بے رحم آگ اور ہانگ کانگ

09:12 AM, 2 Dec, 2025

ہانگ کانگ کے ضلع تائی پو میں واقع وانگ فوک کورٹ رہائشی کمپلیکس میں گزشتہ بدھ کو آگ لگنے کا واقعہ رپورٹ ہوا، جسے فائر سروسز، ریسکیو عملے اور دیگر ضلعی انتظامیہ کی انتھک کوششوں سے جمعہ کے روز بجھایا گیا۔ رہائشی کمپلیکس میں بھڑکنے بڑھکنے والی ہولناک آگ کو گزشتہ 80 سالوں میں سب سے خوفناک قرار دیا جارہا ہے، جس کے نتیجے میں اب تک 175 افراد سے زائد ہلاکتوں اور تقریباً 200افراد کے لاپتہ ہونے کا شعبہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ فائر سروسز کے مطابق 40 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی بدترین آگ کو جمعے کی صبح تک بڑے پیمانے پر بجھا دیا گیا تھا۔ شہر کے سکیورٹی چیف کرس تانگ نے بتایا کہ 89 لاشوں کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی، کچھ افراد اپنے پیاروں سے دوبارہ رابطے میں آ گئے ہیں، جنہیں ابتدائی طور پر لاپتہ قرار دیا گیا تھا، جس کے بعد لاپتہ افراد کی تعداد 200 سے کم کر کے 150 کر دی گئی ہے جبکہ امدادی کارروائیاں کرنے والی ٹیم کو مزید لاشیں نہیں ملیں۔ تفتیش کاروں کے مطابق ممکنہ وجہ عمارت کے گرد لگی تعمیراتی جالیوں کا آگ پکڑنا ہوسکتی ہے۔
تائی پو حکام تحقیقات کر رہے ہیں کہ آگ کیسے لگی، جس میں تزئین و آرائش کے کام کے حصے کے طور پر بانس کے سکی فولڈنگ اور اس کے گرد لپٹی جالیوں کا معائنہ شامل ہے۔ ہانگ کانگ کے انسداد بدعنوانی ادارے نے پراجیکٹ کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور جمعے کو 8 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس پہلے ہی الگ سے 3 افراد کو گرفتار کر چکی ہے جن پر آگ لگنے والی جگہ پر لاپروائی سے فوم پیکیجنگ چھوڑنے کا شبہ ہے۔سکیورٹی چیف تانگ نے کہا کہ آگ ممکنہ طور پر نچلی منزلوں کے باہر حفاظتی جالیوں سے شروع ہوئی اور فوم بورڈز کے جلنے کی وجہ سے تیزی سے اوپر کی طرف پھیلی، جس نے متعدد منزلوں کو متاثر کیا اور پھر 6 اضافی عمارتوں تک پھیل گئی۔ ضلع تائی پو میں امدادی کارروائیاں گزشتہ روز مکمل ہوئیں، تاہم حکام نے ہفتے کے روز پورے ملک میں بلند و بالا عمارتوں، خصوصاً رہائشی بلاکس کی تعمیرات کے دوران آگ لگنے کے سبب کی ہنگامی جانچ پڑتال کا حکم جاری کیا ہے۔ فائر سروسز کے سربراہ اینڈی یونگ نے کہا کہ تفتیش کاروں کو پتہ چلا ہے کہ تمام 8 بلاکس میں الارم سسٹم خراب تھے، رہائشیوں نے بتایا کہ انہیں پڑوسیوں کو خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے گھر گھر جا کر دروازے کھٹکھٹانے پڑے جہاں ساڑھے 4 ہزار سے زائد افراد رہائش پذیر ہیں۔
ہانگ کانگ کی ہوم سیکرٹری ایلس میک نے کہا کہ امدادی کارروائیاں مکمل ہونے میں 3 سے 4 ہفتے لگ سکتے ہیں، پولیس کا کہنا ہے کہ ہفتے کے روز جن 2 بلاکس میں امدادی کام جاری تھا وہاں نسبتا کم نقصان ہوا ہے تاہم لاشوں کی تلاش اب بھی جارہی ہے۔ یہ ہانگ کانگ کی 1948ء کے بعد سب سے ہلاکت خیز آتشزدگی ہے، ہانگ کانگ کے لیبر ڈیپارٹمنٹ نے بتایا کہ وانگ فوک کورٹ کے رہائشیوں کو گزشتہ سال مطلع کیا گیا تھا کہ وہ آگ لگنے کے خطرے سے محفوظ ہیں، حالانکہ رہائشیوں نے عمارت کی تعمیر کے دوران درپیش ممکنہ خطرات پر بارہا شکایتیں کی تھیں۔شہر کے حکام نے بتایا کہ انہوں نے کم از کم 9 شیلٹرز کھولے ہیں اور بے گھر ہونے والے رہائشیوں کے لیے عارضی رہائش اور ہنگامی فنڈز کا انتظام کر رہے ہیں۔ رضاکاروں نے کپڑے، خوراک اور گھریلو سامان کے سپلائی سٹیشن قائم کیے ہیں، ساتھ ہی طبی اور نفسیاتی امداد کے بوتھ بھی لگائے گئے ہیں۔ ہانگ کانگ کی حکومت نے متاثرین کی مدد کے لیے 30 کروڑ ہانگ کانگ ڈالر (3.85 کروڑ امریکی ڈالر) کے فنڈ کا اعلان کیا ہے۔
ہفتے کو ہانگ کانگ کے رہنما جان لی اور دیگر سرکاری ملازمین نے سیاہ لباس زیب تن کیا اور مرکزی حکومتی دفاتر کے باہر 3 منٹ کی خاموشی اختیار کی، جبکہ قومی پرچم سرنگوں رکھا گیا۔ مرنے والوں کے اہل خانہ اور سوگواران متاثرہ عمارت کے اطراف میں جمع ہوئے اور پھولوں کے گلدستے رکھے، کئی رضاکار جمعے کے روز شہر بھر میں پمفلٹ تقسیم کرتے نظر آئے جن میں حکومتی سطح پر جوابدہی، ممکنہ بدعنوانی کی آزادانہ تحقیقات، رہائشیوں کے لیے مناسب متبادل رہائش اور تعمیراتی نگرانی کے نظام کے جائزے کا مطالبہ کیا گیا۔ ایک آن لائن پٹیشن پر ان مطالبات کے لیے ہفتے کی دوپہر تک تقریباً 10 ہزار دستخط جمع ہو چکے تھے۔ اس آتشزدگی کے بعد سوالات کا رخ تعمیراتی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ حکومتی ریگولیٹرز تک جا پہنچا ہے۔ بہرحال ہانگ کانگ میں انسانی جانوں کا ضیاع قابل افسوس امر ہے۔ دنیا بھر میں ہائی رائز بلڈنگ کا رجحان ہے لیکن حفاظتی اقدامات کو ملحوظ خاطر رکھنا اولین ترجیح ہونی چاہئیے۔ انسانی جانوں کی حفاظت کو پس پشت رکھنے والوں کو نشان عبرت بننا چاہئے، چاہے وہ ہانگ کانک ہو یا پھر پاکستان۔

مزیدخبریں