بیوروکریسی کبھی ریاست کا سب سے مضبوط ستون اور ایسا ادارہ تھا جس میں نظم، تربیت، میرٹ اور کیریئر پلاننگ وہ بنیادیں تھیں جن پر اس کا پورا ڈھانچہ کھڑا ہوتا تھا، یہی وہ نظام تھا جس نے ریاستی مشینری کو کامیابی سے چلایا بلکہ پالیسی سازی، عملدرآمد اور عوامی خدمت کے درمیان ایک مضبوط ربط بھی قائم رکھا، آج یہی ستون اندر سے کھوکھلا دکھائی دے رہا ہے اس کی سب سے بڑی وجہ ایک منظم کیریئر پلاننگ سسٹم کا خاتمہ اور اس کی جگہ سیاسی پلاننگ کا فروغ ہے، یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی بلکہ بتدریج ایک سوچ، رویے اور غیر تحریری نظام کے طور پر پروان چڑھی ہے، پہلے پہل یہ چند مخصوص کیسز تک محدود تھی، پھر آہستہ آہستہ اس نے پورے ڈھانچے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، آج صورتحال یہ ہے کہ ایک افسر کی پیشہ ورانہ شناخت اس کی کارکردگی سے زیادہ اس کی وابستگیوں سے جڑی محسوس ہوتی ہے۔
حالیہ دنوں میں گریڈ 18 سے 19 میں ترقیوں کا معاملہ ایک بار پھر اسی تلخ حقیقت کو بے نقاب کر گیا ہے، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ اور صوبوں کے چیف سیکرٹریز عملی طور پر بیوروکریسی کے مائی باپ ہوتے ہیں، میں نے ماضی میں ان مائی باپوں کو نئے آنے والے افسر بچوں کے لیے اسی طرح تڑپتے، تربیت کرتے اور انہیں سمجھاتے دیکھا جیسے وہ ان کے حقیقی ماں باپ تھے، انہی مائی باپوں کی وجہ سے بھرتی ہونے والا ایک نیا افسر آہستہ آہستہ ایک مضبوط کردار اور کام کا ماہر بن کر سامنے آتا تھا مگر اب یہ جذبہ کچھ مانند پڑ گیا ہے، مائی باپوں کی طرف سے بھی اور اولاد کی طرف سے بھی، کیا کبھی بیوروکریسی کے یہ بڑے ترقیوں، تنزلیوں کے اجلاس منعقد کرنے کے ساتھ ساتھ قونصلنگ پر بھی اکٹھے ہو سکتے ہیں کہ نئے آنے والے افسروں کی اکثریت کام کے بجائے نام اور خدمت کی بجائے ”اپنی عظمت“ پر کیوں توجہ دے رہی ہے؟ اور ترقی کے اجلاس میں ان افسروں کی اعلیٰ کارکردگی کے موازنہ کی بجائے انکی دیانت داری پر ہی کیوں بات کرنا پڑتی ہے؟ مجھے رہ رہ کر پرویز مسعود، اے زیڈ کے شیر دل جیسے افسر یاد آتے ہیں، پرویز مسعود صاحب کو اللہ صحت والی لمبی عمر اور شیردل صاحب کو کروٹ کروٹ جنت دے، یہ اپنے افسروں کے لیے لڑ پڑتے تھے کہ انکی دیانت پر کوئی کس طرح انگلی اٹھا سکتا ہے کیونکہ ہم نے انکی اچھی تربیت کی ہے۔ ایک طویل عرصے بعد گریڈ انیس کے لیے ایک اچھا بورڈ ہوا، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نبیل اعوان اور چیف سیکرٹری پنجاب زاہد زمان نے اگر پنجاب کے کسی افسر کی ترقی کے لیے اسکی اہلیت کے ساتھ ساتھ اسکی دیانت کو ڈسکس کیا ہے تو اسے مثبت لینا چاہیے، مگر میں پھر یہ کہوں گا کہ ان دونوں بڑوں کو کسی وقت پنجاب کے نئے اور مڈ کیریئر افسروں کے مستقبل کے لیے، انکی کیریئر پلاننگ کے لیے بھی سر جوڑنا ہوں گے کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے افسر جو کسی وقت بہترین اور آو¿ٹ سٹینڈنگ کہلاتے تھے، آج اس نہج پر کیوں پہنچ گئے ہیں؟ حالیہ بورڈ میں کئی ایسے افسران جن کی شہرت، محنت اور پیشہ ورانہ قابلیت کی بنیاد پر تھی وہ، دیانت کی وجہ سے ترقی کی دوڑ میں کیوں پیچھے رہ گئے؟ اسی طرح کئی اور افسروں کی کارکردگی کمزور تھی نہ اہلیت بلکہ مسئلہ یہ تھا کہ انہیں اپنے کیریئر کے دوران وہ نمایاں پوسٹنگز ہی نہیں دی گئیں جو آج ترقی کے لیے بطور دلیل پیش کی جا سکیں۔ یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے، اگر کسی افسر کو ابتدا ہی سے ایسے مواقع نہ دئیے جائیں جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کو ثابت کر سکے، تو بعد میں اس سے نمایاں کارکردگی کا تقاضا کیسے کیا جا سکتا ہے؟ میں پنجاب کے ایک سیکرٹری لیول کے افسر کو جانتا ہوں، جو محنت، دیانت اور شرافت میں مشہور ہے، ہر کوئی اس کے کام کی تعریف کرتا ہے، وہ ایک فائر فائٹر کی طرح نتائج بھی دیتا ہے مگر آج تک اسے کوئی ٹاپ لیول کی سیکرٹری شپ نہیں دی گئی، پتہ نہیں کیوں؟ کیا یہ انصاف ہے کہ دوڑ جیتنے کا کریڈٹ اسی کو ملے، جس کے پاس میدان ہو؟ اور جس کے پاس میدان ہی نہ ہو وہ دوڑ کیسے ہار گیا؟ سوال یہ ہے کہ کیا سب کو یکساں مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں؟ یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کی بیوروکریسی کا اصل بحران شروع ہوتا ہے۔ میں نے ایک بار پرویز مسعود صاحب سے پوچھا کہ سر آپ، کئی بار پنجاب کے چیف سیکرٹری اور سول سروسز اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل رہے ہیں، آپ افسروں کو دیانت دار رہنے اور کرپشن سے بچنے کا کیا گر بتاتے تھے؟ تو انہوں نے سنجیدگی سے جواب دیا، میں بڑا آسان طریقہ بتاتا تھا کہ ”اگر وہ اپنے گھر سے مالی طور پر کمزور ہیں تو ایسے سسرال ڈھونڈیں جو مالدار یا کھاتے پیتے ہوں یا پھر ایسی لڑکی سے شادی کریں جو ڈاکٹر، لیکچرار یا ملازمت کرتی ہو، اس طرح آپ کرپشن سے بچے رہیں گے“۔ کبھی ایسا ہوتا تھا کہ گریڈ 17 کا ایک افسر جب سروس میں آتا تھا تو اس کے لیے ایک مکمل کیریئر روڈ میپ موجود ہوتا تھا، اسسٹنٹ کمشنر انڈر ٹریننگ سے لے کر اسسٹنٹ کمشنر، پھر ڈپٹی کمشنر، اس کے بعد چھوٹے محکمہ کی سیکرٹری شپ اور پھر کمشنر شپ، اسی طرح سیکرٹریٹ میں مختلف کلیدی عہدوں پر تعیناتی یہ سب ایک مربوط تربیتی سفر کا حصہ تھا، جس میں وفاقی اور صوبائی سروس کے تمام افسر شامل ہوتے، اس سفر میں ہر مرحلہ ایک نئی تربیت، آزمائش اور ذمہ داری لے کر آتا تھا، یہ محض عہدوں کی تبدیلی نہیں ہوتی تھی بلکہ ایک ذہنی اور انتظامی ارتقا تھا، جس کے نتیجے میں ایک افسر نہ صرف فائلوں کا ماہر بنتا تھا بلکہ زمینی حقائق کو بھی سمجھنے لگتا تھا۔ آج یہ تسلسل ٹوٹ چکا ہے، اب ایک افسر کی پوسٹنگ اس کی تربیت، مہارت یا سروس سٹرکچر کے مطابق نہیں بلکہ اس کی قبولیت کے مطابق طے ہوتی ہے کہ وہ کس کے قریب ہے، کس کا آدمی سمجھا جاتا ہے اور کس حد تک مطیع ہے۔ یہی وہ سوچ ہے جس نے میرا افسر اور تیرا افسر جیسی خطرناک اصطلاحات کو جنم دیا، یہ محض الفاظ نہیں، بلکہ ایک ذہنیت ہے جو اداروں کو ذاتی وفاداریوں میں تقسیم کر دیتی ہے، جہاں پیشہ ورانہ قابلیت ثانوی اور ذاتی وابستگیاں بنیادی حیثیت اختیار کر لیتی ہیں۔ اس ذہنیت کے اثرات نہایت دور رس اور خطرناک ہیں، نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ایک ایسی بیوروکریسی سامنے آ رہی ہے جو عہدوں پر تو بیٹھی ہے مگر تجربے سے محروم ہے، جب ایسے افسر اہم پالیسی فیصلے کرتے ہیں تو ان فیصلوں میں وہ گہرائی، وسعت اور حقیقت پسندی نہیں ہوتی جو ایک کندن بنے افسر میں ہوتی ہے، آخر میں سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایک ایسی بیوروکریسی چاہتے ہیں جو صرف احکامات کی تعمیل کرے؟ یا ایسی بیوروکریسی جو ریاست کے مفاد میں آزادانہ، جرا¿ت مندانہ اور دیانتدارانہ فیصلے کر سکے؟ اگر جواب دوسرا ہے اور یقینا ہونا بھی یہی چاہیے تو پھر ہمیں فوری طور پر کیریئر پلاننگ کو دوبارہ زندہ کرنا ہو گا ورنہ بیوروکریسی روح سے خالی، صلاحیت سے محروم اور اثر سے بے نیاز ایک ایسا ادارہ بن جائے گا جسے دوبارہ کھڑا کرنا آسان نہیں ہو گا۔
بیوروکریسی کیریئر پلاننگ یا سیاسی پلاننگ؟
09:09 AM, 2 Apr, 2026