جون ایلیا نے فرمایا تھا:
میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں
جون صاحب کے اس شعر کے پہلے مصرع کو اگر یوں کر لیا جائے "ہم بھی بہت عجیب ہیں، اتنے عجیب ہیں کہ بس" تو یہ پورا شعر ہماری قوم کی اجتماعی نفسیات پر منطبق ہوتا ہے۔ ہم بلاشبہ بہت عجیب قوم ہیں بلکہ بعض صورتوں میں تو عجیب و غریب کے درجے تک بھی چلے جاتے ہیں۔ کوئی کام غلط ہو رہا ہو تو اس پر بھی معترض اور اگر اس کی درستی ہونے لگے تو اس پر بھی سو سو طرح کے اعتراضات۔ ایسا شاید دنیا میں کہیں بھی نہیں ہوتا۔ اسی لیے دنیا کے دیگر ممالک اور قومیں ہم سے زیادہ منظم ہیں۔
اب یہی دیکھ لیں کہ کچھ عرصہ پہلے تک ہر شخص ٹریفک کی بے ترتیبی کا شاکی نظر آتا تھا۔ کسی کو سڑکوں پر گاڑیوں کی بدنظمی کی شکایت تھی تو کوئی غلط جانب سے آنے والی ٹریفک کو کوستا دکھائی دیتا تھا۔ کسی کو اشاروں کی خلاف ورزی کرنے والوں سے شکوہ تھا تو کسی کو ہیلمٹ نہ پہننے والوں پر غصہ۔ کوئی غلط پارکنگ سے نالاں تھا تو کوئی آئے روز ہونے والے حادثات سے پریشان۔ لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں اس قسم کی شکایات زیادہ تھیں کہ بڑے شہر ہونے کے سبب وہاں دن کے بیشتر اوقات میں کہیں نہ کہیں ٹریفک پھنسی ہی رہتی ہے۔
پنجاب اور سندھ کی حکومتوں نے اس صورت حال کے پیش نظر ٹریفک قوانین میں کچھ اہم تبدیلیاں کرنے اور انھیں سختی سے نافذ کرنے کا عمل شروع کیا۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں کرنے والوں کو بھاری جرمانے عائد کیے جانے لگے جب کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں پنجاب حکومت نے تو اور بھی زیادہ سخت اقدامات کرنے کا عندیہ دے دیا۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے چالان ہونا شروع ہوئے تو ہر طرف عجیب ہاہاکار مچ گئی حتی کہ سوشل میڈیا پر احتجاجی تبصروں کا ایک طوفان آ گیا۔
پنجاب میں ٹریفک منیجمنٹ سے متعلق 60 سال پرانے ٹریفک ایکٹ میں اہم اصلاحات کی گئی ہیں جس کے تحت ٹریفک کی خلاف ورزیوں کے مرتکب افراد کو بھاری جرمانے کیے جا رہے ہیں اور سزائیں دی جا رہی ہیں۔ ان اصلاحات میں سب سے اہم یہ ہے کہ پنجاب میں اگر کسی بھی گاڑی کا باربار چالان ہو تو اس گاڑی کو نیلام کر دیا جائے گا۔ اس ترمیم پر یار لوگ اعتراض کر رہے ہیں کہ کیا دنیا میں کہیں اور ایسا ہوتا ہے کہ گاڑی کا بار بار چالان ہونے پر اسے نیلام کر دیا جائے۔ بھلا گاڑی کا کیا قصور، مجرم تو ڈرائیور ہے۔ اس کا سادہ سا جواب ہے کہ کیا کہیں اور بھی گاڑیاں ہمارے یہاں جتنی خلاف ورزیاں کرتی ہیں۔ ایک گاڑی آخر بار بار خلاف ورزی کرتی ہی کیوں ہے۔ ظاہر ہے کہ غلطی گاڑی نہیں کرتی بلکہ اس کے اندر بیٹھا ہوا ڈرائیور کرتا ہے اور وہ ڈرائیور عام طور پر اس کا مالک ہوتا ہے جس کی نظر میں قانون کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی، اسی لیے وہ بار بار اس کی خلاف ورزی کا ارتکاب کرتا ہے یعنی قانون کی خلاف ورزی اس کی عادت ثانیہ بن چکی ہوتی ہے۔ ایسے شخص کا یہی علاج ہے کہ اس سے گاڑی لے لی جائے۔ گاڑی کا نیلام کرنا شاید اسی علاج ہی کی ایک شکل ہے۔
