بھارت کا 'ڈیجیٹل لاک ڈاؤن': انٹرنیٹ بندش میں دنیا بھر میں پہلے نمبر پر، عالمی رپورٹ نے قلعی کھول دی

12:25 AM, 2 Apr, 2026

نیویارک/نئی دہلی: عالمی ڈیجیٹل حقوق کی تنظیم ’ایکسز ناؤ‘ (Access Now) نے اپنی حالیہ رپورٹ میں بھارت کو انٹرنیٹ بندش کرنے والے ممالک کی فہرست میں "بدترین ملک" قرار دے دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، بھارت مسلسل پانچویں سال بھی دنیا بھر میں انٹرنیٹ معطل کرنے میں سرفہرست رہا ہے، جس نے اس کے نام نہاد جمہوری دعووں پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔
عالمی تنظیم کی رپورٹ میں بھارتی حکومت کے آمرانہ طرزِ عمل کی نشاندہی کی گئی ہے۔ بھارت میں گزشتہ ایک سال کے دوران 12 ریاستوں میں متعدد بار انٹرنیٹ سروسز معطل کی گئیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ انتہا پسند نظریات کی وجہ سے پیدا ہونے والے اندرونی خلفشار اور تشدد کے واقعات کو دنیا سے چھپانے کے لیے انٹرنیٹ بندش کو بطور ڈھال استعمال کیا جا رہا ہے۔
منی پور، پنجاب اور مقبوضہ کشمیر جیسے علاقوں میں طویل مدتی انٹرنیٹ بندش نے لاکھوں شہریوں کو بنیادی معلومات سے محروم رکھا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی سرکار نے بھارت کو "ڈیجیٹل جیل" میں تبدیل کر دیا ہے۔ انٹرنیٹ کی بندش صرف تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، جس کا مقصد اپوزیشن کی آواز دبانا اور احتجاج کو کچلنا ہے۔ایکسز ناؤ کی رپورٹ نے واضح کیا ہے کہ جمہوری ممالک میں معلومات تک رسائی ایک بنیادی حق ہے، لیکن بھارت میں اسے سیاسی مقاصد کے لیے قربان کیا جا رہا ہے۔ انٹرنیٹ کی بندش سے نہ صرف آزادیِ اظہارِ رائے متاثر ہو رہی ہے بلکہ معیشت، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو بھی اربوں روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے۔

مزیدخبریں