آزاد ملک اور آزاد خارجہ پالیسی رکھنے والے ملک اور اس کی قیادتیں اپنے ملک کے مفاد میں کس طرح فیصلے کرتی ہیں۔ خطے کی صورتحال چیخ چیخ کر ہماری توجہ ادھر مبذول کروا رہی ہے۔ امریکی صدر کی طرف سے دنیا کے قریباً ستر ممالک کے ساتھ ٹیرف وار شروع ہوئی تو جاپان بھی اس کی زد میں آیا ، جاپانیوں نے امریکی صدر سے درخواست کی کہ اگر وہ جاپان پر بھاری ٹیرف عائد نہ کریں تو جاپان اس کے بدلے میں امریکہ میں ساڑھے پانچ سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر سکتا ہے۔ اتنی بڑی رقم کا سن کر ڈونلڈ ٹرمپ کے منہ میں پانی آگیا، اس نے سوچا کہ جاپان اس کے قدموں پر گر گیا ہے لہٰذا اسے جی بھر کے نچوڑلو۔ ٹرمپ نے اس کے ساتھ ہی شرط رکھ دی کہ جاپان امریکہ کے اندر کس شعبے میں سرمایہ کاری کرے گا، اس کا فیصلہ امریکہ کرے گا مزید برآں اس سرمایہ کاری سے ہونے والا منافع 90فیصد امریکہ رکھے گا جبکہ جاپان کا اس میں حصہ صرف دس فیصد ہو گا۔ جاپان کی سرمایہ کاری اور تجارت کے حوالے سے اہم شخصیت اور مذاکرات کار یوشی آکی ذاوا معاملات کو حتمی شکل دینے کے لئے امریکہ پرواز کرنے ہی والے تھے ۔ ٹرمپ کی شرائط سامنے آگئیں، وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ انہوں نے اپنی حکومت سے کہا کہ ہمیں بائولے کتے نے نہیں کاٹا کہ ان شرائط پر امریکہ میں سرمایہ کاری کریں پس انہوں نے امریکہ جانے کا پروگرام ملتوی کر دیا اور امریکہ سے کہا کہ ابھی ہم اس حوالے سے مزید سوچ بچائو کرنا چاہتے ہیں اور اپنی پیشکش کو کچھ سنوارنا چاہتے ہیں لہٰذا پھر سہی۔
یوشی آکی زاوا کا امریکی دورہ ملتوی ہونے کی خبر بھارتی حکومت کے کانوں میں پڑی تو انہوں نے ہنگامی طور پر نریندرا مودی کو جاپان کے دورے کے لئے بھجوا دیا، جنہوں نے جاپان پہنچ کر انہیں آفر دی کہ بھارت ایک بڑا ملک بڑی معیشت ہے۔ جاپان کے ساتھ دیرینہ کاروباری رشتوں میں بندھا ہے۔ بھارت میں جاپان کے تعاون سے بلٹ ٹرین، الیکٹرک کاروں کے علاوہ اور کئی باہمی دلچسپی کے منصوبے موجود ہیں۔ بھارت میں ون ونڈو آپریشن موجود ہے جس پر جاپان پہلے ہی اپنے اطمینان کا اظہار کر چکا ہے۔ وہاں گیس اور بجلی بعض دوسرے ملکوں کی نسبت سستی ہے لہٰذا وہ جاپان کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ بھارت میں اپنی پسند کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرے اور جہاں تک منافع کا تعلق ہے تو بھارت اس حوالے سے جاپان کی خواہشات کا احترام کرے گا۔
اندازہ کیجئے کیا جاپان ایسی پیشکش کو مسترد کر سکتا ہے یقینا نہیں، اب اس پیشکش کے مطابق جاپان بھارت میں ایک بڑی انویسٹمنٹ کرنے جا رہا ہے، اس کے ماہرین اگلے مہینے معاملات کو حتمی شکل دینے کے لئے بھارت کا دورہ کریں گے۔ جاپان کے مختصر دورے کے بعد مودی چین پہنچے جہاں ان کے علاوہ ایک اور ایٹمی طاقت روس کے صدر کا شاندار استقبال کیا گیا۔ شنگھائی تنظیم کے اس اہم ترین اجلاس میں چار ایٹمی طاقتیں اکٹھی ہوں گی۔ چین میزبان جبکہ پاکستان بھارت اور روس مہمان ہیں۔ تنظیم کے بنیادی ممبران کے علاوہ متعدد دیگر ممالک بھی اس اجلاس میں شریک ہو رہے ہیں، جن میں ایران اور افغانستان اس اعتبار سے اہم ہیں کہ امریکہ نے انہیں تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ افغانستان میں امریکہ کے لئے شدید نفرت کے جذبات پائے جاتے ہیں اور ایسا ہی معاملہ ایران کا ہے جسے امریکہ نے صرف ایک خوددار ملک ہونے کے سبب گزشتہ پینتالیس برس تک خوب تنگ کیااور اسے عالمی تجارتی پابندیوں میں ناصرف جکڑے رکھا بلکہ اسرائیل سے اس پر حملہ کرایا اور اسرائیل کی مدد کرتے ہوئے خود بھی ایران پر حملہ کیا۔ افغانستان اور ایران دونوں ایسے خوددار ملک ہیں جہاں کے عوام امریکی اور یورپی استعمار کے سامنے ڈٹے رہے۔ انہوں نے جھکنے سے انکار کرتے ہوئے مسلمان امہ کیلئے ایک ایسی مثال پیش کی جس پر بے حد فخر کیا جا سکتا ہے۔ ایسی ہی ایک مثال فلسطینی عوام نے پیش کی ہے جنہوںنے اسرائیل اور اس کی پشت پر کھڑے پورے یورپ کا مقابلہ کیا ہے۔
ایران ، افغانستان، روس اور چین امریکی تسلط سے صد فیصد آزاد ہیں۔ بھارت نے آئندہ دو ماہ میں فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اپنا مستقبل کہاں دیکھتا ہے۔ یوں پاکستان واحد ملک ہے جو نیم دروں نیم بیروں کی حالت میں ہے۔ حکومت پاکستان کی اپنی مصلحتیں اور مجبوریاں یقینا ہیں، انہی کے پیش نظر اس کی خارجہ اور دیگر پالیسیاں ترتیب دی جاتی ہیں لیکن پاکستان کے عوام امریکہ کی مسلم کش پالیسیوں کے سبب اس کے لئے محبت کے جذبات کم رکھتے ہیں۔مختلف دور کی امریکی حکومتوں کی پالیسیاں اگر حقیقت پسندانہ ہوتیں اور وہ مختلف ممالک کے معاملات میں ٹانگ اڑانے اور ان کے وسائل پر قبضے کرنے کی بجائے آج چین کی طرح باہمی احترام کے جذبوں کے تحت تجارتی تعلقات کو ترجیح دیتا تو خطے میں اس کے لئے نفرت پیدا نہ ہوتی۔ امریکی پالیسیوں کے سبب آج ایشیا میں قریباً تمام ملک اس کے مخالف بلاک میں جا چکے ہیں جبکہ درجنوں ملک ایسے ہیں جو اب امریکہ کی طرف اپنا جھکائو کم کر کے چینی بلاک سے دست تعاون بڑھانا چاہتے ہیں، اس کی سب سے بڑی وجہ چین کی امن پالیسی ہے۔ وہ جنگوں میں الجھنا اور دوسروں کو الجھانا نہیں چاہتا بلکہ تجارت کو بڑھاتے ہوئے تمام حلیفوں کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اپنے وسائل کو ترقی دیں۔ انہیں اپنے لئے اور دوسروں کے لئے استعمال کریں۔ چین کی خارجہ پالیسی کا اہم جزو یہ ہے کہ اس نے آج تک اپنے کسی حلیف کے ساتھ بے وفائی نہیں کی۔
چین نے شنگھائی تنظیم کے اجلاس کے موقع پر تان جئینگ کی بندرگاہ کے پاس ایک عظیم الشان پریڈ کا اہتمام بھی کیا ہے جس میں وہاں آئے ہوئے ممالک کے سربراہوں کو وہ اسلحہ بھی دیکھنے کا موقع ملے گا جو ابھی تک ان کی نظروں سے اوجھل رہا ہے۔ اس پریڈ اور اسلحے کی نمائش سے دنیا کو امریکی اور یورپی اسلحے کا متبادل بھی نظر آئے گا۔ شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس ایسے زمانے میں ہو رہا ہے جب دنیا ٹرمپ کے ٹیرف اٹیک سے بچنے کے راستے تلاش کر رہی ہے اور چینی جہازوں اور اس کی ٹیکنالوجی نے پاکستان کے پائلٹوں کی مہارت سے یورپی ٹیکنالوجی اور وار مشین کو شکست سے دوچار کیا ہے۔
ٹرمپ اور ٹرمپ انتظامیہ آج کل جو فیصلہ کرتے ہیں وہ ان کے گلے پڑ جاتا ہے۔ وہ سینٹ اور کانگریس کو نظرانداز کرتے ہوئے فیصلے کر رہے ہیں ، جس کے سبب ان کی اپنی پارٹی اور امریکی عوام میں ان کے مخالف جذبات بھڑک رہے ہیں۔ ایک امریکی عدالت نے ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی کیخلاف فیصلہ دیا ہے۔ دنیا کو جمہوری اقدار کا سبق پڑھانے والے ٹرمپ نے اس فیصلے کو ماننے سے انکار کر دیا ہے جبکہ ٹرمپ کو اقتدار میں لانے والے آج سر پکڑے بیٹھے ہیں اور اپنے کئے پر پچھتا رہے ہیں۔ ان میں پاکستانی اور بھارتی ووٹرز سرفہرست ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو ہر محاذ پر شکست کا سامنا ہے۔
ٹرمپ کو ہر محاذ پر شکست
09:18 AM, 1 Sep, 2025