کراچی: وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انوار چوہدری نے کراچی بندرگاہ پر تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کا حکم دے دیا ہے۔ بندرگاہ پر طویل عرصے سے پڑے پرانے کنٹینرز اور غیر ضروری سامان کو ہٹانے کے لیے 30 روز کی حتمی مہلت دے دی گئی ہے۔ وزیر بحری امور نے اجلاس کے دوران بتایا کہ موجودہ علاقائی صورتحال کے باعث پاکستانی بندرگاہوں پر ٹرانس شپمنٹ کارگو کے دباؤ میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس کے لیے بندرگاہ پر جگہ بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
وفاقی وزیر نے کے پی ٹی (KPT) اور ٹرمینل آپریٹرز سے کنٹینرز کی منتقلی کا جامع 'شفٹنگ پلان' فوری طلب کر لیا ہے تاکہ رش کو کم کیا جا سکے۔ بندرگاہ پر بوجھ کم کرنے کے لیے کارگو کو آف ڈاک ٹرمینلز پر منتقل کرنے کے لیے ایک واضح کمرشل میکنزم بنانے اور تمام ریکارڈ ڈیجیٹل رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ صرف کنٹینرز ہی نہیں بلکہ بندرگاہ کے احاطے میں موجود درج ذیل اشیاء کو بھی فوری ہٹایا جائے۔
جنید انوار چوہدری کا کہنا تھا کہ ان اقدامات سے نہ صرف لاجسٹکس کا نظام بہتر ہوگا بلکہ عالمی تجارت میں آسانی پیدا ہوگی جس سے ملکی معیشت کو فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ 30 دن کے اندر بندرگاہ کو مکمل فعال اور رش سے پاک دیکھنا چاہتے ہیں۔
کراچی پورٹ پر بڑا آپریشن: پرانے کنٹینرز ہٹانے کے لیے 30 دن کی ڈیڈ لائن، وزیر بحری امور کا سخت ایکشن
03:35 PM, 2 Apr, 2026