نوازشریف کی لیڈرشپ اور اسحاق ڈار کی کامیاب سفارتکاری

09:08 AM, 2 Apr, 2026

دو وزارتیں ہمیشہ سے ہی اہم اور مشکل ترین ذمہ داریاں سمجھی جاتی رہی ہیں ان میں سب سے اہم وزارت خارجہ ہے اور پھر وزارت خزانہ سب سے اہم وزارتیں ہیں۔ ماضی کی سلطنتوں کے ادوار ہوں یا موجودہ جدید دور کے ممالک میں ان وزارتوں کی اہمیت کبھی کم نہیں ہوئی۔ کسی ملک یا سلطنت کی کامیابی کا دارومدار اس کی خارجہ اور خزانہ کی پالیسیوں پر ہی انحصار ہوتا ہے۔ موجودہ حالات میں اگر پاکستان کے خارجہ امور اور خزانہ کے امور کو دیکھا جائے تو ان دونوں محاذوں پر پاکستان بہت اچھا کھیل رہا ہے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار جو خود کو ایک کامیاب وزیر خزانہ کے طور پر منوا چکے ہیں ان کی قابلیت اور تجربہ کار صلاحیتوں پر کوئی بھی آج تک انگلی نہیں اٹھا سکا۔ مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ جنگ کے دوران کامیاب سفارت کاری کا محاذ سنبھالنا اور دنیا کو اپنے موقف پر قائل کرنا اسحاق ڈار کی اپنی سیاسی تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی تھی۔ بھارت نے پہلگام کا فالس فلیگ آپریشن کے ذریعے دنیا کو ورغلانے کی کوشش کی۔ بھارت دنیا کے کسی بھی ملک یا اس کے سفیر کو ایسے کوئی ثبوت نہیں دے سکا کہ پہلگام کا واقعہ سے پاکستان کا کسی بھی قسم کا کوئی تعلق ہے جبکہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے دوست ممالک سمیت تمام دنیا کے بڑے ممالک کو اس بات پر قائل کیا کہ پاکستان کا اس واقعے سے دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔ دنیا نے بھارت کے موقف کو ریجیکٹ کیا اور پاکستان کے موقف کو درست تسلیم کیا۔ یہ اسحاق ڈار کی بڑی اچیومنٹ تھی۔ آج دنیا ایک بار پھر جنگی حالات کا سامنا کر رہی ہے گو کہ جنگ ایران سے امریکہ اور اسرائیل کی ہے لیکن پوری دنیا میں چرچے پاکستان کے ہو رہے ہیں۔ دنیا کے تمام میڈیا ہاو¿سز کی زبانوں پر پاکستان کا نام آ رہا ہے۔ امریکی صدر خود پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی سوشل میڈیا پر بیان کو خود شیئر کر رہے ہیں۔ یہ پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اسحاق ڈار اپنی صحت کی پروا کیے بغیر سفارتی محاذ کو کامیابی سے سنبھالے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی آمد ہوتی ہے پاکستان دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے مذاکراتی عمل کو لیڈ کرتا ہے۔ ایک موقع پر اسحاق ڈار پاو¿ں پھسلنے سے گر جاتے ہیں ان کے کندھے پر فریکچر بھی ہوتا ہے ڈاکٹر ان کو آرام کا مشورہ دیتے ہیں لیکن اسحاق ڈار پھر بھی چین کے سرکاری دورے پر روانہ ہوتے ہیں یہ ان کی ملک سے وفاداری اور قومی ذمہ داریاں احسن طریقے سے سرانجام دینے کی بڑی دلیل ہے۔ اسحاق ڈار نے ثابت کیا ہے کہ وہ کامیاب وزیر خزانہ بھی تھے اور کامیاب وزیر خارجہ بھی ہیں۔ ان کے لیے صحت سے زیادہ قومی ذمہ داری اور ملکی وقار ہے جس پر وہ کسی بھی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اسحاق دار نے جس طریقے سے سفارتی محاذ کو سنبھالا ہوا ہے یہ نواز شریف کی لیڈرشپ اور اور ان کے زیر سایہ کام کر کے سیکھنے اور اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرنے کی بڑی دلیل ہے۔ میاں نواز شریف کی پالیسیاں بھی ہمیشہ دوستانہ رہی ہیں۔ نواز شریف امن کے خواہاں ہیں انہوں نے امن کے لیے کئی بڑے اور مشکل فیصلے کیے۔ اسحاق دار نے بھی نواز شریف سے ہی سیکھا ہے کہ امن قائم کرنے کے لیے قربانی دینا پڑے تو وہ بھی دیں۔ اسی لیے آج دنیا اسحاق ڈار کی کارکردگی کی معترف ہے۔ اگر وزارت خزانہ کی بات کی جائے تو پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی ایک پالیسی جو مجھے ذاتی طور پر بہت اچھی لگتی ہے کہ ریاست کا کام کاروبار کرنا نہیں بلکہ کاروبار کرنے والوں کو تحفظ فراہم کرنا اور سہولیات دینا ہے۔ اسی لیے پاکستانی سرمایہ کاروں کا اعتماد تیزی سے ریاست پر بڑھ رہا ہے۔ پاکستان آج جس مقام پر کھڑا ہے یہ بہت ہی قابل رش مقام ہے۔ دنیا آج پاکستان کو محفوظ ترین ملک تصور کر رہی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث کئی ممالک کے جہازوں کی پاکستانی ایئرپورٹس پر کھڑے ہونے کی تصویریں اور آبنائے ہرمز سے صرف پاکستانی پرچم والے جہازوں کے گزرنے کی تصویریں بھی دنیا بھر کے سوشل میڈیا کی سرخیوں میں نمایاں ہیں۔ یہ پاکستان کے قیام سے لے کر آج تک کے سب سے عروج کا دور ہے۔ پاکستان نے آگے بڑھنا ہے اس کو اب آگے بڑھنے سے کوئی بھی نہیں روک سکتا کیونکہ جب قیادت مخلص ہو تو کامیابی آپ کا مقدر بنتی ہے۔

مزیدخبریں