بیانیہ یا مفاد؟ جے اے اے سی کی سیاست کا اصل چہرہ

09:04 AM, 2 Apr, 2026

سیاست کے افق پر کچھ آوازیں ایسی ابھرتی ہیں جو ابتدا میں امید کی کرن محسوس ہوتی ہیں، مگر وقت گزرنے کے ساتھ انہی آوازوں کی بازگشت میں کئی سوال جنم لینے لگتے ہیں۔ شوکت نواز میر اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی جے اے اے سی (JAAC) کا بیانیہ بھی کچھ اسی نوعیت کا دکھائی دیتا ہے ایک ایسا بیانیہ جو بظاہر عوامی حقوق کے دفاع کا دعویدار ہے، مگر اس کے عملی خدوخال میں کئی تضادات جھلکتے ہیں۔
عوامی حقوق کے نام پر تحریکیں چلانا کوئی نئی بات نہیں، تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں کچھ قیادتیں عوام کے مسائل کو سامنے لا کر تبدیلی کی بنیاد رکھتی رہی ہیں۔ مگر اصل فرق نیت اور طریقہ کار میں ہوتا ہے۔ جہاں ایک طرف مخلص قیادت مسائل کے حل کو اپنی منزل بناتی ہے، وہیں دوسری طرف کچھ عناصر مسائل کو برقرار رکھ کر اپنی اہمیت کو زندہ رکھتے ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا JAAC کی قیادت واقعی مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہے یا ان مسائل کو ایک مستقل دباو¿ کے آلے کے طور پر استعمال کر رہی ہے؟۔
یہ ایک دلچسپ مگر تشویشناک پہلو ہے کہ جب بھی کسی مسئلے کے حل کی جانب پیش رفت ہوتی ہے یا حکومتی سطح پر کوئی رعایت دی جاتی ہے، تو فوراً ایک نیا تنازع جنم لیتا ہے۔ یہ عمل ایک اتفاق نہیں بلکہ ایک تسلسل کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ گویا مسائل کا حل خود ایک مسئلہ بن جاتا ہے، کیونکہ اگر مسائل ختم ہو جائیں تو تحریک کی بنیاد کمزور پڑ سکتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں جدوجہد اور حکمتِ عملی کے درمیان حد فاصل دھندلا جاتی ہے۔
سوشل میڈیا نے اس بیانیے کو مزید طاقتور بنا دیا ہے۔ ایک منظم انداز میں جذباتی مواد، اشتعال انگیز تقاریر اور مسلسل بیانیہ سازی کے ذریعے عوام، خصوصاً نوجوانوں کو متحرک کیا جاتا ہے۔ یہ متحرک ہونا بظاہر شعور کی علامت لگتا ہے، مگر اگر اس کے پیچھے دلیل کے بجائے صرف جذبات کارفرما ہوں تو یہ ایک خطرناک رجحان بن سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا نوجوانوں کو حقیقت سے روشناس کرایا جا رہا ہے یا انہیں ایک خاص زاویے سے سوچنے پر آمادہ کیا جا رہا ہے؟۔
قیادت کا اصل امتحان بحران پیدا کرنے میں نہیں بلکہ بحران کو ختم کرنے میں ہوتا ہے۔ اگر ہر تقریر میں الزام تراشی، ہر بیان میں اشتعال، اور ہر قدم میں تصادم کی جھلک ہو تو یہ اصلاح کی کوشش کم اور انتشار کی فضا زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ ایک سنجیدہ قیادت اپنے لہجے میں توازن، اپنے مطالبات میں حقیقت پسندی اور اپنے طرزِ عمل میں تحمل رکھتی ہے۔ لیکن اگر سیاست کا محور ہی کشیدگی کو برقرار رکھنا بن جائے تو اس کے اثرات معاشرے پر منفی ہی مرتب ہوتے ہیں۔
یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ عوامی مسائل کو کس حد تک حل کیا گیا ہے اور کس حد تک انہیں صرف اجاگر کیا گیا ہے۔ مسائل کو اجاگر کرنا یقیناً ضروری ہے، مگر اس سے زیادہ اہم ان کا دیرپا حل تلاش کرنا ہے۔ اگر ہر کامیابی کے بعد ایک نئی تحریک شروع ہو جائے تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ آیا مقصد واقعی حل ہے یا محض دباو¿ کو برقرار رکھنا۔
عوامی اعتماد کسی بھی تحریک کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتا ہے۔ مگر جب یہی اعتماد بار بار آزمائش میں ڈالا جائے، تو اس میں دراڑیں پڑنا شروع ہو جاتی ہیں۔ عوام کو صرف نعروں اور جذباتی اپیلوں سے زیادہ، ٹھوس نتائج کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ان کے مسائل واقعی حل ہو رہے ہیں یا صرف سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
آج کے دور میں سب سے بڑی ضرورت شعور کی ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ ہر بیانیے کو تنقیدی نظر سے دیکھیں، ہر دعوے کو پرکھیں، اور ہر قیادت کے عمل کو اس کے نتائج کی روشنی میں جانچیں۔ اندھی تقلید نہ صرف نقصان دہ ہے بلکہ یہ ان قوتوں کو مزید مضبوط کرتی ہے جو عوامی جذبات کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتی ہیں۔
یہ وقت ہے کہ عوام خود فیصلہ کریں کہ کون ان کے حقیقی مسائل کا حل چاہتا ہے اور کون ان مسائل کو اپنی سیاست کا ایندھن بنا رہا ہے۔ کیونکہ ایک باشعور معاشرہ ہی ایسی قیادت کو جنم دیتا ہے جو واقعی خدمت کا جذبہ رکھتی ہو، نہ کہ صرف طاقت کے حصول کا خواب۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ بیانیے کی خوبصورتی سے زیادہ اس کی سچائی اہم ہوتی ہے۔ الفاظ کی چمک دمک وقتی طور پر متاثر کر سکتی ہے، مگر حقیقت ہمیشہ اپنے آپ کو منوا لیتی ہے۔ عوام اگر بصیرت کا دامن تھام لیں تو کوئی بھی بیانیہ انہیں زیادہ دیر تک گمراہ نہیں کر سکتا۔
یہی وہ شعور ہے جو کسی بھی قوم کو مضبوط بناتا ہے.... اور یہی وہ راستہ ہے جو انہیں حقیقی ترقی اور استحکام کی طرف لے جاتا ہے۔

مزیدخبریں