یہ ایسا کیوں کرتے ہیں

09:07 AM, 2 Apr, 2026

سمجھ نہیں آتی کہ ہر مسئلہ پر ایک سیاسی جماعت پاکستان کے دشمنوں کے ساتھ ہی کیوں کھڑی نظر آتی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں کچھ جماعتوں پر پابندی بھی لگی اور کچھ پر ملک دشمنی کے فتوے بھی لگائے گئے لیکن ان میں سے کسی نے وہ کام نہیں کئے کہ جو موجودہ دور میں پاکستان کی ایک سیاسی جماعت کر رہی ہے لیکن یہ واضح ہو کہ اس سیاسی جماعت کے اس ملک دشمن کردار سے عوام کا حتیٰ کہ پاکستان میں موجود اس کے بیشتر عہدیداروں کا بھی کوئی لینا دینا نہیں اور خاص طور پر عوام نے تو ایک قسم کا اس جماعت سے لا تعلقی کا رویہ اپنا رکھا ہے کہ کہ وہ ایک دو بار نہیں بلکہ متعدد بار احتجاج کی کال دے چکے ہیں لیکن کوشش اور سوشل میڈیا پر انتہا سے زیادہ پروپیگنڈا کے باوجود بھی چار بندے ان کے احتجاج کی کسی کال پر گھروں سے باہر نہیں نکل سکے ۔ عوام کی یہ لا تعلقی آج کی نہیں ہے بلکہ خود عمران خان صاحب اکتوبر2022میں لبرٹی چوک سے لانگ مارچ کی قیادت کر رہے تھے تو وہ تعداد بھی اتنی تھی کہ بڑی مشکل سے راوی پل پار کر سکی تھی اور اس کے بعد خان صاحب کی ایک تقریر اور پھر خان صاحب اپنے گھر اور لانگ مارچ والے اپنے گھر اور پھر ہر روز اگلے شہر میں ایک چھوٹی سی جلسی اور تقریر اور پھر سب اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے تھے ۔ یہ سلسلہ وزیر آباد میں فائرنگ کے واقعہ تک جاری رہا اور اس کے بعد خان صاحب کی ٹانگوں پر جو چھرے لگے تھے وہ چھ ماہ تک کسی ڈاکٹر سے صحیح نہیں ہو سکے لیکن پھر جب رینجرز نے گرفتار کیا تو ان کے پاس اتنے قابل ڈاکٹر تھے کہ انھوں نے ایک رات میں اس حد تک علاج کر دیا کہ نہ صرف یہ کہ خان صاحب کی ٹانگ سے پلستر اتر گیا تھا بلکہ وہ بغیر کسی سہارے کے چلنا بھی شروع ہو گئے تھے ۔ 
خیر بات ہو رہی تھی کہ ہر مسئلہ پر ایک سیاسی جماعت پاکستان کے دشمنوں کے ساتھ ہی کیوں کھڑی نظر آتی ہے ۔ مئی2025میں اگر ہندوستان کے ساتھ جنگ ہوئی تو یہ میری رائے نہیں بلکہ وہ تلخ حقائق ہیں جن کی تردید ممکن نہیں کہ ملک دشمنی کی تمام حدوں کو پار کیا گیا اور جنگ سے پہلے ، جنگ کے دوران اور جنگ کے بعد تمام وقت اس جماعت کا سوشل میڈیا پاکستان کی بجائے ہندوستان کے ساتھ کھڑا رہا ۔ ہندوستان نے اپنی شکست تسلیم کر لی ۔ دنیا بھر نے پاکستان کو فاتح قرار دے دیا ۔ دنیا بھر میں پاکستان کے عزت اور وقار میں بے پناہ اضافہ ہوا اور اس بے مثال فتح کے نتیجہ میں فرانسیسی جنگی طیارے رافیل بنانے والی کمپنی کے حصص کی قیمتیں گر گئیں اور JF-17تھنڈر بنانے والی چینی کمپنی کے حصص کی قیمتوں میں17%اضافہ ہو گیا لیکن پاکستان کی کامیابی کا اگر کسی کو یقین نہیں آیا تو وہ اس جماعت کے کارکن تھے اور اگر آپ کو ہماری بات کا یقین نہیں ہے تو آپ آج بھی ان سے پاکستان کی فتح کے متعلق بات کریں تو یہ یقین کرنے کی بجائے آپ کا تمسخر اڑائیں گے ۔ پاکستان دشمنی اگر کسی ایک بات تک محدود رہتی تو ایک کمزور سا جواز دیا جا سکتا تھا کہ کوئی بات نہیں اختلاف رائے تو ہر جگہ ہر مسئلہ پر ہو سکتا ہے لیکن اس کے بعد جب بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں شروع ہوئیں تو یہ پاکستان کی بجائے BLAکے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں ہیں ۔ اس کے بعد اگر فتنہ الخوارج کے خلاف پاکستان نے آپریشن شروع کیا تو یہ لوگ اس آپریشن کے خلاف کھڑے ہو گئے اور اب اگر دہشت گردوں کی سر کوبی کے لئے افغانستان سے جنگ شروع ہوئی تو یہ لوگ پاکستان کی بجائے افغانستان کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں ۔
بات یہی تک محدود نہیں ہے بلکہ ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں ان کے سوشل میڈیا پر کوئی ایک خبر بھی ایسی نظر نہیں آئے گی کہ جس میں دنیا بھر میں پاکستان کو جو عزت و احترام مل رہا ہے اس کی بات ہو بلکہ ہر وہ پروپیگنڈا اور جھوٹ بولا جائے گا کہ جس سے خدانخواستہ پاکستان کی عزت پر حرف آئے ۔ ایران نے پاکستانی پرچم بردار بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گذرنے کی اجازت دی تو انھوں نے پہلے ٹرمپ کے بیان کو خوب اچھالا اور پھر بعد میں ایک ایرانی عہدیدار کے نام سے پاکستان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا شروع کر دیا لیکن جب خدائے بزرگ و برتر کی ذات عزت دیتی ہے تو پھر کسی کے گھٹانے سے عزت کم نہیں ہوتی اور ایرانی سفارت خانہ نے خود اس جھوٹے پروپیگنڈا کی تردید جاری کر دی ۔ پوری دنیا پاکستانی سفارتی کردار کی تعریف کر رہی ہے اور خود ایران کی جانب سے پاکستانی کوششوں کو سراہا جا رہا ہے لیکن مجال ہے کہ ان کی جانب سے اس حوالے سے کوئی تحسین کا ایک لفظ بھی کہا جا رہا ہو ۔ اس کے علاوہ جی ایس پی پلس سٹیٹس پر پاکستان دشمن بیانیہ بنایا جا رہا ہے ۔ اب تمام تر حقائق کو پس پشت ڈال کر پیٹرول کی قیمتوں کے حوالے سے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے حالانکہ عوام اندھی نہیں ہے اور نہ ہی عقل سے پیدل ہے کہ انھیں یہ بھی علم نہ ہو کہ پڑوسی ملک اور دنیا بھر میں پیٹرول کے حصول کے لئے میلوں لمبی لائنیں لگ رہی ہیں لیکن خدائے پاک کا شکر کہ کہ پاکستان میں حالات ابھی تک مکمل کنٹرول میں ہیں اور خدا نے چاہا تو کنٹرول میں ہی رہیں گے ۔ عرض یہ ہے کہ ہر سیاسی جماعت سیاست کرتی ہے اور حکومت سے اختلاف رائے کی بنیاد پر حکومت کی مخالفت بھی کرتی ہے لیکن ریاست کی مخالفت نہیں کی جاتی۔

مزیدخبریں