اسرائیلی فورسز کا صمود فلوٹیلا پر دھاوا، 500 سے زائد کارکنان گرفتار

11:49 PM, 1 Oct, 2025

غزہ / تل ابیب: غزہ کے مظلوم شہریوں کے لیے امداد لے جانے والے بین الاقوامی بحری مشن "گلوبل صمود فلوٹیلا" کو اسرائیلی فوج نے روک لیا ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق، اسرائیلی بحری افواج نے فلوٹیلا میں شامل دو کشتیوں پر دھاوا بولا اور قافلے میں موجود تمام کارکنان کو حراست میں لے لیا۔

قافلے کے منتظمین نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فورسز کے حملے کے بعد کشتیوں کا نیویگیشن اور کمیونیکیشن سسٹم بند ہو گیا اور فلوٹیلا کی لائیو نشریات اچانک منقطع ہو گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حملہ بین الاقوامی اور سمندری قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔

فلوٹیلا میں 40 سے زائد کشتیوں پر مشتمل قافلہ شامل تھا، جس میں دنیا بھر سے آئے ہوئے 500 سے زیادہ کارکنان شریک تھے۔ یہ قافلہ غذائی اور طبی امداد کے ساتھ غزہ کے محصور شہریوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا۔

قافلے میں کئی عالمی شخصیات سوار تھیں، جن میں ماحولیاتی کارکن اور نوبل انعام یافتہ گریٹا تھنبرگ، نیلسن منڈیلا کے پوتے، اور پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان بھی شامل تھے۔

رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی فوجی ایک کشتی پر سوار ہو کر اس پر کنٹرول حاصل کر چکے ہیں، جبکہ دیگر کشتیوں کی صورتحال واضح نہیں ہو سکی۔ قافلے کے منتظمین نے اعلان کیا ہے کہ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود ان کا مشن جاری رہے گا۔

یاد رہے کہ 2010 میں بھی "ماوی مرمرہ" فلوٹیلا پر اسرائیلی حملہ ہوا تھا، جس میں 9 امدادی کارکن شہید ہو گئے تھے۔ اس واقعے پر دنیا بھر میں شدید تنقید کی گئی تھی۔

مزیدخبریں