سرنڈر مودی نے پاک بھارت جنگ میں منہ کالا کرانے کے بعد ازلی کمینگی کا مظاہرہ کیا اور عین اس وقت جب مسلسل بارشوں سے پاکستان میں ہزار سے زائد اموات اور کروڑوں اربوں کی املاک تباہ ہو رہی تھیں، اس نے اپنی طرف سے آنے والے دریاؤں کے منہ کھول دئیے سراسر آبی جارحیت، پنجاب اور سندھ نشانہ، سال بھر خشک رہنے والا ستلج کناروں سے باہر آ گیا۔ گندے نالے کی صورت بہنے والا راوی راتوں رات ایسا بپھرا کہ شاہدرہ اور ارد گرد کی بستیوں میں رہنے والوں کے گھروں میں گھس گیا، چناب نے طاقت کا جلوہ دکھایا اور حدود سے تجاوز کرتا میلوں تک پھیل گیا۔ کچے گھڑے پر تیرنے والی داستانیں خوف میں بدل گئیں، پنجاب کی فلاح و بہبود اور ترقی کیلئے دن رات کام کرنے والی وزیراعلیٰ مریم نواز راوی کے پل پر کھڑی بپھری موجوں کی تباہ کاریوں پر پریشان تھیں۔ دہرا عذاب، تین سو ملی میٹر بارش اور دریائوں میں 10 لاکھ کیوسک پانی، یا اللہ رحم فرما، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے حکم پر فوج کے نڈر جوانوں نے پہلے خیبر پختونخوا کے دشوار گزار پہاڑی راستوں تک پہنچ کر سیلاب میں پھنسے لوگوں کو ریسکیو کیا۔ پل بنائے راستے کھولے سڑکوں کی مرمت کی۔ لوگوں کو موت کے منہ سے بچایا، 600 ٹن راشن فراہم کیا، دراز زلف ’’شہد‘‘ سے دل بہلاتا رہا۔ دریائوں میں طغیانی کی اطلاعات پر اللہ کے سپاہی پنجاب کے مختلف شہروں میں زیر آب علاقوں کے مکینوں اور ان کی املاک اور ڈھور ڈنگروں کو بچانے میں لگ گئے۔ محترمہ مریم نواز کی ہدایت پر شہری فورس امدادی کاموں میں دن رات مصروف رہی، جس سے نقصانات میں گزشتہ برسوں کی نسبت خاصی کمی دیکھنے میں آئی، سیلاب ختم نہیں ہوا، سینٹرل اور جنوبی پنجاب میں تباہی مچاتا ہوا دریائے سندھ کی گود میں جا گرے گا۔ سندھ کے علاقے زیر آب آئیں گے۔ کچے کے ڈاکوؤں کو پولیس تباہ نہیں کر سکی، سیلاب ان کی کمین گاہیں اور فصلیں برباد کر دے گا۔ جس کے بعد وہ گھوٹکی میں جلوس نکال کر حکومت سے مدد طلب کریں گے۔ سیلاب کی تباہ کاریاں سیاستدانوں کی بیان بازیاں، سیلاب پہلی بار نہیں آیا۔ ہر سال آتا ہے اور تباہی مچا کر سمندر برد ہو جاتا ہے، اس سال شدت سے آیا ہے۔ آئندہ سال 28 فیصد زیادہ بارشیں ہوں گی۔ ہم صرف بیانات میں اظہار تشویش کر کے عوام کا جی بہلائیں گے بنگلہ دیش نے دریائوں کا رخ موڑ دیا۔ ہم 77 سال میں تین ساڑھے تین ڈیموں کے سوا کچھ نہ کر سکے، کالا باغ ڈیم نہ بن سکا، عوام سبز باغ دیکھ دیکھ کر بہل گئے۔ اب اپنی تباہ فصلیں اور منہدم گھر دیکھ کر پریشان ہیں، دنیا سے امداد کے نام پر بھیک مانگیں گے۔ بیس بیس لاکھ معاوضہ دیں گے لیکن ڈیم نا منظور، جب تک تباہ شدہ مکانات کی بنیادیں بھری جائیں گی سیلاب پھر تباہی مچانے آ جائیں گے۔ ’’زخم کے بھرنے تک ناخن نہ بڑھ جائیں گے کیا؟‘‘ یاد رکھیں دریا طاقت میں ہم سے بڑے ہیں بہاؤ کے قدرتی راستے روکنے، کناروں پر ہوٹل، مارکیٹیں، پلازے اور شہر بسانے سے بپھر جاتے ہیں اور تباہی مچاتے ہیں، اس تباہی کو ڈیمز کی تعمیر، کناروں پر تعمیرات سے گریز اور پانی کے ذخائر کے لیے انفرا سٹرکچر بنانے اور عملدرآمد سے بھی روکا جا سکتا ہے۔ (اچھی خبر، وزیر اعلیٰ پنجاب نے انفرا سٹرکچر بنانے کا حکم دے دیا عملدرآمد کی بھی نگرانی کریں)۔
