پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے، دہشتگردی خطے کے لیے خطرہ ہے، وزیراعظم شہباز شریف

12:05 PM, 1 Sep, 2025

شنگھائی: وزیراعظم شہباز شریف نے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور ہمسایہ ممالک سے بہتر تعلقات کا خواہاں ہے، لیکن انتہا پسندی اور دہشتگردی اس امن کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ مکالمے، سفارتکاری اور پرامن بقائے باہمی پر یقین رکھا ہے، اور وہ تمام بین الاقوامی اور دوطرفہ معاہدوں کی پاسداری کرتا ہے۔

شہباز شریف نے چینی صدر شی جن پنگ کی قیادت کو سراہا اور کہا کہ چین کی کامیابیاں ان کی بصیرت افروز قیادت کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے پاک-چین اقتصادی راہداری (CPEC) کو دونوں ملکوں کے درمیان مثالی تعاون کا منصوبہ قرار دیا۔

وزیراعظم نے ایران پر اسرائیلی حملے کو بلاجواز اور قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ غزہ میں جاری ظلم اور انسانی بحران عالمی ضمیر کے لیے ایک مسلسل اذیت ہے۔ پاکستان فلسطین کے لیے دو ریاستی حل کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

انہوں نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات میں غیر ملکی عناصر کے ملوث ہونے کے شواہد کا ذکر کیا اور کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد قربانیاں دی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ ممالک دہشتگردی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں، لیکن دنیا اب ان کی باتوں پر یقین نہیں کرتی۔

شہباز شریف نے افغانستان میں امن کو پاکستان کی خواہش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم ہر مسئلے کا حل بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے چاہتے ہیں۔

انہوں نے پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں، شدید بارشوں اور تباہ کن سیلاب کی صورتحال پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ ملک کو ماحولیاتی تباہی کا سامنا ہے، جس میں انفرااسٹرکچر، فصلیں اور مویشی شدید متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری، خاص طور پر چین کے تعاون کو سراہا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ خطے کی ترقی کے لیے زمینی، فضائی اور ریلوے رابطوں کو بہتر بنانا ہوگا، تاکہ تجارتی راستے مضبوط ہوں اور علاقائی انضمام کو فروغ ملے۔

معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان میں مہنگائی میں کمی، کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس اور اسٹاک مارکیٹ میں بہتری آئی ہے۔ نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور روزگار کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی معاشی ترقی کا منصوبہ تین بڑے ستونوں پر کھڑا ہے جس میں سرمایہ کاری میں اضافہ (تجارت، زراعت، آئی ٹی اور معدنیات) ،  تحقیق اور جدت کی حوصلہ افزائی اور ٹیکس نظام میں اصلاحات ہے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ ہم سب کو مل کر 3.5 ارب ایس سی او عوام کی خوشحالی، امن اور استحکام کے لیے کام کرنا ہوگا۔ یہ راستہ آسان نہیں، لیکن ہمارا عزم مضبوط ہے۔

مزیدخبریں