بھارتی میڈیا ٗ نورین نیازی اورپاکستان کی شکائتیں

09:10 AM, 2 Dec, 2025

ابھی ابھی تو بھارت کا غرور مٹی میں ملا کر فارغ ہوئے تھے کہ حسب روایت عمران نیازی کی بہن نورین عرف رانی نے بھارتی چینلز کو انٹرویو دے کر ’’نیا کٹا‘‘ کھول دیا ہے۔ عمران نیازی کی تحریک انصاف دشمنی تو اُس کے اقتدار میں آتے ہی دیکھ لی تھی ۔ وزیر اعظم بنا تو اُس کی عوام دشمنی بھی کھل کر سامنے آ گئی ۔ احتجاج کیلئے نکلا تو پاکستان کے اداروں پر اُس کے حملوں نے نئے شکوک وشبہات پیدا کردیئے ۔ملزم سے مجرم بنا تو ریاست مخالف بیانات اور پالسیاں سامنے آنا شروع ہو گئیں ۔ اب مسئلہ عمران نیازی کی ملاقات کا ہے جو اڈیالہ جیل کی انتظامیہ ہونے نہیں دے رہی لیکن اسے احسن طریقے سے حل کیا جاسکتا تھا لیکن سہیل آفریدی کو ہر روزکے پی کے سے بغیر چیکنگ کے راولپنڈی پہنچانا ہوتا ہے تاکہ آئس کی سپلائی کا دھندہ مندے کے رجحان کا شکار نہ ہو جائے ۔ عمران نیازی سے تو جب وہ ملے گا تب کی بات ہے لیکن ایک بات سوچنے والی ہے کہ سہیل آفریدی بطور ایم پی اے کتنی بار اپنے ’’معشوق ‘‘ یا ’’ عاشق ‘‘ کو ملنے اڈیالہ جیل پہنچا تھا گو کہ اُس نے حلف اٹھانے کے بعد سب سے پہلا اعلان ’’ عشقِ عمران ‘‘ میں شہادت کا ہی کیا تھا ۔ عجیب دولے شاہ کے چوہوں کا ہجوم ہے پاک بھارت جنگ سے پہلے اُن کا بیانیہ تھا کہ جنگ ہرگز نہیں ہو گی ٗ جنگ ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ٗ دونوں ملک اپنی اپنی عوام کو بیوقوف بنا رہے ہیں اور علیمہ خان نے تو اُس جنگ کو ہی ’’نورا کشتی ‘‘ قراردے دیا تھا ۔یہ ہے ان خواتین اور سیاسی جماعت کی حب الوطنی جو جنگ کے ایام میں کھل کر قوم کے سامنے آگئی تھی ۔ وکلاء کی جعلی سونامی بھی تھم چکی کہ عمران نیازی کو بیچ کر سب اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو چکے اوراب پاکستان بار کیلئے خریدو فروخت کا بازار گرم ہونے جا رہا ہے ۔ 
عمران نیازی کی بہن ٗ حفیظ اللہ نیازی کی بیگم اور سزا یافتہ مجرم حسا ن نیازی کی والدہ ٗ جو 9مئی سے پہلے کہتا سنا گیا تھا کہ ’’ اگر عمران خان گرفتار ہوا تو نہ کسی حاجی کا خیال رکھا جائے گا اورنہ کسی حافط کا خیال رکھا جائے گا ٗ دھما دم مست قلندر ہو گا ۔ اس ملک میں خانہ جنگی ہو گی اگر خان صاحب کو کچھ ہوا تو۔‘‘یہ کلپ نورین نیازی کے برخودار کا اب بھی یوٹیوب پر پڑا ہے ۔ یہ وہ تربیت ہے جو محب وطن حفیط اللہ نیازی اور محترمہ نورین خانم نے اپنے بیٹے کی کررکھی تھی سو اگر حسان کی والدہ انڈین چینل پر بیٹھ کر پاکستان کی شکائتیں لگاتی دکھائی اور سنائی دی ہیں تو اِس میں حیرت کس بات کی ہے؟ تحریک انصاف اس حوالے سے خوش قسمت ہے کہ اُسے نیا فیض حمید اُچکزئی کی شکل میں مل چکا ہے جو پاکستان مخالف ہروہ فیصلہ عمران نیازی کی عدم موجود گی میں کروائے گا جو عمران نے اپنی موجودگی میں بھی کرنا تھا ۔ خواتین قابل ِ احترام ہوتی ہیں اور ہونی بھی چاہیے لیکن اگر میری بیٹی ٗ بیوی یا بہن بھی انڈین چینل پر بیٹھ کر پاکستان کے خلاف سازش کا حصہ بنتی ہے تو وہ کسی صورت قابل ِ احترام نہیں رہتی ۔ انڈین چینلز پر بیٹھ کر پاکستان کے دفاعی اداروں کے خلاف جب نورین خان بھارتی میڈیا پر بیٹھی باتیں کر رہی تھیں تو انہیں سوچنا چاہیے تھا کہ پاکستان نے انہیں کیا نہیں دیا ۔ فیلڈ مارشل چیف آف ڈیفنس فورسز جسے بھارتی اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتے ہیں نورین خانم کی وجہ سے انہیں موقع ملا کہ وہ ہمارے بہادر چیف کی تصویر بار بار اپنے منخوس چینلز پر چلا کر انہیں تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے ۔ نورین خان کوچاہیے تھا کہ وہ ان چینلز کو یہ بھی بتاتیں کہ ان کا بیٹا حسان نیازی بھی دفاعی اداروں پر حملہ کرنے کے جرم میں سزا کاٹ رہا ہے اگرکوئی شخص بھارت میں یہ جرم کرے تو اُس کی سزا کیا ہے ؟ اطلاع یہ ہے کہ مبینہ طور پر ان چینلز پر نورین خان کے انٹرویوز کا سارا بندوبست ’’ را ‘‘ نے کیا تھا اور اس بات میں صداقت اس حوالے سے بھی نظر آ رہی ہے کہ یہ تمام چینلز اورنیوز ایجنسی مود ی یعنی ’’را‘‘ کی فنڈنگ سے چل رہی ہیں۔ جنگ کے دنوں میں ان چینلز نے پاکستان کے خلاف جو زبان بکی اُس پر مجھے کوئی اعتراض نہیں کیوں کہ میں نے دشمن سے کبھی رحم کی توقع نہیں رکھی لیکن نورین خان کو شرم آنی چاہیے تھی کہ کوئی شخص اس قدر بھی گر سکتا ہے ؟کچھ بعید نہیں کہ یہ خاتون اس کے بعد کسی اسرائیلی چینل پر بھی نظر آئے کیوں ان سب کی زندگیوں میں چہل پہل اُتنی دیر تک ہی ہے جب تک عمران نیازی جیل میں ہے ۔ سو وقتا فوقتا ایسے کارنامے سرانجام دینا جس سے پاکستان کے عوام اور فوج مشتعل ہوتی رہے ان کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ نورین نیازی کا یہ ایکٹ الطاف حسین کی اُن تقاریر جیسا تھا جس میں انہوں نے تقسیم کو تاریخ کا سب سے بڑا المیہ قراردیا تھا ۔ خوش فہمی اورنرگیست میں مبتلا عمران نیازی کے چیلے چماٹے یہ بات بھول رہے ہیں کہ الطاف حسین اُن سے کہیں زیادہ مقبول لیڈرہونے کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط جنگجو تنظیم بھی رکھتا تھا لیکن اُسے بھارت میں بیٹھ کر پاکستان کی مخالفت کرنے کے بعد نیست و نابود کر کے رکھ دیا گیا۔ بھارتی چینلز پر بیٹھ کر انتظامیہ ٗ عدلیہ اور مقننہ کو پاکستان پر عذاب ثابت کرنے کا واحد مقصد لاوارث عمران نیازی کو مزید قید و بند میں رکھنا اور افغانستان سے اڑنے والی افواہوں کوحقیقت کے روپ میں دیکھنے کی خواہش کے علاوہ کیا ہوسکتا 
ہے؟ نیازی کے کھرب پتی بیٹے توپاکستان آئیں گے نہیں ٗ بیٹی کو اُس نے بیٹی تسلیم نہیں کیا ٗ باقی بچتی ہیں بہنیں اور اُن کے بچے کیونکہ بشری بی بی کو تو یہ کچھ بھی دینے سے رہے ۔اُس کیلئے اتنا ٹائٹل ہی کافی ہو گا کہ وہ عمران نیازی کی بیوی تھی ۔ ضیاء الحق نے عمران نیازی کو کرکٹ سے ریٹائرمنٹ واپس لینے کیلئے جو دبائو ڈالا تھا وہ ضیاء الحق کی کرکٹ ڈپلومیسی کا بھی حصہ تھا اورجالندھر کا ڈاکخانہ ایک ہونے کی وجہ سے بھی کرم نوازی تھی آ ج جالندھر کاڈاکخانہ پھر ایکٹودکھائی دے رہا ہے ۔جو خاتون آج انڈین چینلز پر بیٹھ کر پاکستانی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کرسکتی ہے وہ انڈین شہریت لینے سے بھی دریغ نہیں کرئے گی۔اس حرکت کے بعد تو پاکستان کے دفاعی اداروں کو چاہیے کہ ان لوگوں کو انڈر آبزرویشن رکھا جانا چاہیے کہ یہ پاکستان کے خلاف کسی بھی حد تک سکتے ہیں ۔جن چینلز کو انٹرویوزدیئے گئے ہیں اُن سے زیادہ تو پی ٹی آئی کے اپنے یوٹیوبز دیکھے اور سنے جاتے ہیں ٗ تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارتی میڈیا ہی کیوں استعما ل کیا گیا ؟۔

مزیدخبریں