عرفان صدیقی صاحب … یادیں اورباتیں !

09:11 AM, 2 Dec, 2025

عرفان صاحب مرحوم و مغفور کے پچھلی صدی کے ستر اور اَسی کے عشروں کے تقریباًبارہ، چودہ برسوں کے دوران ریڈیو پاکستان سے بطور ایک لکھاری طویل وابستگی رہی۔ اس عرصے میں عرفان صاحب نے ریڈیو پاکستان راولپنڈی، ریڈیو پاکستان اسلام آباداور ریڈیو پاکستان راولپنڈی III (ریڈیو آزاد کشمیر) کے لئے کتنے ہی فیچرز ، بچوں کے پروگرام کے لئے تمثیلچے ، کتابوں پر تبصرے، مختلف موضوعات پر تقاریر ، پروگرامو ں کی کمپئیرنگ اور کم و بیش پچاس کے لگ بھگ ڈرامے لکھے۔ ڈراموں میں سے بہت سارے قومی نشریاتی رابطے پر نشر ہوئے ۔ ان برسوں میں مجھے کئی بار عرفان صاحب کے ساتھ پشاور روڈ راولپنڈی پر واقع پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن (ریڈیو پاکستان) کے درج بالا اسٹیشنز پر جانے کا اتفاق ہوا۔ بلا شبہ ریڈیو پاکستان کے ان اسٹیشنز کے پروگرام مینجرز، پروڈیوسرز اور ڈیوٹی آفیسرز سمیت آرٹسٹ اور فنکار بھی عرفان صاحب کی بڑی قدر ومنزلت کرتے تھے۔ مجھے ریڈیو کے کچھ پروگرام مینجرز اور پروڈیوسرز وغیرہ کے نام یا دآ رہے ہیں جن کے ساتھ عرفان صاحب کے قریبی تعلقات رہے۔ ان میں جناب محمد صادق، رفیق قریشی، مشکور صدیقی، برکت اللہ، نباہت شیریں اور عبدالحفیظ کے نام میرے ذہن کے نہاں خانے میں اب تک موجود ہیں۔ 
عرفان صدیقی مرحوم و مغفور کے ریڈیو پاکستان سے نشر ہونے والے ڈراموں کی بات چلی ہے تو یہ ذکر کیا جاسکتا ہے کہ پچاس کے لگ بھگ ریڈیو سے نشر ہونے والے ڈراموں میں سے دس ڈرامے ’’بھید بھری آواز‘‘ کے نام سے 1988 ء میں کتابی شکل میں شائع ہوئے۔ ’’بھید بھری آواز ‘‘ کتاب کا ایک نسخہ میرے سامنے موجود ہے ۔ عرفان صاحب نے خوبصورت عربی رسم الخط میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنے کے بعد میرے بارے میں یہ الفاظ لکھ رکھے ہیں،’’برادرِ محترم ساجد ملک صاحب کے لئے، جن کی رفاقتوں کا سفر، میرے سفر ِ قلم کے ساتھ ساتھ جاری ہے‘‘۔ اس کے نیچے عرفان صاحب کے اُردو میں دستخط اور جمعہ ۱۵ اپریل ۱۹۸۸ء کی تاریخ درج ہے۔ ’’بھید بھری آواز‘‘پر معروف دانشور، ڈرامہ نگار اور قلمکار محترم اشفاق احمد مرحوم کا تبصرہ بھی اندرونی ٹائیٹل پر فلیپ کی صورت میں چھپا ہوا ہے، جو کمال کی تحریر ہے۔محترم اشفاق احمد لکھتے ہیں ،’’اس عہد کے تمثیل نگاروں میں عرفان صدیقی کا مقام اس لیے منفرد نظر آتا ہے کہ وہ اپنے ہر کھیل میں دوسرے کرداروں کے ساتھ خود بھی شامل ہے، گو نظر نہیں آتا، اور حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس 
