پہلے چیف آف ڈیفنس سٹاف عاصم منیر کا وژن

09:10 AM, 2 Dec, 2025

2030 کا پاکستان آج کے پاکستان سے یقینی طور پر بہت مختلف ہو سکتا ہے… زیادہ منظم، زیادہ محفوظ، زیادہ ذمہ دار اور زیادہ مستحکم۔ اس تبدیلی کی بنیادوں میں سب سے اہم پیش رفت پاکستان کے پہلے چیف آف ڈیفنس سٹاف(سی ڈی ایس) کا تقرر ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا چیف آف ڈیفنس سٹاف کا یہ منصب نہ صرف دفاعی ڈھانچے میں اصلاح کا مظہر ہے بلکہ قومی سلامتی، سول و عسکری تعلقات اور خطے میں پاکستان کی پوزیشن کو بھی نئی جہت دے سکتا ہے۔
27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری اور پاکستانی تاریخ کے پہلے چیف آف ڈیفنس سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے 2030 تک کیلیے تقرر کے بعد پاکستانیوں کے اذہان میں یہ سوالات گونجنے لگے ہیں کہ 2030 کا پاکستان کیسا دکھائی دے گا۔ پہلے چیف آف ڈیفنس سٹاف کا وژن کیا ہوگا، کیا وہ نئی اقدار اور معیارات قائم کر پائیں گے، کیا ملک سے دہشتگردی مکمل طور پر ختم ہو سکے گی، اور کیا افواجِ پاکستان خطے کی سب سے مضبوط قوت بن سکتی ہیں؟۔
پاکستان کے پہلے چیف آف ڈیفنس سٹاف کے تقرر سے پاکستان میں دفاعی منصوبہ بندی تیزی سے مرکز مائل اور منظم ہو گی۔ 2030 تک پاکستان کے دفاعی نظام میں مشترک دفاعی منصوبہ بندی, تینوں افواج کا ایک ہی کمانڈ کا فلسفہ, جدید ٹیکنالوجی پر مبنی آپریشنز, یکجا لاجسٹک اور اسلحہ خریداری کا نظام, مضبوط سائبر اور خلائی سیکیورٹی سسٹم اور مربوط خفیہ ادارے اپنی پوری توانائی کے ساتھ کام کر رہے ہوں گے۔ یہ اصلاحات پاکستان کو نہ صرف عسکری لحاظ سے مضبوط بنائیں گی بلکہ فیصلہ سازی کا عمل بھی تیز، درست اور ذمہ دارانہ ہوگا۔
 چیف آف ڈیفنس سٹاف آئینی حدود میں رہ کر قومی پالیسی میں معاون کردار ادا کرتے رہیں گے تو قومی و علاقائی سیاسی تناؤ یقینی طور پر بتدریج کم ہوتا ہوا نظر آئے گا اور آئینی پاسداری برقرار رکھتے ہوئے عوامی مسایل پر توجہ دیتی پارلیمان مضبوط اور موثر ہو سکتی ہے۔عسکری ترقیوں اور تعیناتیوں میں شفافیت اور میرٹ کی برقراری سے پورا دفاعی ڈھانچہ مضبوط دکھائی دیتا ہے۔
دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا 2025 سے 2030 کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر بطور چیف آف ڈیفنس سٹاف نئی صحت مند اور پر وقار روایات کس حد تک قائم کر پائیں گے؟ پہلے چیف آف ڈیفنس سٹاف ہونے کے ناتے ان کی ہر پالیسی، ہر فیصلہ اور ہر اصلاح مستقبل کے تمام چیف آف ڈیفنس سٹاف کے لیے قابل تقلید مثال بن سکتی ہے۔
چیف آف ڈیفنس سٹاف کی نئی ممکنہ مستقل روایات میں دفاعی بجٹ کا شفاف استعمال, غیر سیاسی عسکری کردار, مشترک تربیت کا مربوط نظام, جدید سائبر کمانڈ, ہنگامی صورتحال میں مؤثر فوجی تعاون اور ادارہ جاتی احتساب شامل ہو گا۔ یہ اصول مضبوطی سے قائم رہے تو پاکستان کی عسکری تاریخ میں ایک نئے دور کی بنیاد رکھ دی جائے گی۔
