ایشیا کپ کا فائنل بھارت نے جیت لیا، پاکستان ہار گیا۔ ہارنا انہونی یا بُری بات نہیں ہوتی ہے لیکن کس بُری طرح ہارے، یہ بات شرمناک ہے۔ سیدھی سیدھی بات ہے یہ ٹیم کی ناقص کارکردگی کا اظہار ہے اور ٹیم کس نے چنی، کھلاڑیوں کا انتخاب کس نے کیا، اس کا کوئی تو ذمہ دار ہو گا؟ سلیکٹر کے بارے میں بات کی جا رہی ہے کہ انہوں نے ٹیم ایسی سلیکٹ کی ویسی سلیکٹ کی جس کی وجہ سے ہم فائنل ہار گئے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ٹیم کا فائنل تک پہنچنا بھی تو کارکردگی کا اظہار ہے، میں کرکٹ کا ماہر نہیں ہوں، نقاد بھی نہیں ہوں لیکن ایک سادہ سا قانون جانتا ہوں، سمجھتا ہوں کہ کاروبار کیوں کیا جاتا ہے، نفع اندوزی کے لیے، صبح ہٹی کھول کر رات گئے تک لین دین اس لیے کیا جاتا ہے کہ رات کو منافع ہاتھ لگے، دکان کا صبح کھولنا، اس کی صفائی ستھرائی کرنا، سارا دن گاہکوں سے معاملات کرنا درست لیکن یہ کافی نہیں۔ دکان ان کاموں کے لیے نہیں کھولی جاتی بلکہ یہ سب کچھ اس لیے کیا جاتا ہے کہ شام کو منافع ہاتھ لگے۔ اگر منافع نہیں ملتا تو کہا جاتا ہے کاروبار نہیں ہوا۔ بالکل اسی طرح ٹیم کیوں تیار کی جاتی ہے، کھلاڑی کیوں چنے جاتے ہیں، انہیں بھاری معاوضے کیوں دیئے جاتے ہیں، انہیں کیوں پالا پوسا جاتا ہے تاکہ وہ ٹرافی یا کپ جیت کر وطن لے کر آئیں اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر سوچ لیں ایسی ٹیم اور اس کے متعلقین کے بارے میں کیا کہا جانا چاہیے۔
پھر بات اگر انڈیا کے ساتھ مقابلے کی ہو تو معاملات اور بھی سنجیدہ ہو جاتے ہیں،جذباتی ہو جاتے ہیں۔ ہم نے 55 سال بعد 7 تا 10 مئی 2025ء میں ہندوستان کو عبرتناک عسکری شکست دے کر 71 کی شکست کا بدلہ لیا ہے۔ ہندوستان اور اسرائیل کی متحدہ جنگی حکمت عملی اور جدید ترین ہتھیاروں سے لیس فوج کو جس طرح دھول چٹائی نہیں بلکہ دھول میں نہلا کر پوری دنیا کے سامنے اس کی عظمت کو پاش پاش کر دیا ہے، اس سے پوری قوم کا مورال بلند ہی نہیں بہت بلند ہو گیا ہے لیکن کرکٹ کے میدان میں ہمارے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ نہ صرف شرمناک ہے بلکہ کسی طور بھی قابل قبول نہیں ہے۔ ہماری ٹیم بغیر مقابلے کے ہاری ہے، اس کی نالائقی اور ناتجربہ کاری عیاں ہو گئی ہے، اس لیے اس پر تحقیقات ہونی چاہیے۔ شکست کے اسباب پر مکمل جرح ہونی چاہیے اور پھر ان وجوہات کا تدارک بھی ہونا چاہیے جو اس عبرتناک شکست کا سبب بنی ہیں۔
اب آتے ہیں جیتنے والی ہندوستانی ٹیم کے رویے کی طرف، انہوں نے پاکستانی ٹیم سے ہاتھ نہ ملانے کا فیصلہ کیا اور اس پر عمل بھی کیا پھر ایشین کرکٹ کونسل کے صدر سے ٹرافی وصول نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اس پر عمل کر کے بھی دکھایا۔ ایشین کرکٹ کونسل کا صدر کیونکہ محسن نقوی پاکستانی ہے اور حکومت ہند نے مودی کی قیادت میں فیصلہ کیا تھا کہ پاکستان کے ساتھ ہماری دشمنی ہے، اس لیے اس کی جھلک ہی نہیں بلکہ پوری تصویر ہر جگہ نظر آنی چاہیے۔ کرکٹ ٹیم نے ایسا ہی کیا اور یہ سب کچھ پوری دنیا نے دیکھا۔ ہندو کی نفرت، ہندوستانی حکمرانوں کی نفرت، مسلمان کے خلاف، ہندوستان میں بسنے والے کروڑوں مسلمانوں کے خلاف نفرت، بھارت سرکار کی کشمیری مسلمانوں کے خلاف نفرت ہندوستانی حکمرانوں کی پاکستان کے خلاف نفرت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، اس کا اظہار ہر عالمی و علاقائی فورم پر ہوتا ہے۔ کرکٹ کا میدان ہو یا جنرل اسمبلی کا اجلاس ہر جگہ پر یہ نفرت نظر آتی ہے۔ بھارت سرکار پاکستان کے خلاف نفرت کے اظہار کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔ ایسے تمام مواقع پر ہندوستان پلاننگ کے ساتھ معاملات آگے بڑھاتا ہے، ہم صرف ری ایکٹ کرنے کی پوزیشن میں ہوتے ہیں۔ ہم نے ہمیشہ اپنے آپ کو بااخلاق، عالمی روایات کا پاسدار بن کر دکھایا ہے۔ ہم نے کبھی کوئی ایسی پالیسی اختیار نہیں کی جس سے بھارت کا متعصبانہ اور تنگ نظر چہرہ دنیا کے سامنے لایا جا سکے۔ ایشین کپ کی اختتامی تقریب دیکھ لیں، ہمارے محسن نقوی صاحب آخری وقت تک سٹیج پر کھڑے رہے کہ بھارتی ٹیم آئے اور اپنا جیتا ہوا کپ یا ٹرافی وصول کرے۔ کیا یہ کونسل کی بے عزتی نہیں، کیا یہ محسن نقوی کی ہتک نہیں۔ ہم انتظار کر رہے ہیں، فاتح ٹیم کا کہ وہ آئے اور ٹرافی وصول کرے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ اس میں میرے ملک کی بے عزتی ہے، اس سے پہلے انہوں نے ہاتھ نہ ملا کر ہماری ہتک کی، ہم نے کیا کیا۔ ہم بھی ترکی بہ ترکی جواب دیتے اور ایشو کو اپنی بے عزتی قرار دے کر کرکٹ کے بڑوں کے سامنے لے جاتے ہم بھی اس طرح کی بے شرم بلکہ بے غیرت ٹیم کے ساتھ کھیلنے سے انکار کر دیتے تو کیا ہمیں ایشین کرکٹ کونسل کی تقریب میں ذلت نہ اٹھانا پڑتی۔ کیا انڈین ٹیم پر، انڈین رویے پر عالمی سطح پر تنقید کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ کیا پاکستان کے انکار کے باعث انڈین کرکٹ ٹیم کو گھٹنے نہ ٹیکنا پڑتے یا کم از کم ہندوستان آئندہ ایسا گھٹیا رویہ اختیار کرنے سے پہلے سو مرتبہ سوچتا لیکن وہ جو چاہتا ہے اس کا اعلان کرتا ہے اور اس پر من و عن عمل بھی کر دکھاتا ہے۔ ہم دیکھتے رہتے ہیں، دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں۔
ہمارے ادارے فوج کے علاوہ ایسے نہیں ہیں جیسا کہ ہونے چاہئیں۔ کسی بھی ادارے کی کارکردگی قابل ستائش نہیں ہے۔ پاکستان سٹیل ملز ہو یا پاکستان ریلویز، پی آئی اے ہو یا پی سی بی سب ایسے ہی ہیں۔ ان کی کارکردگی ہمارے سامنے ہے۔ یہ قومی ادارے، قومی آدرشوں اور توقعات پر کبھی پورا نہیں اترتے۔ ہم عالمی اور داخلی قرضوں کے بوجھ تلے دبتے چلے جا رہے ہیں۔ ہماری جتنی سالانہ قومی پیداوار کی مالیت ہے ہمارے مجموعی قرضے بھی تقریباً اتنے ہی ہیں۔ یہ کوئی اچھی صورتحال نہیں ہے۔ قرض پر سود کی ادائیگی بھی مشکل ہو چکی ہے۔ اقتصادی معاملات کی خرابی موسمیاتی تبدیلیوں اور سیلابوں کے باعث دن بہ دن بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ بہتری کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی۔ سماجی شعبہ بھی دگرگوں بلکہ مکمل طور پر دگرگوں ہے۔ نوجوان اور جوان نسل کو اپنے حال اور مستقبل پر یقین نہیں۔ وہ اپنا مستقبل یہاں نہیں دیکھتے۔ ہر سال لاکھوں کی تعداد میں ملک چھوڑ رہے ہیں۔ ہمارا ملک سرمائے کی اڑان کے ساتھ ساتھ ذہانت کی اڑان کا بھی شکار ہے۔ قابل اور ہنر مند افراد ملک چھوڑ کر باہر جا رہے ہیں۔ ہم لاکھ کہیں کہ وہ ہمیں زرمبادلہ بھجوائیں گے، ملک ترقی کرے گا وغیرہ وغیرہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم بحرانی کیفیات کا شکار ہیں۔ ہماری آبادی کا کثیر حصہ خط غربت سے نیچے زندگیاں گزارنے پر مجبور ہے۔ کسان پس چکا ہے۔ سیاسی عمل پر عوام کا اعتماد اٹھ گیا ہے۔ حالات و معاملات درست سمت میں جاتے نظر نہیں آ رہے ہیں۔ دنیا تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے۔ ہم تبدیلی کا سامنا کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آ رہے، باقی جو اللہ کرے۔
بھارتی ٹیم کی جیت اور ہماری نالائقیاں
09:19 AM, 1 Oct, 2025