خیبر پختونخواہ میں تباہی مچانے کے بعد پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں۔ شہر ہو ںیا دیہات ، جو بھی پانی کی زد میں آ رہا ہے، بغیر کسی تفریق کے نشانہ بن رہا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ پنجا ب کے بعد اس پانی کا رخ صوبہ سندھ کی جانب ہے۔ اگلے ایک دو دن میں پانی سندھ میں داخل ہو جائے گا۔ تخمینہ ہے کہ تقریبا ً12 لاکھ لوگ اس سے متاثر ہوں گے۔ آبی ماہرین اور سنجیدہ صحافتی حلقے کئی دن سے توجہ دلا رہے ہیں کہ سیلابی پانی کے صوبہ سندھ میں داخل ہو نے سے قبل، حکومت سندھ کو شہریوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کا عمل مکمل کر لینا چاہیے۔ اس طرح شہریوں کی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی پیش گوئی ہے کہ آنے والے دنوں میں سکھر اور کوٹری بیراج میں پانی کا بہاو ٔ 8 سے 12 لاکھ کیوسک کے درمیان متوقع ہے۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ سندھ کے نشیبی علاقوں میں اونچے درجے کا سیلاب آئے گا۔امید ہے کہ حکومت سندھ صوبائی اور وفاقی اداروں کی مدد سے تمام اقدامات کو یقینی بنائے گی۔
گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ عموماً بارشیں ، سیلاب، زلزلے وغیرہ قدرتی آفات ہیں، جوا نسان کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہیں۔ تاہم آج کی دنیا میں بیشتر آفات کو قدرتی(natural calamities) کے بجائے انسان کی پیدا کردہ (man-made) سمجھا جاتا ہے۔ اس خیال کے پیچھے یہ سوچ کارفرما ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے زمانے میں بیشتر موسمیاتی حالات کی پیش گوئی ممکن ہے۔ بارشوں ، سیلابوں، قحط سالی وغیرہ کے متعلق قبل از وقت اطلاعات موصول ہو جاتی ہیں۔ اس تناظر میں متعلقہ اداروں اور ذمہ داروں کا فر ض ہے کہ وہ کسی آفت کے نازل ہونے سے پہلے اس کے اثرات بد کی روک تھام یا کمی کیلئے مناسب اقدامات کر یں۔ مثال کے طور پر کئی دن سے ہم آگاہ ہیں کہ پنجاب سے سیلاب تیزی سے سندھ کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اس صورتحال میں صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کیلئے انتظامات کریں۔ اگر معلومات کے باوجود سیلاب سے نمٹنے اور لوگوں کو بچانے کی تدبیر نہیں کی جاتی تو ان بارشوں یا سیلاب کو ہم قدرتی آفت سمجھیں یا انسان کی پیدا کردہ ؟ خیبر پختونخواہ اور پنجاب میں آنے والی سیلابی تباہی کو بھی اس کسوٹی پر پرکھا جا سکتا ہے کہ کونسے عوامل خالصتاً قدرتی تھے اور کون سے متعلقہ اداروںکی سستی اور غفلت کا شاخسانہ ۔ یہ بھی دیکھئے کہ برسوں سے ہم نے درختوں اور جنگلات کی کٹائی ، آبی گزرگاہوں کے راستے روکنے، دریاو ں کے راستے میں قانونی یا غیر قانونی بستیاں بسانے کا سلسلہ بغیر کسی رکاوٹ کے شروع کر رکھا ہے۔ عشروں سے ہم آبی ذخائر اور ڈیموں کی تعمیر سے قاصر ہیں ۔ ان حالات میں جب بارشیں ، سیلاب کی شکل اختیار کرتی ہیں، پانی سنبھالے نہیں سنبھلتا ، تو کیا یہ قدرت کا قصور ہے یا خود ہماری غفلت اور نااہلی کا؟
بہرحال، وجوہات سے قطع نظر،سیلاب کی وجہ سے جو تباہی آئی ہے وہ نہایت افسوسناک ہے۔کچھ دن پہلے مجھے دفتر کے کچھ ساتھیوں نے بتایا کہ ان کے گھر اور مویشی سیلاب کا نشانہ بن گئے ہیں۔ یہ بتاتے وقت ان کی آنکھوں میں نمی تھی۔اس دن سے میرا دل بے حد دکھی ہے۔ خیال آتا ہے کہ کس محبت اور چاہت سے آدمی مکان کو گھر بناتا ہے۔ یہ گھر کسی امیر کا عالیشان محل ہو یا کسی غریب کا جھونپڑا۔ وہاں اس کے دکھ سکھ، خوشی غمی کے لمحات گزرتے ہیں۔ پانی کا ایک بے قابو ریلا آئے اور سب کچھ بہا کر لے جائے تو مکینوں پر کیسی قیامت گزرتی ہو گی۔ یہ اینٹ،مٹی ، پتھر، گارے کا گھر یا جھونپڑا، مکینو ں کی زندگی بلکہ پوری کائنات ہوتا ہے۔سنتے ہیں کہ مویشیوں میں دیہاتیوں کی جان ہوتی ہے۔ یہ بالکل خاندان کے افراد کی طرح اپنے جانوروں کا خیال رکھتے ہیں۔ ان کے کرب کا اندازہ کریں جن کی رہائش گاہیں، مال اسباب ، مویشی، پانی میں بہہ گئے اور وہ کچھ بھی نہیں کر سکے۔ ان کا بھی سوچیں جنکے پیارے مکان کی چھتیں گرنے سے جاں بحق ہو گئے یا پانی کے بے قابو ریلے کی نذر ہو گئے۔اس ماں کی کیفیت کا اندازہ لگائیں جس کے تین جڑواں بچے سیلاب میں اللہ کو پیارے ہو گئے۔ یہ صرف دور دراز دیہاتوں کی کہانی نہیں ہے۔اچھے بھلے شہری علاقوں اور معروف ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا بھی یہی قصہ ہے۔ سوشل میڈیا کے دانشوروں کو تو صرف پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی اور علیم خان دکھائی دے ہے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بہت سے دوسرے علاقوں کی بھی یہ صورتحال ہے۔
مشکل یہ ہے کہ سوشل میڈیا کی بدولت آج کل ہر دوسرا شخص ماہر ماحولیات اور آؓبی امور کا ماہر بنا بیٹھا ہے۔ سیاسی بغض میں لکھی بے کار پوسٹوں کے انبوہ کثیر میں اصل اور کام کی بات کہنے والوں کی آوازیں بھی دب کر رہ جاتی ہیں۔ سیلاب سے متعلق حقیقی معلومات تو جائیں بھاڑ میں، آپ اپنی نام نہاد دانشوری اور آزادی کا لطف اٹھائیے۔ بہت اچھا ہو کہ سوشل میڈیا پر طبع آزمائی کرنے کے بجائے ہم اپنے ارد گرد نگاہ ڈالیں۔ہمارے حلقہ احباب یا ملازمین میں یقینا ایسے لوگ موجود ہوں گے جنہیں ہماری امداد کی ضرورت ہے۔ حکومت ، حکومتی شخصیات یا کسی سوسائٹی کے مالک کو گالیاں نکال کر کسی مصیبت زدہ کا بھلا نہیں ہو سکتا۔مصیبت کی ان گھڑیوں میں ضرورت اس امر کی ہے کہ کسی مصیبت زدہ کی عملی امداد کر کے اس مشکل کے خاتمے میں اپنا حصہ ڈالیں۔غور کیجئے ، شاید کسی کو ہماری مالی مدد کی ضرورت ہو، کسی کو ہمارے گھر میں چند راتیں بسر کرنے کا آسرا درکار ہو، کوئی اپنا قیمتی سامان ، اپنی قیمتی دستاویزات امانتا رکھوانے کے لئے ہماری طرف دیکھ رہا ہو۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی حیثیت اور بساط کے مطابق کسی مصیبت زدہ پر آئی مشکل کا بوجھ اٹھانے میں اس کی مدد کریں۔
کچھ احباب کا کہنا ہے کہ اگر اب بھی ہم بات نہ کریں تو کب کریں؟ یہ سوال میری تحقیقی اور صحافتی دلچسپی کا موضوع ہے۔آفات کی مؤثر انتظام کاری (disaster management)کے لئے لازم ہے کہ کسی قدرتی آفت کے نزول سے پہلے او ر بعد میں یعنی اس کی pre and post phases پر بھی توجہ مبذول ہو۔ ہمارا رویہ یہ ہے کہ جب کوئی آفت نازل ہوتی ہے۔ لوگ مرتے ہیں۔املاک تباہ ہوتی ہیں، افسوس ناک مناظر دکھائی دیتے ہیں، تب تک متعلقہ اداروں اور میڈیا کی توجہ اس جانب مبذول رہتی ہے۔ عوام بھی وقتی ابال کے تحت حکمرانوں پر چڑھ دوڑتے ہیں۔ چند دن کے بعد اخبارات کی سرخیاں اور اینکروں کی آوازیں بھی معدوم ہونے لگتی ہیں۔ عوام بھی سب بھول بھال کر اپنے کاموں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ کسی آفت کے گزر جانے کے بعد آبادکاری کا مرحلہ ختم ہونے تک مصیبت زدگان کے مسائل کو زیر بحث لائے۔اسے المیہ ہی کہنا چاہیے کہ آج تک 2005ء میں آنے والے زلزلے اور 2010ء میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں جو لوگ بے گھر ہوئے تھے ، ان کی آباد کاری کا مرحلہ ابھی تک سو فیصد مکمل نہیں ہوا ہے۔ لیکن برسوں سے میڈیا اور عوام ان مصیبت زدگان کو بھول چکے ہیں۔ یہ ایک طویل موضوع ہے۔ اس کا تفصیلی ذکر اگلے کسی کالم میں۔
فی الحال گزارش ہے کہ سیلاب کی آفت کا شکار لوگوں کی مدد کیجئے۔ گالی گلوچ کو کسی اور وقت کے لئے اٹھا رکھیے۔ اپنے سیاسی او ر شخصی اختلافات کو کچھ دن کے لئے بھلاکر متاثرین کی امداد کیجئے۔سیلاب زدگان کی امداد کیلئے بہت سے سرکاری اور غیر سرکاری ادارے اور تنظیمیں متحرک ہیں۔ تاہم جس پیمانے پر تباہی آئی ہے، اس سے نمٹنا تن تنہا کسی وفاقی یا صوبائی حکومت کے بس کی بات نہیں ہے۔ ہم سب کو مل کر متاثرین کی بحالی اور آبادکاری کیلئے کام کرنا ہوگا۔قومی سیاسی جماعتوں اور ان کے اراکین پر بھی لازم ہے کہ سیاسی اور اختلافی بیان بازی کو ایک طرف رکھ کر متاثرین کی امداد پر توجہ دیں۔
سیلاب : گالی گلوچ نہیں، امداد کیجئے !!
09:19 AM, 1 Sep, 2025