واشنگٹن : مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے اس وقت خطرناک رخ اختیار کر لیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قوم سے خطاب میں ایران پر اگلے 15 سے 20 دنوں میں فیصلہ کن اور شدید ترین حملوں کا الٹی میٹم دے دیا۔صدر ٹرمپ نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے فوری طور پر میزائل پروگرام اور علاقائی مداخلت پر امریکی شرائط تسلیم نہ کیں تو اسے ایسی فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا جو اسے "پتھر کے زمانے" کی یاد دلا دے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ اب مزید صبر کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔
پہلی بار وائٹ ہاؤس نے ایرانی کارروائیوں میں 13 امریکی اہلکاروں کے مارے جانے کی باقاعدہ تصدیق کی ہے۔ صدر نے ان ہلاکتوں کو "ناقابلِ معافی جرم" قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب بات مذاکرات سے نکل کر انتقام کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔خطاب کی سب سے اہم بات امریکہ کا مشرقِ وسطیٰ کے تیل سے انحصار ختم کرنے کا اعلان تھا۔ صدر ٹرمپ نے کہا وینزویلا سے تیل کی بہتر فراہمی نے امریکہ کو خلیجی ممالک کا محتاج نہیں چھوڑا۔ امریکہ اب اپنی ضرورت کا تیل خود پیدا کر رہا ہے، لہٰذا خلیج فارس کی سیکورٹی اب امریکہ کی سردردی نہیں رہی۔
صدر ٹرمپ کا مشرقِ وسطیٰ میں "بڑی جنگ" کا اعلان؛ایران کو آخری وارننگ
09:12 AM, 2 Apr, 2026