مائیک خاموش، آواز بلند

09:22 AM, 1 Oct, 2025

عالمی سطح پر طاقت اور اثر و رسوخ کی جنگ کوئی نئی بات نہیں، لیکن جب یہ جنگ اقوام متحدہ کے ایوانوں میں کھل کر سامنے آئے تو اس کے پیغامات بہت گہرے اور معنی خیز ہوتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ترک صدر طیب اردوان اور انڈونیشین صدر کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ، جہاں ان کی تقریر کے دوران مائیک بند کر دیا گیا، عالم اسلام کے لیے ایک بہت بڑا اور تلخ پیغام تھا۔ یہ واقعہ محض ایک تکنیکی خرابی نہیں تھا، بلکہ اس نے کئی حقائق کو بے نقاب کر دیا۔ یہ واقعہ سب سے پہلے عالم اسلام کی آواز کو دبانے کی کوشش کا واضح ثبوت ہے۔ اقوام متحدہ ایک ایسا فورم ہے جہاں ہر ملک کو اپنی بات کہنے کا حق حاصل ہے۔ لیکن جب مسلم دنیا کے بڑے رہنما، جو فلسطین، کشمیر اور دیگر مسلم مسائل پر کھل کر بات کر رہے تھے، ان کی آواز کو خاموش کر دیا جائے تو یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ایک خاص بیانیہ اور نقطہ نظر کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ یہ پیغام دیتا ہے کہ اگر آپ عالمی طاقتوں کی پالیسیوں اور ان کے زیر اثر بیانیے سے ہٹ کر بات کریں گے، تو آپ کو بولنے کا حق نہیں دیا جائے گا۔
دوسرا اہم پیغام یہ ہے کہ مغرب کا دوہرا معیار کھل کر سامنے آ چکا ہے۔ مغرب خود کو آزادیٔ اظہار کا سب سے بڑا علمبردار قرار دیتا ہے، لیکن جب بات عالم اسلام کے رہنماؤں کی ہو تو یہ اصول ہوا ہو جاتے ہیں۔ تیسرا اہم پیغام یہ ہے کہ عالم اسلام کو اپنی قوت پر بھروسہ کرنا ہو گا۔ یہ واقعہ مسلم ممالک کے لیے ایک واضح اشارہ ہے کہ انہیں اپنی مشترکہ طاقت کو پہچاننا ہو گا۔ انفرادی طور پر مسلم ممالک کی آواز کو دبایا جا سکتا ہے، لیکن اگر وہ متحد ہو کر ایک پلیٹ فارم پر کھڑے ہوں تو کوئی بھی طاقت انہیں نظرانداز نہیں کر سکتی۔ یہ واقعہ خود انحصاری اور اتحاد کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ غزہ کی صورتحال اور فلسطینیوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی یکجہتی کے پیش نظر، اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر ایک حساس موقع تھا۔ اس موقع پر مسلم ممالک اور کئی دیگر اقوام کے نمائندوں کا واک آؤٹ ایک علامتی، مگر انتہائی اہم اور واضح احتجاج تھا۔ یہ واقعہ صرف ایک احتجاجی عمل نہیں تھا، بلکہ عالمی برادری کو کئی اہم پیغامات دے گیا۔
یہ واک آؤٹ سب سے پہلے فلسطینی عوام سے غیر متزلزل یکجہتی کا پیغام تھا۔ دوسرا اہم پیغام یہ تھا کہ اسرائیل اپنی جارحانہ پالیسیوں کی وجہ سے عالمی سطح پر تنہا ہوتا جا رہا ہے۔ یہ عمل اسرائیل کے لیے ایک واضح اشارہ تھا کہ اس کی پالیسیوں کی وجہ سے اس کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے اور اسے اب پہلے کی طرح آسانی سے قبول نہیں کیا جا رہا۔ تیسرا پیغام عالمی اداروں پر اعتماد کے فقدان سے متعلق تھا۔ یہ احتجاج اس بات کا اشارہ ہے کہ کئی ممالک کو اقوام متحدہ جیسے اداروں کی کارکردگی پر شک ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ادارے فلسطینی مسئلے کو حل کرنے یا اسرائیل کو اس کی مبینہ خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرانے میں ناکام رہے ہیں۔ 