اصلاحات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بغیر لائسنس گاڑی والوں کو بھاری جرمانوں پر مشتمل چالان کیے جائیں۔ اس پر بھی کچھ مہربانوں کا ردعمل یہ ہے کہ جرمانے کرنے کی بجائے ایسے لوگوں کو فوری لائسنس جاری کیا جائے۔ یہ بھی عجیب منطق ہے۔ گویا اگر کوئی شخص لائسنس کے معیار پر پورا نہیں اترتا تو اسے بھی جرمانہ کرنے کی بجائے لائسنس جاری کیا جائے یعنی اسے قانون کی خلاف ورزی پر کوئی سزا نہیں ہونی چاہیے حالانکہ قانون کے حوالے سے بنیادی سبق یہی ہے کہ قانون سے لاعلمی کوئی بہانہ نہیں۔
اصلاحات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی سرکاری گاڑیوں کو بھی بھاری جرمانہ کیا جائے گا۔ یہ بہت اہم اقدام ہے، اب سے پہلے اول تو سرکاری گاڑی کسی نہ کسی بہانے چالان سے بچ جایا کرتی تھیں یا پھر ان کا چالان ہوتا بھی تھا تو انھیں بہت کم جرمانہ ادا کرنا ہوتا ہے۔ اب اگر سرکاری گاڑیوں کو بھی جرمانے ہونے لگے تو ٹریفک کی بدنظمی پر بہت حد تک قابو پایا جا سکے گا۔
اس کے علاوہ پنجاب میں ون وے کی خلاف ورزی ختم کرنے کے لیے30 دن کی مہلت دی گئی ہے۔ پنجاب حکومت اگر ون وے کی خلاف ورزی پر قابو پانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہو گی۔ ون وے کی خلاف ورزی سڑکوں پر حادثات کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ صوبائی دارالحکومت لاہور میں تو یہ خلاف ورزی اس قدر عام ہے کہ اسے ایک معمول تصور کیا جاتا ہے۔ کیونکہ اکثر سڑکوں پر یو ٹرن بہت طویل فاصلوں پر بنے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے لوگ وقت اور پٹرول بچانے کے لیے شارٹ کٹ کے طور پر ٹریفک کی مخالف سمت چلنے کو ترجیح دیتے ہیں اور اکثر اوقات مخالف سمت سے آنے والے اس قدر تیزرفتاری سے آ رہے ہوتے ہیں کہ اتنی تیزرفتاری سے سیدھی جانب سے آنے والی ٹریفک نہیں چل رہی ہوتی اور بعض اوقات تو ون وے کی خلاف ورزی کرنے والوں کی تیز رفتاری کے باعث ان سے بچنا مشکل ہو جاتا ہے چنانچہ ون وے کی خلاف ورزی کا خاتمہ ازبس ضروری ہے۔ البتہ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بہت ضروری ہے کہ یو ٹرن مناسب فاصلے پر بنے ہوئے ہوں۔ کئی سڑکوں پر تو ایک سے دوسرے یو ٹرن کے درمیان اتنا زیادہ فاصلہ ہے کہ گھوم کر دوسری جانب کی سڑک پر آنا واقعی عذاب لگتا ہے۔ اسی طرح کم عمر بچوں کی ڈرائیونگ پر پابندی بھی بہت ضروری ہے کیونکہ کم عمر بچے اور نوآموز ڈرائیور جس قدر بے احتیاطی سے گاڑی چلاتے ہیں، شاید ہی کوئی اور چلاتا ہو اور حادثات میں ایک بڑی شرح کم عمر ڈرائیوروں کی بھی ہے۔
ایک اہم بات میرج ہال میں مناسب پارک کی ہے۔ یہ بھی بہت اہم چیز ہے۔ نہ صرف میرج ہال بلکہ ہر نجی تعلیمی ادارے، ہسپتال اور مارکیٹ پر بھی اس پابندی کا اطلاق ہونا چاہیے کیونکہ ٹریفک کے بہاؤ اور روانی کو متاثر کرنے والی ایک بڑی وجہ سڑکوں کے کنارے غلط پارکنگ بھی ہے جو اتنی زیادہ جگہ گھیر لیتی ہے کہ ٹریفک کے گزرنے کی جگہ ہی باقی نہیں رہتی۔ ٹریفک کی ان اصلاحات پر اگر ان کی روح کے مطابق عمل ہو جائے تو ٹریفک کے مسائل اور بدنظمی یکسر ختم ہو سکتی ہے، اسی لیے ان پر ہاہاکار مچانے کی بجائے ان کا خیرمقدم کرنا چاہیے۔
ٹریفک اصلاحات اور ہماری ہاہاکار
09:11 AM, 2 Dec, 2025