کیا ڈیم سیلاب کا علاج ہیں؟

09:20 AM, 1 Sep, 2025

پنجاب اس وقت شدید ترین سیلابی صورتحال سے دوچار ہے۔ اس وقت چناب دریا میں آٹھ لاکھ کیوسک، جبکہ راوی اور ستلج میں بھی ایک لاکھ کیوسک کے بڑے بہاؤ گزر رہے ہیں۔ یہ پانی بھارت سے داخل ہوا ہے۔ 20 اگست سے بھارت کی جانب پاکستانی سرحد کے قریب علاقوں میں غیر معمولی بارشیں ہو رہی ہیں۔ اس کی تفصیل کچھ یوں ہے: ہماچل پردیش میں معمول سے 500 فیصد زیادہ بارش ہوئی۔ 25 اگست تک وہاں 150 سے زیادہ افراد جاں بحق ہو چکے تھے۔ ریاست کی دو اہم شاہراہیں اور سکول بھی بند کرنا پڑے۔ ہریانہ میں بھی معمول سے 700 فیصد زیادہ بارش ہوئی۔ جموں و کشمیر میں ایک دن میں 368 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ 26 اگست کو ڈوڈا ضلع میں شدید بارش کے نتیجے میں ندی نالوں میں بڑے سیلابی ریلے آئے۔ بھارتی پنجاب میں بھی غیر معمولی بارشیں ہوئیں، بعض اطلاعات کے مطابق وہاں معمول سے 1200 فیصد زیادہ بارش ہوئی۔ ان شدید بارشوں کے سبب بھارت کی جانب سے باکھڑا، پونگ اور رنجیت ساگر ڈیم کے اسپل وے کھولے گئے۔ چناب پر بگلیہار اور سلال ڈیم بھر جانے کے بعد مزید پانی ذخیرہ کرنا ممکن نہ رہا۔ یہ تمام بہاؤ دریاؤں کے ذریعے پاکستان میں داخل ہوا، جس سے پنجاب کے نشیبی علاقوں اور دریائی پٹی میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ فی الحال بھارت سے آنے والے پانی کی مقدار میں کمی ہوئی ہے، مگر یہ بہاؤ چند روز مزید رہے گا اور ایک ہفتے کے اندر سندھ میں داخل ہو گا۔ اندازے کے مطابق ستمبر کے پہلے ہفتے میں سندھ میں چھ سے سات لاکھ کیوسک پانی پہنچ سکتا ہے۔ اگر سندھ دریا کے کیچمنٹ ایریا یا کوہِ سلیمان سے بڑے ریلے شامل ہو گئے تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ اس لیے سندھ کو بدترین حالات کے پیشِ نظر تیاری کرنی چاہیے۔ ادھر مشرقی دریاؤں (ستلج، راوی اور چناب) میں آنے والے سیلاب کے بعد پنجاب میں نئے ڈیم بنانے کی باتیں شروع ہو گئی ہیں۔ کچھ لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اگر کالا باغ ڈیم ہوتا تو پنجاب میں یہ سیلاب نہ آتا۔ ایسے خیالات رکھنے والے نہ جغرافیہ سے واقف ہیں نہ ڈیموں کی سائنس سے۔ چناب کے پہلے بیراج مرالہ سے کالا باغ تک کا فضائی فاصلہ بھی تقریباً 275 کلومیٹر ہے۔ اس لیے جغرافیہ کے الف ب سے واقف شخص کبھی ایسی بات نہ کرے گا۔ جہاں تک تینوں مشرقی دریاؤں پر ڈیم بنانے کا تعلق ہے تو انجینئرنگ ماہرین جانتے ہیں کہ پاکستان میں ان دریاؤں پر ڈیم بنانے کے لیے موزوں مقامات موجود نہیں ہیں۔ چولستان منصوبے میں چناب پر تین چھوٹے ڈیم بنانے کی تجویز تھی، مگر دس لاکھ کیوسک کے بہاؤ میں ان کا حال کیا ہوتا؟ چناب میں ماضی میں بھی بڑی بڑی لہریں آتی رہی ہیں۔ 2014 ء میں نو لاکھ کیوسک کے بہانے تباہی مچائی تھی۔ اس بار بھی قادرآباد بیراج کو بچانے کے لیے پشتہ توڑنا پڑا۔ چھوٹے ڈیم بڑے اور اچانک آنے والے بہاؤ کو برداشت نہیں کر سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیم میں پانی آہستہ بھرا جاتا ہے تاکہ ڈیم کے ڈھانچے پر دباؤ کم رہے۔ تربیلا ڈیم میں پانی کی ایک سطح پر یومیہ ایک فوٹو سے زیادہ پانی نہیں بھرا جاتا۔ قریبی مثال لیبیا کے شہر درنہ کی ہے، جہاں 10 ستمبر 2023ء کو سیلاب کے باعث دو ڈیم ٹوٹ گئے، جس سے 11 ہزار افراد مارے گئے۔ بڑی بارشوں اور سیلاب میں ڈیم روکنے کے بجائے تباہی کا سبب بن سکتے ہیں۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ راوی اور چناب میں اتنا بڑا سیلاب 38 برس بعد آیا ہے۔ ان دریاؤں کے خشک پیٹ میں انسانی آبادیاں، کاشت کاری اور دیہات بن چکے ہیں، اس لیے نقصان زیادہ ہوا۔ سیالکوٹ میں ایک دن میں ساڑھے تین سو ملی میٹر بارش سے سیلاب آیا۔ وفاقی وزیر خواجہ آصف نے کہا کہ قدرتی راستوں میں رکاوٹوں اور تجاوزات سے تباہی ہوئی۔ پاکستان میں دریاؤں اور ندی نالوں میں رکاوٹیں جانی و مالی نقصان کا سبب بنتی رہی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اب تک آنے والے تمام بہاؤ دریاؤں اور بیراجوں کی گنجائش کے اندر تھے، مگر نقصان پھر بھی بڑا ہوا۔ انسانی غلطیاں ان سیلابوں کو مزید خطرناک بنا رہی ہیں۔ جب تک غیر قانونی تعمیرات اور رکاوٹیں ختم نہیں ہوں گی، معمول کی بارشیں بھی تباہی مچاتی رہیں گی۔

مزیدخبریں