 وزیراعظم میاں شہباز شریف کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب ایک ایسے وقت میں ہوا جب عالمی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور مسلم امہ کو کئی سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ یہ تقریر محض ایک رسمی بیان نہیں تھی، بلکہ اس میں پاکستان کا وہ مؤقف جھلک رہا تھا جو مسلم دنیا کے مشترکہ دکھوں اور مسائل کی ترجمانی کرتا ہے۔ وزیراعظم نے اپنی تقریر میں سب سے پہلے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے اور بھارت کے غیرقانونی اقدامات کی مذمت کی۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے فلسطین کی صورتحال پر بھی بات کی اور غزہ میں جاری مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا۔ ان دونوں اہم مسائل کو ایک ساتھ اٹھانا ایک دانشمندانہ اقدام تھا، کیونکہ کشمیر اور فلسطین دونوں ہی مسلم امہ کے دل کے زخم ہیں۔ ان دونوں مسائل کو ایک ہی عالمی پلیٹ فارم پر ایک ساتھ پیش کرنا مسلم دنیا کو یہ پیغام دیتا ہے کہ پاکستان ان کے مشترکہ مسائل پر ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیراعظم شہباز شریف کا خطاب ایک مؤثر اور بروقت اقدام تھا۔ یہ تقریر مسلم امہ کے درد اور مسائل کی آواز تھی، جسے انہوں نے نہایت جرأت اور وضاحت کے ساتھ عالمی برادری کے سامنے پیش کیا۔ اب یہ مسلم دنیا پر منحصر ہے کہ وہ اس آواز کو ایک ٹھوس تحریک میں کیسے بدلتی ہے تاکہ وہ اپنے بنیادی مسائل کو حل کر سکے اور عالمی منظرنامے پر ایک مؤثر کردار ادا کر سکے۔ دنیا کے بدلتے ہوئے حالات میں مسلم ممالک کو اپنی بقا اور عالمی سطح پر اپنی آواز کو مؤثر بنانے کے لیے نئے راستے تلاش کرنے کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ حالیہ واقعات، خاص طور پر اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر مسلم رہنماؤں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات، اس احساس کو مزید تقویت بخشتے ہیں کہ موجودہ عالمی ادارے ان کے مسائل کو حل کرنے میں ناکام ہیں۔ ایسے میں یہ سوچ زور پکڑ رہی ہے کہ کیا مسلم ممالک کو اپنا الگ سے اقوام متحدہ بنانا چاہیے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب ’’ہاں‘‘ اور’’ نہیں‘‘ دونوں میں موجود ہے۔ اس تجویز کے حق میں سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے اب انصاف کے بجائے طاقتور ممالک کے مفادات کا تحفظ کرتے نظر آتے ہیں۔ فلسطین، کشمیر اور روہنگیا جیسے مسائل پر ان اداروں کی خاموشی یا کمزور ردعمل اس بات کا ثبوت ہے۔ تاہم، اس تجویز کے عملی پہلوؤں پر غور کرنا بھی ضروری ہے۔ سب سے بڑی رکاوٹ مسلم ممالک کے درمیان موجود باہمی اختلافات اور داخلی کشمکش ہے۔ کئی مسلم ممالک کے اپنے مفادات ایک دوسرے سے متصادم ہیں اور وہ مختلف عالمی طاقتوں کے بلاکس کا حصہ ہیں۔ جب تک یہ اختلافات موجود ہیں، ایک مشترکہ اور مؤثر ادارہ قائم کرنا ایک بہت بڑا چیلنج ہو گا۔ اس کے علاوہ، ایسے ادارے کو مالی وسائل اور عالمی قبولیت دلانے میں بھی بہت سی مشکلات کا سامنا ہو گا۔ ایک نئے عالمی ادارے کا قیام پہلے سے موجود مضبوط اداروں کے مقابلے میں زیادہ اہمیت حاصل نہیں کر پائے گا، خاص طور پر جب تک اس کے پاس اقوام متحدہ جیسی قانونی اور اخلاقی بنیاد نہ ہو۔
متبادل کے طور پر، مسلم ممالک کو موجودہ عالمی اداروں کے اندر رہتے ہوئے اپنی آواز کو بلند کرنے کے لیے ایک مضبوط بلاک بنانے پر غور کرنا چاہیے۔ اس کا مقصد اقوام متحدہ اور اس جیسی دیگر تنظیموں کو اندر سے اصلاح کرنا اور ان پر دباؤ ڈال کر اپنے مسائل کو حل کرانا ہے۔ مثال کے طور پر، اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کو مزید فعال اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے تاکہ یہ ایک فیصلہ کن قوت بن سکے۔
لہٰذا، صرف ایک نیا ادارہ قائم کرنا حل نہیں ہے، جب تک کہ مسلم ممالک اپنے اندرونی اختلافات کو ختم نہ کر لیں۔ اصل ضرورت ایک نئے ادارے کی نہیں بلکہ مضبوط ارادے اور اتحاد کی ہے۔ اگر مسلم ممالک اپنے مشترکہ مفادات کے لیے متحد ہو جائیں تو وہ دنیا کی سب سے بڑی اور طاقتور قوت بن سکتے۔

مزیدخبریں