امریکہ ایران جنگ .... کیا کیا Myth ٹوٹے ہیں؟

09:09 AM, 2 May, 2026

امریکہ و اسرائیل بمقابلہ ایران جنگ اکیسویں صدی کی دوسرے ربع کے پہلے سال کا ایسا واقعہ ہے جسے عالمی تاریخ میں اس بنا پر یاد رکھا جائے گا کہ ایک روایتی جنگ نہ ہونے کے باوجود اس سے ہونے والے نقصانات اتنے زیادہ اور اس کے اثرات اتنے ہمہ گیر ہیں کہ متحارب فریق اور خطے کے ممالک ہی ان سے متاثر نہیں ہوئے ہیں بلکہ پوری دنیا کو اس کے منفی اثرات سمیٹنا پڑ رہے ہیں ۔ بلا شبہ اس جنگ کے نتیجے میں ایران میں وسیع پیمانے پر تباہی و بربادی پھیلی ہے، اُس کے انفراسڑکچر ، اُس کی ریلوے لائن، پُل ، تیل کی تنصیبات، میزائل اور ڈرون اڈے ، ایٹمی پروگرام کے مراکز اور شہری بستیوں اورآبادیوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے تو اس کے ساتھ ہزاروں کی تعداد میں قیمتی جانوں جن میں اس کے سپریم کمانڈر آیت اللہ خامنہ ای سمیت اس کے اعلیٰ ترین فوجی کمانڈر اور سیاسی و دینی رہنما شامل ہیں کا زیاں بھی ہوا ہے۔ اس کے مقابلے میں امریکہ اور اسرائیل کا جانی نقصان نہ ہونے کے برابر ہے لیکن ایران نے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب ، حیفہ کی بندرگاہ اور دوسرے اہم مقامات کو مسلسل اپنے ڈرونز اور میزائل حملوں کا نشانہ بنائے رکھا جس سے اسرائیل خوف و ہراس کا شکار رہا تو اس کے ساتھ ایران نے سعودی عرب اور خلیج کی ریاستوں میں امریکی اڈوں کی موجودگی کی آڑ میں وہاں ائیر بیسز ، تیل کی تنصیبات اور دیگر اہم مقامات کو نشانہ بنانے سے بھی دریغ نہ کیا جن سے ان ممالک میں سراسیمگی اور خوف و ہراس کی فضا پروان چڑھی اور غیر یقینی صورتِ حال نے بھی جنم لیا جو اب بھی موجود ہے کہ ایران کسی وقت بھی ان کی بندرگاہوں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی پر عمل پیرا ہو سکتا ہے۔
امریکہ و اسرائیل بمقابلہ ایران جنگ کے نتیجے میں یہ نقصانات اور اثرات ایسے ہیں جن کا فریقین کو سامنا کرنا پڑا ہے یا پڑ رہا ہے تو اس کے ساتھ آبنائے ہُرمز کی ایران کی طرف سے پچھلے دو ماہ سے بندش اور وہاں بارودی سرنگیں بچھانے کی بنا پر دنیا بھر میں تیل کی کل ضروریات کے پانچویں حصے کی ترسیل جو سعودی عرب اور خلیج کی ریاستوں سے بحری جہازوں اور آئل ٹینکروں کے ذریعے جنوبی ایشیا کے ممالک اور چین و جاپان جیسے ملکوں کو کی جاتی تھی بند ہوچکی ہے۔ اس کے ساتھ پچھلے تقریباً ڈیڑھ دو ہفتوں سے امریکہ کی طرف سے آبنائے ہُرمز کی ناکہ بندی نے ایرانی تیل جو پابندیوں کے باوجود کسی نہ کسی صورت میں دوسرے ممالک کو بھیجا جا رہا تھا کی سپلائی کا راستہ بھی روک رکھا ہے۔ ا س معروضی اور بدیہی صورتِ حال کا یہ نتیجہ سامنے آیا ہے کہ دنیا میں تیل کی قیمتوں میں روزانہ اتار چڑھاو¿ کے ساتھ ان میں اضافہ ہو چکا ہے۔ جن سے دنیا کے تقریباً سبھی ممالک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں جہاں بڑھی ہیں وہاں مہنگائی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ یقینا یہ صورتِ حال تکلیف اور پریشانی کا باعث ہے اور وطنِ عزیز پاکستان کو اس کی وجہ سے کچھ زیادہ ہی مصائب کا سامنا ہے۔
خیر یہ صورتِ حال کا ایسا نمایاںپہلو ہے جس سے ساری دنیا آگاہ ہے تو اس کے ساتھ امریکہ و 
اسرائیل بمقابلہ ایران جنگ کے نتیجے میں کچھ اور ایسے پہلو یا ایسے اثرات بھی سامنے آئے ہیں جن کے بارے میں اس جنگ سے قبل شاید کسی نے سوچا بھی نہیں ہو گا کہ ایسے ہو سکتا ہے۔ ایک پہلو عزت افزائی اور پذیرائی کا ہے جو پاکستان کے حصے میں آیا ہے۔ اللہ کریم نے پاکستان کو عزت سے نوازا ہے کہ اس کی طرف سے جنگ بندی کرانے، امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کے لیے ثالثی اور پُر خلوص کوششیں کرنا ایسا پہلو ہے کہ ساری دنیا میں پاکستان اور اس کی سیاسی و عسکری قیادتوں جن کی تعریف و توصیف ہو رہی ہے ، بلا شبہ یہ دوسرا پہلو Myth ٹوٹنے یعنی رُعب و دَبدبے اور دیو مالائی مقام و مرتبے کو زک پہنچنے کا ہے جو بلا شبہ امریکہ اور خلیج کی متحدہ عرب امارات جیسی ریاستوں کے حصے میں آیا ہے۔ اس کے ساتھ ایک پہلو بے بسی اور حسد میں جلنے کا ہے جو اور کسی کے حصے میں آیا ہو یا نہ آیا ہو بھارت کے حصے میں ضرور آیا ہے۔
