بانی پی ٹی آئی کی مشکلات میں ایک اور اضافہ

09:05 AM, 2 Apr, 2026

پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں اختلاف، مزاحمت اور احتجاج ہمیشہ سے موجود رہے ہیں، مگر ان تمام تر کشمکش کے باوجود ایک بنیادی اصول پر بڑی حد تک اتفاق رہا کہ سیاسی جماعتیں اپنی جدوجہد کو سیاسی اور پارلیمانی دائرے تک محدود رکھیں گی۔ ماضی میں مذہبی جماعتوں کے اندر نظم و ضبط کے لیے رضاکارانہ فورسز یا ذیلی تنظیموں کا قیام ضرور دیکھنے میں آیا، مگر مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتوں نے کبھی اس طرز کو بطور حکمت عملی اختیار نہیں کیا۔ یہی وجہ تھی کہ شدید ترین سیاسی اختلافات کے باوجود نظام کسی نہ کسی صورت چلتا رہا اور مفاہمت کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔ لیکن پاکستان تحریک انصاف کی حالیہ حکمت عملی اس تسلسل سے ایک واضح انحراف دکھائی دیتی ہے، جو نہ صرف خود اس جماعت بلکہ ملکی سیاست کے مجموعی مزاج کے لیے بھی ایک نیا اور خطرناک موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔
نو مئی کے واقعات نے پہلے ہی اس جماعت کے لیے مشکلات کے دروازے کھول دیئے تھے۔ وہ دن پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک سیاہ باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جب احتجاج کی آڑ میں ایسے اقدامات دیکھنے کو ملے جنہیں ریاستی اداروں پر حملہ تصور کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف بانی پی ٹی آئی عمران خان بلکہ ان کی جماعت کی اعلیٰ قیادت کو قانونی کارروائیوں، گرفتاریوں اور سزاو¿ں کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ ایک ایسا موقع تھا جہاں سے واپسی ممکن تھی، جہاں سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پارٹی اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کر سکتی تھی، مگر بظاہر ایسا نہ ہو سکا۔
اب خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی جانب سے "عمران خان رہائی فورس" کے قیام کا اعلان ایک نئے سوال کو جنم دیتا ہے۔ بظاہر اس فورس کو ایک منظم، پرامن اور عوامی تحریک کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جس میں نوجوانوں، 
خواتین، اقلیتوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو شامل کیا جائے گا۔ اس کے لیے باقاعدہ ممبرشپ، حلف برداری اور ایک مضبوط چین آف کمانڈ کی بات بھی کی گئی ہے۔ مزید برآں، یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ فورس مکمل طور پر آئینی، قانونی اور جمہوری حدود کے اندر رہتے ہوئے جدوجہد کرے گی اور عمران خان کی رہائی کے بعد خود انہی کے حکم پر تحلیل بھی کر دی جائے گی۔
یہ تمام دعوے اپنی جگہ، مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک سیاسی جماعت کو اس نوعیت کی "فورس" بنانے کی واقعی ضرورت ہے؟ اگر جدوجہد آئینی اور جمہوری ہی رکھنی ہے تو پھر موجودہ سیاسی اور تنظیمی ڈھانچے کے اندر رہتے ہوئے بھی یہ کام کیا جا سکتا تھا۔ ایک علیحدہ فورس کا قیام، اس کے لیے باقاعدہ حلف اور کمانڈ سٹرکچر کی تشکیل، بظاہر ایک ایسے تاثر کو جنم دیتی ہے جو سیاسی کم اور تنظیمی یا نیم عسکری زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جو ناقدین کو یہ کہنے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ پی ٹی آئی ایک بار پھر اسی راستے پر گامزن ہو رہی ہے جس نے اسے پہلے بھی نقصان پہنچایا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا یہ مو¿قف کہ عدالتی احکامات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور تمام آئینی راستے اختیار کرنے کے باوجود انصاف نہیں مل رہا، اپنی جگہ ایک سیاسی مو¿قف ہو سکتا ہے۔ ہر جماعت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی شکایات کو عوام کے سامنے رکھے اور احتجاج کرے، مگر اس احتجاج کی نوعیت اور اس کا طریقہ کار ہی اس کی ساکھ کا تعین کرتا ہے۔ اگر احتجاج منظم ہو مگر اس میں جذباتیت غالب آ جائے، اگر قیادت کے کنٹرول سے باہر عناصر شامل ہو جائیں، تو پھر وہی کچھ دہرائے جانے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے جو ماضی میں ہو چکا ہے۔
یہاں ایک اور اہم پہلو بھی قابل غور ہے کہ اس تحریک کی قیادت اور مذاکرات کی ذمہ داری مختلف سیاسی شخصیات کے سپرد کی گئی ہے، جن میں علامہ راجہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی جیسے نام شامل ہیں۔ یہ ایک مثبت اشارہ ہو سکتا ہے کہ مختلف سیاسی و مذہبی طبقات کو ساتھ ملا کر ایک وسیع تر اتحاد کی کوشش کی جا رہی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ اتحاد واقعی سیاسی استحکام کی طرف لے جائے گا یا مزید کشیدگی کا باعث بنے گا؟۔
حقیقت یہ ہے کہ سیاست میں طاقت کا اصل سرچشمہ عوامی حمایت اور پارلیمانی عمل ہوتا ہے، نہ کہ سڑکوں پر طاقت کا مظاہرہ۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہ جماعتیں جو جذباتی نعروں اور وقتی دباو¿ کے ذریعے فیصلے کرانا چاہتی ہیں، وقتی کامیابی تو حاصل کر لیتی ہیں مگر طویل المدت استحکام سے محروم رہتی ہیں۔ پی ٹی آئی کے پاس آج بھی ایک قابل ذکر عوامی حمایت موجود ہے، جو کسی بھی جماعت کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہوتی ہے۔ مگر اس سرمایہ کو کس طرح استعمال کیا جاتا ہے، یہی اصل امتحان ہے۔
اگر یہ "عمران خان رہائی فورس" واقعی پرامن اور آئینی حدود میں رہ کر کام کرتی ہے تو شاید یہ ایک سیاسی دباو¿ کا ذریعہ بن سکے، مگر اس میں وہی عناصر شامل ہو گئے جو ماضی میں حالات کو بگاڑنے کا باعث بنے تھے، تو پھر یہ اقدام نہ صرف پارٹی بلکہ ملک کے لیے بھی نئے بحرانوں کو جنم دے سکتا ہے۔ اس لیے دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا جائے اور ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کیا جائے جو تصادم کی فضا کو مزید بڑھاوا دے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس عمل سے بات پابندی کی طرف چل نکلے یہ ایک اشارہ ہے۔
آج کا مورخ جب ان حالات کا جائزہ لے گا تو وہ شاید یہی لکھے کہ ایک ایسی جماعت جس کے پاس عوامی حمایت، سیاسی توانائی اور ایک مضبوط بیانیہ موجود تھا، اس نے اپنی حکمت عملی کے انتخاب میں وہ راستہ اختیار کیا جس نے اس کے لیے مفاہمت کے دروازے بند کر دیئے۔ سیاست میں دروازے بند کرنا آسان ہوتا ہے، مگر انہیں دوبارہ کھولنا انتہائی مشکل۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر پی ٹی آئی کی قیادت کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا، کیونکہ تاریخ صرف فیصلے نہیں سناتی، وہ مثالیں بھی قائم کرتی ہے۔

مزیدخبریں