مجھے یاد ہے کہ میں امریکہ میں فیکلٹی کا طالب علم تھا۔ میرے ایک دوست عامر راحیل کا ایک امریکی دوست تھا جس کے ساتھ ہم مین ہٹن کے ایک ہوٹل میں گئے وہاں دنیا کی چھٹے نمبر پر بڑی کمپنی کی میٹنگ تھی، ایم وے نام تھا۔ میں نے اپنے دوست کے کان میں کہا کہ جیب میں ریلوے ٹکٹ کے علاوہ کچھ نہیں اور کاروبار کرنے آ گئے ہو دنیا کی چھٹے نمبر کی کمپنی کے ساتھ۔ اس نے قہقہہ لگایا تو جو مین سپیکر تھی وہ بات کرتے کرتے رک گئی۔ میرے دوست نے بات سنائی تو پورے ہال میں تین چار سو لڑکے لڑکیاں تھے سب بہت محظوظ ہوئے مگر انہوں نے مجھ سے زیادہ پذیرائی کے ساتھ بات کی۔ پھر اگلے روز اس کمپنی کے 20/25 کلیدی لوگوں کی ملاقات تھی، مجھے اظہار خیال کیلئے کہا گیا۔ ملک میں ضیا کا دور تھا۔ میں نے کہا کہ بہت متاثر ہوا ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ آپ لوگ، آپ کا ملک کاروبار اور پالیسیوں میں آزاد ہیں۔ ہم اور تیسری دنیا کے ملک آزاد نہیں ہیں، ان شاء اللہ میں اپنے ملک واپس جاؤں گا اور دیکھوں گا ایک دن میرا ملک بھی اپنی پالیسیاں بنانے میں آزاد ہو گا۔ میرا اظہار خیال ختم ہونے پر 10 منٹ تک کلیپنگ ہوئی تو میرے دوست نے میرے کان میں کہا کہ تمہیں اتنا بھٹو بننے کی کیا ضرورت ہے۔ مگر آج تیسری دہائی گزر گئی ہمارا ملک آزاد نہ ہو سکا، ہمیں آئی ایم ایف سے ورلڈ بینک اور دیگر لوگوں کی نگرانی سے آزادی نہ ملی۔ ورنہ قبلہ محمد صادق (سابقہ چیف کلکٹر ایکسپورٹ پاکستان، محترمہ طیبہ کیانی، ڈاکٹر رضوان صلابت سینئر افسران، ثاقب الرحمن (ایڈیشنل کلکٹر)، محمد سعید وٹو ڈائریکٹر انفورسمنٹ کسٹم لاہور ، محترمہ صائمہ ایاز کلکٹر ایئرپورٹس لاہور کے نام شامل کرنے ہیں پھر موجودہ کلکٹر لاہور جناب عمر شفیق، چیف کلکٹر جناب ڈاکٹر نوید الٰہی اور چیئرمین ایف بی آر لنگڑیال صاحب کو اگر پالیسی سازی میں فری ہینڈ مل جائے تو شارٹ فال ہو نہ ہی کرپشن کا نام نشان رہے۔ملک معاشی طور پر مستحکم اسی صورت ہو سکتا ہے جب معاشی پالیسیاں اس کے اندر اور آزادانہ بنائی جائیں، دوسری صورت ہمیں اسی طرح کے شارٹ فال کا سامنا ہی رہے گا۔
اصل کمزوری نظام میں ہے، معاشی حالات میں نہیں، ایف بی آر کی کارکردگی ہر حکومت کے لیے امتحان رہی ہے، مگر پچھلے چند برس میں محصولات کے اہداف پورے کرنا تو درکنار قریب قریب ہونا بھی معرکہ رہا۔ شارٹ فال محض ایک عدد نہیں ہوتا، یہ بتاتا ہے کہ ریاست کی معاشی شہ رگ کسی نہ کسی مقام پر دباؤ کا شکار ہے۔ اگرچہ معاشی سست روی، درآمدات میں کمی اور ریفنڈز کے بڑھنے جیسے عوامل اس کمی کا حصہ ہیں، مگر اصل مسئلہ نظام کی اندرونی خرابیاں، کرپشن، انتظامی کمزوریاں اور غیر موزوں افسران کی تعیناتی ہے۔ سمگل شدہ سامان کی ملک بھر میں کھلے عام فروخت، جعلی انوائسز، ٹیکس ایویژن، کسٹمز کلیئرنس میں رشوت، ریفنڈز کی فائلوں کو روک کر معمول کا کمیشن لینا یہ سب وہ عوامل ہیں جو براہِ راست محصولات کے نقصان میں تبدیل ہوتے ہیں۔ مختصراً، ایف بی آر کا شارٹ فال معاشی حالات کی وجہ سے کم اور نظام کی خراب ترتیب کی وجہ سے زیادہ ہے۔ جب تک کرپشن کے خاتمے، پیشہ ورانہ تعیناتیوں، مافیاز کے اثرِ نفوذ سے نجات اور ڈیجیٹل اصلاحات کو ترجیح نہیں دی جائے گی، محصولات کے اہداف محض کاغذوں تک محدود رہیں گے۔ ریاست مالیاتی استحکام چاہتی ہے تو اسے سب سے پہلے اس دروازے کو صاف کرنا ہو گا جس سے اس کی آمدنی اندر داخل ہوتی ہے۔ اب حالت یہ ہے کہ سپیڈ منی سے بات سیدھی سمگلنگ پر آ گئی ہے۔ سہولت کاروں کے دفاتر میں جو لڑکے کام کرتے تھے، ایک فاتر العقل آفیسر اور 2018 میں قائم ہونے والی حکومت کے بعد وہ غدر مچایا کہ وہ لڑکے اب ڈالروں میں ارب پتی ہو گئے۔ پیسے، رشوت، سہولت کاری کی بدولت وہ کسٹم افسران کی تعیناتیاں کرانے لگے۔ قلم فروشی (اختیارات) اور جسم فروشی میں فرق نہ رہا۔ گلشن کی بجائے کرپشن کا کاروبار عام ہوا۔ اس میں فراڈیے بھی پیچھے نہ رہے جو حساس اداروں کے افسران کے نام استعمال کرنے لگے۔ ایک دوسرے کے گھر کی خواتین کی کردار کشی کرنے والے اکٹھے ہو گئے۔ مگر چیئرمین ایف بی آر نے جو حالیہ تبادلے کیے، لاہور اپریزمنٹ میں دو اعلیٰ افسران چیف کلکٹر پنجاب اپریزمنٹ ڈاکٹر جناب نوید الٰہی اور کلکٹر اپریزمنٹ لاہور جناب عمر شفیق کی تعیناتی سے سمگلروں اور ان کے سہولت کاروں میں سراسیمگی پھیل گئی۔ سمگلروں کی دی ہوئی لائنیں ٹوٹ گئیں، میں انگلیوں پر نام گنوا سکتا ہوں، انتہائی زیرک اور دیانتدار افسران جو کھڈے لائن لگے ہوئے ہیں۔ مگر ان کا نام اس لیے نہیں لکھ رہا کہ ان پر مزید آزمائش نہ آ جائے حالانکہ ماضی میں لاہور کلکٹریٹ میں ایسے بے رحم راشی کلکٹر دیکھے گئے جو کرپٹ سہولت کاروں کا باقاعدہ سیشن بلاتے، کرپٹ افسران اور سہولت کاروں کو سٹیشن بانٹے جاتے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ تین بار سے زائد تعینات ہوئے ان کے پیچھے سیاسی قوتیں تھیں، اداروں کے افسران بھی ہوں گے۔ نو دولتیے تو سنے تھے اب یہ سمگلر بضد ہیں کہ ان کو نو اوقاتیے بھی کہا جائے۔ سول محکموں کی تو خیر ہے ایف آئی اے، نیب وغیرہ کے افسر کا نام استعمال کریں یا سیاست دان تو عام بات ہے مگر اہم اداروں کے لوگوں کے نام اور وہ استعمال کریں جن کو اپنے دادے کا نام یاد نہیں، جن کا شجرہ اُنہی سے شروع ہوتا ہے، صرف رشوت بدعنوانی کی بدولت۔ مگر یہ ادارے کے افسران کے بغیر ممکن نہیں کہ کوئی بدعنوانی ہو سکے۔
چیئرمین ایف بی آر نے ببانگ دہل کہا کہ ایک بھی تعیناتی سفارش پر نہیں کی مگر۔۔۔۔ البتہ لاہور میں حالیہ اعلیٰ افسران کی تعیناتیاں جن کا ذکر کیا گیا، اب لاہور میں کوئی یہ نہیں کہہ سکے گا کہ چیف کلکٹر نے جو بات کی وہ سب میرے پاس ہے اور کلکٹر کسٹم تو گھڑے کی مچھلی ہے۔ اب ایسے افسران آ گئے ہیں کہ کرپٹ مافیاز سمگلروں کے سہولت کار نو دولتیے، نو اوقاتیے اپنی ولدیت بھول جائیں گے۔چیئرمین ایف بی آر نے بروقت لاہور میں دو اعلیٰ متذکرہ افسران کو تعینات کر کے قومی خزانے کو اربوں روپے کے نقصان سے بچا لیا۔
دراصل ہمارا نظام خصوصاً کرپشن کا نظام بدعنوان مافیاز کی وہ ڈور ہے جس کا دوسرا سرا ڈھونڈتے ڈھونڈتے پوری ڈور کھولنا پڑے گی۔ جس دن ڈور کھل گئی شارٹ فال نہیں ہو گا۔ بقول گلزار بھائی (گلزار احمد بٹ صاحب) پہلے جسم مر جاتے تھے اور روحیں بھٹکتی تھیں، اب روحیں مر چکی ہیں اور جسم بھٹک رہے ہیں۔
لاہور کسٹمز تعیناتیاں! سمگلروں میں سراسیمگی
09:12 AM, 2 Dec, 2025