پاکستان کئی دہائیوں سے افغان باشندوں کا بوجھ اٹھا رہا ہے۔ یہ ایک ایسا بوجھ ہے جس نے پاکستان کووقت کے ساتھ ساتھ سکیورٹی مسائل سے بھی دوچار کر دیا ہے۔ افغان باشندے جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں۔ یہ افغان شہری بلاشبہ سکیورٹی رسک بن چکے ہیں۔ حال ہی میں امریکا نے بھی افغان باشندوں کی تصاویر جاری کیں جو جرائم میں ملوث پائے گئے۔ اسی وجہ سے امریکی حکومت بھی ان افغان باشندوں کو بے دخل کرنے پر مجبور ہوئی ، یہی نہیں افغان امیگریشن کا عمل بھی فوری طور پر روک دیا۔ بعینہ یہی حال وطن عزیز میں ہوتا چلا آرہاہے۔ شہر اقتدار سے لے کر شہر قائد تک ان افغان باشندوں نے امن داؤ پر لگا رکھا ہے۔ غیر قانونی طور پر مقیم ان افغان باشندوں نے ملک کو خاطر خواہ نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت پاکستان نے سخت فیصلوں کی ٹھانی اور آخر کار فیصلہ لیا کہ غیر قانونی طورپر مقیم ان افراد کو اپنے اپنے ممالک واپس جانا ہی ہوگا۔ ریاست پاکستان کے لئے سب سے اہم کام اس کے اپنے شہریوں کا تحفظ ہے۔ ملک میں بسنے والے غیر قانونی افغان باشندوں کے انخلا کے لئے وفاق نے صوبوں کے ساتھ مل کر انتہائی ذمہ داری سے بے دخلی کے آپریشنز مکمل کئے ہیں مگر خیبر پختونخواہ کی حکومت نے اس معاملے میں مجرمانہ غفلت برتے ہوئے افغانوں کی بے دخلی کے عمل میں متعدد مواقع پر رکاوٹیں ڈالی ہیں۔ یہی نہیں، یوں معلوم ہو رہا ہے کہ خیبر پختونخواہ حکومت اس حوالے سے مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ آئی ایف آر پی پر عملدرآمد میں ناکامی اور سست روی پر خیبر پختونخواہ حکومت کے عزائم بہت سے شکوک و شبہات کو جنم دے رہے ہیں۔ وفاقی ہدایات پر عمل درآمد صوبوں کی آئینی ذمہ داری ہے، تاہم آئی ایف آر پی پر عمل نہ کرتے ہوئے خیبرپختونخوا حکومت اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہی ہے۔آئی ایف آر پی، غیر قانونی طور پر ملک میں مقیم غیر ملکیوں کی واپسی کا منصوبہ ہے۔ اس پروگرام کو ستمبر 2023 میں اس مقصد کے ساتھ شروع کیا گیا کہ ملک میں موجود تمام غیر قانونی افراد کی مرحلہ وار واپسی کو یقینی بنایا جائے۔ابتدا میں اس منصوبے کے تحت رضاکارانہ واپسی کی مہلت دی گئی، جس کے بعد باقاعدہ ملک بدری کا عمل شروع ہوا اور وقت کے ساتھ اس کا دائرہ کار مزید وسیع کیا گیا۔ایف آئی آر پی کا مقصد کسی مخصوص قومیت کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ یہ ہر خودمختار ملک کی طرح ایک ریاستی قانون ہے، جو شہری حقوق، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور قومی منصوبہ بندی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔وزارتِ داخلہ کے مطابق اپریل 2025 تک گیارہ لاکھ سے زائد غیر قانونی افراد کو واپس بھیجا جا چکا ہے۔17 ستمبر 2023 سے 31 مارچ 2025 تک صرف طورخم بارڈر سے افغانستان واپس بھیجنے والے افغان شہریوں کی تعداد 4 لاکھ 69 ہزار 9 سو انتیس ہے جبکہ یکم اپریل سے اب تک طورخم بارڈر سے 4 لاکھ پچیس ہزار 4 سو چھیانوے افغان شہریوں کو واپس بھیجا جا چکا ہے تاہم طورخم بارڈر سے جانے والے ان افراد میں خیبرپختونخوا میں مقیم افغان شہری نہ ہونے کے برابر ہیں۔ خیبر پختونخوا حکومت نے اپریل 2025 میں صرف 153 غیر قانونی مہاجرین کو واپس بھیجاجو کہ صوبے میں موجود ہزاروں اے سی سی اور پی او آر ہولڈرز کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔وفاقی حکومت کی واضح ہدایات کے باوجود خیبرپختونخوا حکومت آئی ایف آر پی پر بروقت اور مؤثر عمل درآمد کرنے میں ناکام ہے۔مزید یہ کہ 4 اپریل 2025 کو سابق وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے پشاور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران افغان مہاجرین کی واپسی سے متعلق وفاقی پالیسی کی کھلم کھلا مخالفت کی تھی، جو صوبائی سطح پر عدم تعاون کی نشاندہی کرتا ہے۔ واضح رہے کہ خیبرپختونخوا میں موجود غیر قانونی مہاجرین کی اکثریت افغان شہریوں پر مشتمل ہے، جو نہ صرف صوبے کے سکیورٹی ماحول کے لیے تشویشناک ہے بلکہ اس کے اقتصادی اور سماجی ڈھانچے پر بھی گہرا اثر ڈال رہی ہے۔گزشتہ برسوں میں ملک کو متعدد دہشت گرد حملوں کا سامنا کرنا پڑا جن میں افغان عناصر کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد نہ صرف ملکی اداروں نے بلکہ اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی تنظیموں نے بھی تسلیم کیے۔محتاط اندازوں کے مطابق تقریباً ڈھائی لاکھ افغان شہریوں کے پاس پاکستان کے جعلی شناختی کارڈ موجود ہیں، جن میں سب سے زیادہ کیسز خیبرپختونخوا سے سامنے آئے۔ایسے جعلی شناختی کارڈ بنانے والے منظم نیٹ ورک کا قائم رہنا کسی نہ کسی حد تک حکومتی یا سیاسی سرپرستی کی نشاندہی کرتا ہے۔خیبرپختونخوا حکومت کی سست روی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ڈی نوٹیفائی کیے جانے کے باوجود صوبے میں اب بھی 353,140 افغان مہاجرین رہائش پذیر ہیں۔چترال میں 16,311، مانسہرہ میں 14,338، بنوں میں 9,258، لکی مروت میں 2,346، اور ہری پور میں 62,402 افغان مہاجرین موجود ہیں۔ اسی طرح ڈی آئی خان میں 1,569، پشاور میں 40,324، چارسدہ میں 7,026، نوشہرہ میں 40,806، ہنگو میں 25,817، کوہاٹ میں 58,089، مردان میں 15,544، سوات میں 37,385، ملاکنڈ میں 4,206، اور دیر میں 14,622 مہاجرین رہائش پذیر ہیں۔یہ تمام کیمپ قانونی طور پر ڈی نوٹیفائی ہو چکے ہیں مگر خیبرپختونخوا حکومت نہ صرف ان کیمپوں کو چلنے دے رہی ہے بلکہ بجلی، پانی، صحت اور دیگر سہولیات بھی فراہم کر رہی ہے وہ وسائل جو دراصل پاکستانی شہریوں کے لیے مختص تھے۔ یوں صوبائی حکومت کی غفلت کا براہِ راست اثر صوبے کے عوام پر پڑ رہا ہے۔ضروری ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت فوری طور پر وفاقی پالیسی کے مطابق آئی ایف آر پی پر مؤثر، شفاف اور بھرپور عمل درآمد یقینی بنائے، تاکہ صوبے کے امن، استحکام اور عوامی وسائل کا تحفظ ممکن ہو سکے۔
افغانوں کی واپسی، خیبر پختونخوا حکومت کی مجرمانہ غفلت !
09:10 AM, 2 Dec, 2025