پاکستان خوفناک دہشتگردی کے خلاف طویل عرصے سے نبرد آزما ہے۔ دیشتگردی کا مکمل خاتمہ شہباز شریف حکومت اور چیف آف ڈیفنس سٹاف کیلیے بہت بڑا چیلینج ہے۔ چیف آف ڈیفنس سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر پاکستان کی عسکری تاریخ کے سب سے زیادہ طاقتور اور با اختیار سربراہ ہیں جن کی قیادت میں 2030 تک دہشتگردی کا مکمل خاتمہ سو فی صد ممکن ہے۔ کئی ممالک کامیابی سے دہشتگردی پر قابو پا کر ترقی و خوشحالی کی منازل کی جانب باوقار انداز سے گامزن ہو چکے ہیں۔ دہشتگردی پر قابو پانے کے حوالے سے پاکستان سری لنکا اور چین سے سبق سیکھے۔ چین اور سری لنکا نے خوفناک دہشتگردی کو شکست دے کر امن و امان قائم کر کے ثابت کیا ہے کہ باصلاحیت اور ذمہ دار ریاستی قیادت اپنی بقا اور سالمیت یقینی بنانا جانتی ہے۔
البتہ 2030 میں بھی افغانستان کی غیر مستحکم صورتحال, خطے میں پراکسی جنگیں , اندرونی مذہبی اور سیاسی شدت پسندی, غربت , بے روزگاری اور دشمن ممالک کی مداخلت پاکستان کو کسی حد تک درپیش ہو گی۔ ممکنہ طور پر 2030 میں ملک سے دہشتگرد حملوں اور دہشتگرد نیٹ ورکس کا خاتمہ, بڑے شہروں میں مکمل سیکیورٹی, سرحدوں پر جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے نگرانی اور خفیہ اداروں کا مکمل اشتراک ہو گا۔ پاکستان جس انداز اور رفتار سے آگے بڑھ رہا بے یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ 2030 میں پاکستان بہت حد تک محفوظ ملک ہوگا۔ پاکستان کے لئے دفاعی برتری کا تصور صرف ہتھیاروں کی تعداد سے ہی نہیں جڑا بلکہ اصل طاقت تربیت ، ٹیکنالوجی، حکمت عملی اور پیشہ وارانہ نظم و ضبط میں ہوتی ہے۔
2030 میں سول۔عسکری توازن برقرار رہا تو سیاست زیادہ بالغ اور ریاستی پالیسی زیادہ مستقل اور واضح ہو سکتی ہے۔ مستحکم سیاسی ماحول پاکستان کو معاشی بہتری کی طرف لے جا سکتا ہے۔ وسطی ایشیائی اور خلیجی ریاستوں کی پاکستان میں معدنیات, زراعت, تعمیرات, آئی ٹی میں سرمایہ کاری پاکستان کو خوشحالی کی منزل کے قریب تر کرتی ہوئی دکھائی دے گی۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی متوازن اور واضح سمت اختیار کرے گی۔ پاکستان کی چین کے ساتھ شراکت اور خلیجی ممالک سے اقتصادی تعلقات , امریکہ اور مغرب کے ساتھ مفاداتی تعاون, وسط ایشیا میں توانائی و تجارت کا مضبوط ڈھانچہ پاکستان کو بہتر سفارتی قوت دے گا۔
چیف آف ڈیفنس سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر اپنی ذمہ داریاں آئینی اور پیشہ وارانہ حدود میں رہ کر پوری کرتے ہیں، وسیع تر اصلاحات جاری رکھتے ہیں اور سول اداروں کو مضبوط بناتے ہیں تو یقینی طور پر 2030 کا پاکستان زیادہ محفوظ، زیادہ مستحکم اور زیادہ مضبوط ہو سکتا ہے۔
اصل تبدیلی عسکری طاقت میں ہی نہیں بلکہ ایک ایسے پاکستان میں ہوگی جو دفاعی اعتبار سے محفوظ بھی ہو، معاشی طور پر ترقی یافتہ بھی، جمہوری لحاظ سے مضبوط بھی اور عالمی سطح پر باوقار بھی۔ چیف آف ڈیفنس سٹاف کا پاکستان سے متعلق وژن کامیاب ہوا تو 2030 پاکستان کے نئے اور روشن دور کا حقیقی آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔

مزیدخبریں