بد قسمتی، دریا ہی نہیں پی ٹی آئی کے بانی بھی پچھلے کئی دنوں سے بپھرے بپھرے بکھرے بکھرے اور الجھے الجھے نظر آ رہے ہیں۔ ’’بگڑے بگڑے میری سرکار نظر آتے ہیں، دل کی بربادی کے آثار نظر آتے ہیں‘‘ جب سے 9 مئی کے مجرموں کو سزائوں کے ’’کلائوڈ برسٹ‘‘ ہوئے ہیں خان کے مزاج میں برہمی عروج پر ہے۔ فیلڈ مارشل پر ڈائریکٹ رکیک حملے، نام لے کر کہا وہ مجھ سے معافی مانگیں، جلائو گھیرائو فوج نے کرایا۔ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کور کمانڈر کے گھر کے باہر پتلون لہرانے، پکڑانے اور بھنگڑے ڈالنے والے کارکنوں کو اکسانے والوں کا تعلق کیا فوج سے تھا؟ جھوٹ بولیں اتنا نہ بولیں کہ رات کی تنہائیوں میں شرمندگی ہو، حقیقت یہ ہے کہ 9 مئی کے واقعہ نے فوج کو متحد کر دیا۔ ہارا ہوا شخص اور اس کے ڈائی ہارڈ معتقدین گالم گلوچ پر اتر آئے، گزشتہ ہفتہ کے آغاز پر ہی فیصل آباد کے رانا ثناء اللہ
کے ڈیرے پر حملہ کے مقدمہ میں ملوث 109 میں سے 59 مجرموں کو دس دس سال قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ 34 کو بری کر دیا گیا۔ سزائیں پانے والوں میں عمر ایوب، شبلی فراز، زرتاج گل، کنول شوذب بھی شامل سب فرار، وزیر اعلیٰ ہائوس میں روپوش وہیں سے بیانات کے گولے داغنے اور ٹوئٹس کی توپیں چلانے میں مصروف، بانی پی ٹی آئی سزائوں پر پہلے لال پھر آنے والی لمبی سزا کے خوف سے پیلے پڑ گئے۔ حکم صادر فرمایا، ضمنی الیکشن کا بائیکاٹ ارکان اسمبلی مستعفی پبلک اکائونٹس کمیٹی اور قائمہ کمیٹیوں سے باہر نکل آئیں اور ستمبر اکتوبر میں عوام کو باہر نکالیں خان ’’غریب مسکین ارکان اسمبلی‘‘ کے ماہانہ 5 لاکھ کے بھی دشمن ہو گئے کروڑوں، ’’نذرانہ‘‘ دے کر ٹکٹ لیے تھے۔ پیسے بھی پورے نہیں ہوئے، بے روزگار کر دئیے گئے۔ حکم کے خلاف پارٹی میں پھوٹ، بغاوت، جائیے ہم نہیں کھیلتے، ’’سیاسی کمیٹی میں تو تو میں میں‘‘ (سیکرٹری جنرل تو تو اور علیمہ باجی مبینہ طور پر میں میں کرتی رہیں) سیکرٹری جنرل نے رکیک حملوں پر استعفیٰ دے دیا۔ خان نے مسترد کر دیا۔ جنید اکبر سمیت چند مستعفی ہو گئے۔ اکثریت نے سپیکر کو آنکھ مار کر کہا پلیز استعفے منظور مت کیجئے گا حکومت نے پی ٹی آئی کو پھر مذاکرات کی دعوت دے دی، اتمام حجت، کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ طاقتوروں کی طاقت، خان کی ضد، انا اپنی جگہ، پی ٹی آئی کے بانی کو اب تک یہ احساس کیوں نہیں ہو رہا کہ سیاست میں ضد اور انا کامیابیوں سے دور لے جاتی ہے، میاں نواز شریف اور آصف زرداری کی پوری سیاسی زندگی کے اتار چڑھائو، نشیب و فراز، عروج و زوال ان کے سامنے ہے، مقبولیت کے سحر میں گرفتار ڈیئر خان صاحب اپنی موجودہ روش سے پارٹی کو نقصان پہنچا رہے ہیں، جیل سے باہر کی قیادت خصوصاً بیرسٹر گوہر اور ان کے ساتھی حکومت اور مقتدرہ سے جادو کی جپھی چاہتے ہیں لیکن خان ہر بار اپنی انتہا پسندانہ ٹوئٹ سے نہ صرف ان کی کوشش ناکام بنا دیتے ہیں بلکہ اپنی مشکلات اور سختیوں میں اضافہ کا باعث بنتے ہیں، حالیہ ٹوئٹ اور مقتدرہ کو ڈائریکٹ لڑائی کی دعوت خطرناک فوج کو لڑائیوں کا وسیع تجربہ ہے جبکہ خان کو سیاست کا بھی تجربہ نظر نہیں آتا، لگتا ہے کہ اب تو جادو کی جپھی بھی کام نہیں آئے گی، ڈاکیا خبر لایا رانا ثناء اللہ نے کہا ہے آئندہ پانچ سال میں خان پی ٹی آئی سے مائنس ہو جائیں گے یہی لمیٹڈ کمپنی چلتی رہے گی۔ ڈاکیے نے خبر سنانے کے بعد کان میں سرگرشی کی۔ ’’کپتان از آؤٹ‘‘
آبی جارحیت، سزائوں کا کلاؤڈ برسٹ
09:18 AM, 1 Sep, 2025