آپریشن غضب للحق نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی، مارچ میں حملوں میں ریکارڈ کمی

05:49 PM, 2 Apr, 2026

راولپنڈی/اسلام آباد: پاکستان میں سکیورٹی فورسز کی بھرپور کارروائیوں اور آپریشن غضب للحق کے آغاز کے بعد ملک میں امن و امان کی صورتحال میں غیر معمولی بہتری دیکھی جا رہی ہے۔ معروف تحقیقی ادارے سنٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز (CRSS) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، مارچ 2026 کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں فروری کے مقابلے میں 59 فیصد تک واضح کمی آئی ہے۔
عرب نیوز کی جانب سے شائع کردہ اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی جارحانہ حکمت عملی نے دہشت گرد گروہوں کو دفاعی پوزیشن پر جانے پر مجبور کر دیا ہے۔ رپورٹ کے اہم نکات درج ذیل ہیں۔ فروری کے مقابلے میں مارچ میں دہشت گردی کی لہر میں نصف سے بھی زیادہ کمی واقع ہوئی۔
آپریشن غضب للحق کے تحت کی گئی ٹارگٹڈ کارروائیوں نے شرپسندوں کے مواصلاتی نظام اور سہولت کاروں کے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ سرحد پار سے ہونے والی دراندازی پر سخت گرفت نے دہشت گردوں کی افرادی قوت اور اسلحے کی منتقلی کو ناممکن بنا دیا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ "آپریشن غضب للحق" صرف ایک وقتی کارروائی نہیں بلکہ ایک جامع مہم ہے جس کا مقصد ملک کے چپے چپے سے دہشت گردی کا صفایا کرنا ہے۔ ماہرینِ دفاع اس 59 فیصد کمی کو ریاست کی بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے ہفتوں میں شدت پسندی کے واقعات میں مزید کمی آئے گی، جس سے معاشی اور سماجی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

مزیدخبریں