نظر نہ آنے والے کردار پر ہی کھیل کی کامیابی کا دارومدار ہے۔ اپنی تخلیقات کے سلسلے میں عرفان کا رویہ بے طرفی اور بے نظری کا نہیں مشارکت کا ہے۔ چنانچہ اس غیر مرئی موجودگی نے اُس کے ڈراموں کو ایک ساتویں رُخ سے آشنا کر دیا ہے۔ محترم اشفاق احمد آگے چل کر لکھتے ہیں ، ’’عرفان صدیقی کے ڈراموں کی ایک برجستہ خوبی اُن کے جاندار اور صحت مند ڈائیلاگ ہیں۔ ہر مکالمہ پوری توانائی کے ساتھ ہدف پر لپکتا ہے اوراس بات کی شہادت فراہم کرتا ہے کہ مصنف لائن اور لنگتھ پر پوری طرح حاوی ہے۔‘‘
1988 ء سے 2025 ء تک سینتیس برس ایک طویل عرصہ سمجھا جا سکتا ہے۔ اس دوران عرفان مرحوم و مغفور نے کیا کچھ لکھا ، علم و ادب ، شاعری اور صحافت و کالم نگاری کے شعبوں میں کتنا تخلیقی کام کیا اور اس کے ساتھ ملکی سیاست ، قومی زندگی اور اقتدار و اختیار کے ایوانوں سے کس طرح وابستہ رہے اور کتنا مثبت اور جاندار کردار ادا کیاان سب کا تذکرہ اتنا طول طویل ہے کہ اس کو سمیٹنا آسان نہیں۔ تاہم اس کو چھوڑا بھی نہیں جاسکتا کہ یہ تذکرہ جہاں انتہائی چشم کشا ، معلومات افزا اور دلربا ہونے کے ساتھ ایک پوری تاریخ اور ایک پورے عہد کا بیان ہے وہاں اسے عرفان صاحب مرحوم و مغفور کی خوبصورت شخصیت کے کئی گوشے بھی وا ہوتے ہیں۔ عرفان صاحب مرحوم و مغفور کی شعبہ صحافت سے وابستگی اور اخبارات و جرائد میں لکھنے کی بات کریں تو اُن کا یہ سلسلہ پچھلی صدی کے نوے کے عشرے بلکہ اس سے بھی ایک آدھ سال پہلے شروع ہو چکا تھا۔ پہلے وہ معروف صحافی اور مدیر جناب مجیب الرحمن شامی کے ہفت روزہ ’’زندگی‘‘ اور ماہنامہ ’’قومی ڈائجسٹ ‘‘ کے لئے لکھتے رہے تو بعد میں کراچی سے نکلنے والے محمد صلاح الدین مرحوم کے ہفتہ روزہ ’’تکبیر‘‘ جو اُس دور کا سب سے زیادہ چھپنے والا نیوز میگزین سمجھا جاتا تھا سے انہوں نے وابستگی اختیار کر لی ۔ یہ سلسلہ کئی برسوں تک چلتا رہا۔ 1998 ء کے اوائل میں وہ صدرِ مملکت محمد رفیق تارڑ مرحوم کے پریس سیکریٹری یا میڈیا ایڈوائزر مقرر ہوئے تو انہوں نے اخبارات وجرائد میں لکھنا موقوف کر دیا۔ 2001 ء میں صدر رفیق تارڑ مرحوم کی حکومت سے جبری سبکدوشی کے بعد انہوں نے ’’نقشِ خیال ‘‘ کے عنوان سے ’’نوائے وقت ‘‘ میں باقاعدہ کالم نگاری کا آغاز کیا۔ ’’نوائے وقت ‘‘ کے صفحہ دو پر چھ روز چھپنے والے اُن کے اس کالم کو بے پناہ مقبولیت ہی حاصل نہ ہوئی بلکہ اس کی بنا پر’’ نوائے وقت‘‘ کے قارئین کی تعداد میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ ’’نوائے وقت‘‘میں عرفان صاحب کی کالم نگاری کا یہ سلسلہ باوجود اس امر کے کئی برسوں تک چلتا رہا کہ انہیں ’’نوائے وقت‘‘  سے اس کا جو معاوضہ مل رہا تھا وہ ’’نوائے وقت‘‘سے وابستہ کالم نگاروں یا ادارتی عملے کے سینئیر ارکان کے معاوضوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہونے کے باوجود دوسرے بڑے قومی اخبارات بالخصوص ’’روز نامہ جنگ‘‘ سے وابستہ کالم نگاروں کو ملنے والے معاوضوں کے مقابلے میں کافی کم تھا۔اس دوران انہیں ’’روزنامہ جنگ‘‘ کی طرف سے ’’نوائے وقت‘‘ کے مقابلے میں بھاری معاوضے کالم نگاری کی پیشکش ہوئی۔ عرفان صاحب کافی عرصے تک ’’نوائے وقت‘‘نظریاتی وابستگی رکھنے کی بنا پر اُ س سے تعلق ختم کرنے کے لئے تذبذب کا شکار تھے۔ اس دروان کئی مہینے گزر گئے اور جنگ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمن کا جنگ سے اُن کی وابستگی کے لئے تقاضا جاری رہا ۔ مجھے یاد پڑتا ہے عرفان صاحب نے اس ضمن میں مجھ سے بھی مشورہ کیا تھا اور پھر غالباً اگست یا ستمبر 2006 ء میں انہوں نے روز نامہ’’ جنگ‘‘ سے بطورِ کالم نگار وابستگی اختیار کر لی۔ جنگ میں ہفتے کے پانچ دن اُن کا کالم مرکزی حیثیت سے چھپنے لگا اور ’’نوائے وقت‘‘ سے ملنے والے معاوضے کے مقابلے میں انہیں کتنے ہی گنا زیادہ معاوضہ ملنے لگا۔ جنگ سے وابستگی کے دوران غالباً2011 یا 2012 میں روزنامہ ’’دُنیا‘‘ کے ایڈیٹر انچیف میاں عامر محمود نے انہیں روزنامہ ’’دُنیا‘‘ میں کالم لکھنے کے لئے جنگ کے مقابلے میں زیادہ معاوضے (تقریباً ایک ملین روپے یا اس سے کچھ زائد) کی پیشکش کی تاہم عرفان صاحب نے جنگ سے اپنی وابستگی کو ختم کرنے سے معذرت کر لی۔ آخر میں ،میں عرفان صاحب کے ساتھ پچھلے کئی برسوں سے سرکاری طور پر بطورِ ڈرائیور متعین راجہ محمد وسیم جو میرا عرفان صاحب کا دیرینہ دوست قریبی ساتھی ہونے کے ناطے بڑا احترام کرتے ہیں کے ایک ٹیکسٹ میسج جو مجھے ایک دن قبل مجھے ملا ہے کاحوالہ دینا چاہوں گا۔ راجہ محمد وسیم اپنے ٹیکسٹ میسج میں لکھتے ہیں ،’’کل میری بھی واپسی ہو گئی آفس، 9 سال صاحب (عرفان صاحب) کے ساتھ گزرے اور جیسے کے یہ 9 سال میں نے اپنے گھر گزارے ہوں۔ کبھی محسوس ہی نہیں ہوا کہ میں یہاں ڈیوٹی کرتا ہوں۔ میں خو د کو اور صاحب کے اہلِ خانہ مجھے اپنے گھر کا فرد ہی سمجھتے تھے‘‘۔ راجہ محمد وسیم کا یہ مختصر ٹیکسٹ میسج اتنا واضح اور بامعنی ہے کہ میں نہیں سمجھتا کہ اس کی مزید وضاحت کی ضرورت ہے۔     (جاری ہے)

مزیدخبریں