نبی اکرم ؐ نے فرمایا ’’عنقریب اَیسے لوگ آئیں گے جو دین کو دْنیا کمانے کا ذریعہ بنائیں گے۔ وہ لوگوں کے سامنے بکریوں کی کھالیں اوڑھیں گے مگر اْن کے دِل بھیڑیوں کے دِل ہوں گے۔ اللہ فرمائے گا: کیا یہ مجھ سے دھوکا کرتے ہیں یا میری مخالفت کرتے ہیں؟ قسم ہے میری عزت کی میں اِن پر اَیسی آزمائش بھیجوں گا کہ عقل مند لوگ بھی حیران رہ جائیں گے۔‘‘ (مسند احمد)۔ امام ابن تیمیہ نے فرمایا ’’جس عالم کی غرض اللہ کی رضا نہیں بلکہ دْنیا کی عزت و دولت ہے، وہ دراصل دِین کا تاجر ہے۔ اَور جو دِین سے تجارت کرے وہ آخرت میں سخت خسارے میں ہوگا۔‘‘ لوگوں نے اْس جماعت کو بھی مال دیا جنھوں نے ملک میں جگہ جگہ بم دھماکے کیے اَور بے شمار لوگوں کی جانیں لیں۔ یوں جنت کے خریدار دراصل جہنم کے مکین بن گئے۔ وہ یہ سوچتے ہی نہیں کہ اپنا مال کیسے اَیسی جگہ خرچ کریں جس سے نہ صرف ملک کا فائدہ ہو بلکہ لوگوں کی بھی بھلائی ہو۔ اْنہیں یہی بتایا گیا ہے کہ صرف دینی جماعتوں، مذہب کانام لینے والوں، مسجدوں اَور مدرسوں کو مال دینے سے ہی جنت ملتی ہے۔ لوگوں کی تعلیم پر مال خرچ کرنے سے جنت نہیں ملتی۔ کوئی اچھا کھیل کا میدان بنانے سے بھی جنت نہیں ملتی۔ سائنس پر پیسہ خرچ کرنا تو بہت سے لوگوں کے نزدیک جہنم میں جانے کے مترادف ہے۔ یہ وہ غلط نظریات ہیں جو لوگوں نے اَپنے ذاتی فائدوں کیلئے قوم کے ذہنوں میں بٹھائے ہیں۔ اْن لوگوں کو بے بہا فائدہ پہنچا بھی۔ سائیکلوں پر آنے والے لینڈ کروزر میں گھومنے لگے۔ ایک چھوٹے سے گھر میں رہنے والے فارم ہاؤسزکے مالک بن گئے۔ یہ سب کام چندوں سے ہوئے۔ 
اِنسان اَپنا مال اَپنی طرف سے نیک کام میں خرچ کرے اَور بالآخر روزِ حساب اْسے پتا چلا کہ اْس کے مال سے زمین میں فساد پھیلا جس کے پاداش میں اْسے جہنم کی سیرکرنی پڑے گی تو اْس شخص کی حالت پر غور کرنا ضروری ہے۔ ہمارے صحیح والے علماء کو بھی یہ بات لوگوں کو بتانی ہوگی کہ وہ اَپنا فالتو پیسہ کن کاموں خرچ کریں جس سے لوگوں اَور ملک کا فائدہ ہو۔ محض دیگیں پکوانے، بکسوں میں پیسے ڈالنے، پیروں فقیروں کو نذرانے دینے، مذہبی جماعتوں کو چندے دینے سے جنت کی خریداری شاید ممکن نہ ہو۔ جس مال سے اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو فائدہ پہنچے وہی اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ تصور ہوتا ہے۔ اِس کی تفصیل اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کئی مقامات پر دے دی ہے۔ مثلاً زکوٰۃ کن مصارف میں خرچ کرنی ہے، اْس کی تفصیل سورۃ التوبہ میں دے دی گئی ہے۔ حکومت کو بھی یہ باتیں عوام کو بتانے کی ضرورت ہے کہ وہ اَپنا پیسہ سمجھداری سے خرچ کریں۔ جو پیسہ خرچ کرنے کے بعد دہشت گردی کے مقدمات بنتے ہوں، اْس کو خرچ کرنے سے پہلے ایک ہزار بار سوچنا ضروری ہے۔ 

مزیدخبریں