نئی تحقیق میں انکشاف: کورونا سے متاثرہ ماؤں کے بچوں میں آٹزم کی شرح میں اضافہ

07:29 PM, 1 Nov, 2025

ایک حالیہ تحقیق نے یہ حیران کن انکشاف کیا ہے کہ کورونا وائرس سے متاثرہ حاملہ خواتین کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں میں آٹزم ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے "سی این این" کے مطابق، اس تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ کورونا وائرس سے متاثرہ ماؤں کے بچوں میں آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر (ASD) جیسی دماغی بیماریوں کا خطرہ 2.5 فیصد تک بڑھ سکتا ہے، جس میں بات کرنے میں تاخیر اور جسمانی صلاحیتوں میں کمی جیسے مسائل شامل ہیں۔

یہ تحقیق میساچیوسٹس جنرل ہسپتال نے کی، جس میں 2020 کے مارچ سے لے کر 2021 کے مئی تک ہونے والی 18,336 بچوں کی پیدائش کے طبی ریکارڈ کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

اس تحقیق میں ماں کے کووڈ 19 ٹیسٹ اور بچوں کی تین سال تک کی دماغی نشوونما کے نتائج کا موازنہ کیا گیا۔

تحقیق کے نتائج کے مطابق، کورونا سے متاثرہ ماؤں کے بچوں میں دماغی مسائل کی شرح 16.3 فیصد تھی، جب کہ کورونا سے محفوظ ماؤں کے بچوں میں یہ شرح 9.7 فیصد تھی۔ اگرچہ مختلف عوامل جیسے ماں کی عمر، تمباکو نوشی، اور سماجی پس منظر کو مدنظر رکھا گیا، تب بھی کورونا سے متاثرہ ماؤں کے بچوں میں آٹزم کا خطرہ 1.3 گنا زیادہ پایا گیا۔

مجموعی طور پر، تحقیق نے ظاہر کیا کہ کورونا وائرس سے متاثرہ ماؤں کے بچوں میں آٹزم ہونے کا خطرہ عام ماؤں کے بچوں کے مقابلے میں 2.5 فیصد زیادہ تھا۔ یہ خطرہ خاص طور پر لڑکوں میں زیادہ تھا، اور حمل کے آخری تین ماہ (تیسرے سہ ماہی) میں وائرس سے متاثر ہونے کی صورت میں یہ خطرہ سب سے زیادہ تھا۔

محققین کا کہنا ہے کہ لڑکوں کا دماغ ماں کی سوزش (inflammation) سے زیادہ متاثر ہوتا ہے، اور تیسری سہ ماہی دماغ کی نشوونما کے لیے ایک اہم مرحلہ ہوتا ہے۔

امریکی سی ڈی سی (CDC) کے مطابق، 2022 میں ہر 31 میں سے ایک بچہ 8 سال کی عمر تک آٹزم کی تشخیص کا شکار ہوا، جو 2020 کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

البتہ، کچھ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ بچوں میں آٹزم کی زیادہ شرح کی وجہ بیماری یا وبا نہیں، بلکہ بہتر تشخیص اور اسکریننگ کے نظام کی بدولت ہو سکتی ہے۔
 
 

مزیدخبریں