پاکستان کی پذیرائی اور اس کی عزت و توقیر میں اضافے کے حوالے سے بہت کچھ لکھا جا چکا ہے تاہم اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان نے جس مہارت، دانائی ، سمجھ بوجھ اور در پیش مسائل کو سامنے رکھ کر خلوصِ نیت سے امن کے قیام کے لیے جو کوششیں کی ہیں اور کر رہا ہے ، واقعی اپنی مثال آپ ہیں۔ جہاں تک Myth ٹوٹنے کا معاملہ ہے بات امریکہ سے شروع کی جائے تو کچھ ایسا بے جا نہیں ہو گا۔ امریکہ کو دنیا کی واحد سُپر پاور مانا جاتا ہے۔ بلا شبہ اس کے جدید ترین جنگی طیارے ، بحری بیڑے، مہلک ہتھیار اور ساری دنیا میں پھیلے ہوئے اس کے اڈے اس کی جنگی قوت اوربَر تری کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ایران کے خلاف اسرائیل کے ساتھ مل کر جارحیت کے نتیجے میں امریکہ کو جس ہزیمت اور ایک طرح کی پسپائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہ ایسا نہیں ہے کہ جس کو آسانی کے ساتھ رَد کیا جا سکے۔ 
امریکہ کے لیے اس سے بڑھ کر ندامت کی بات کیا ہو سکتی ہے کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کی میز سجانے کے لیے سارے انتظامات کیے، اسلام آباد کا شہر بند رہا کہ امن مذاکرات میں شرکت کرنے والے وفود کے لیے سکیورٹی انتظامات میں کوئی رَخنہ نہ پڑے۔ امریکہ سے ضروری ساز و سامان سے لدے درجن بھر بھاری بھر گلوب ماسٹر طیاروں نے نور خان ائیر بیس چک لالہ پر لینڈنگ بھی کی ۔ یہ اس بات کا عندیہ تھا کہ امریکی نائب صدر جے۔ ڈی وینس کی سربراہی میں امریکی وفد ایران کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے کسی وقت بھی اسلام آباد آ سکتا ہے۔ لیکن ہوا کیا کہ اصرار اور انتظام کے باوجود ایران نے اپنے وفد کو اسلام آباد بھیجنے سے گریز یا انکار کیا۔ اسے امریکہ کی سُپر میسی کو تسلیم کرنے سے انکار اور اِس کوواحد سُپر پاور ہونے کے Myth کے ٹوٹنے کے مترادف سمجھا جا سکتا ہے تو اس کے ساتھ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے روس کے دورہ کے دوران اس بیان کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کی درخواست کا جائزہ لے رہے ہیں کو بھی اِسی زُمرے میں رکھا جا سکتا ہے۔ پھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جس طرح کے بیانات دیتے رہے ہیں اور مختلف مو¿قف اختیار کرتے چلے آ رہے ہیں اس سے بھی امریکہ کی بے اعتباری میں اضافہ ہوا ہے۔ بات اس پر ختم نہیں ہوتی ، سعودی عرب سمیت خلیج کی ریاستوں میں امریکہ نے اپنے اڈے قائم کر رکھے ہیں۔ ایران اِن اڈوں پر ہی نہیں بلکہ سعودی عرب سمیت خلیج کی دیگر ریاستوں میں تیل کی تنصیبات اور دیگر اہم مقامات کو اپنے ڈرونز اور میزائل حملوں سے نشانہ بناتا رہا ہے لیکن امریکہ ایران کو اس سے روکنے میں کامیاب نہیں ہوا اور نہ ہی آبنائے ہُرمز کو کھولنے اور اس میں ایران کی طرف سے بچھائی گئی سرنگیں صاف کرنے میں کامیاب ہوا ہے ۔ یہ بھی امریکہ کی کھلی ناکامی اور اس کے واحد سپر پاور ہونے کے Myth کے ٹوٹنے اور سفارتی محاظ پر امریکہ کی قدم قدم پر ناکامی کی بات سمجھی جا سکتی ہے۔ 
امریکہ و اسرائیل بمقابلہ ایران جنگ نے خلیج کی ریاستوں کو بطورِ خاص کسمپرسی اور بے بسی سے دو چار کیا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری میں اپنی دولت ، سرمایے ، معدنی وسائل اور ظاہری ترقی کی بدولت ایک طرح کی خود ساختہ بالا دستی اور دولت کی ریل پیل کا جو Myth یا ڈھانچہ قائم کر رکھا تھا اس کو بطورِ خاص زک پہنچی ہے۔ سعودی عرب اس صورتِ حال سے زیادہ دو چار نہیں ہوا کہ اس کا اپنا ایک تشخص ، مقام اور مرتبہ ہے تو اس کے ساتھ پاکستان کے ساتھ گہرے تعلقات اور باہمی دفاعی معاہدہ بھی ہے جو ایرانی پاسدارانِ انقلاب کو سعودی عرب کے خلاف بڑی جنگی کارروائیاں کرنے میں مانع رہا ہے ۔ تاہم خلیج کی دیگر ریاستیں جن میں متحدہ عرب امارات سرِ فہرست ہے اور اس کے بعد کویت اور بحرین وغیرہ کے نام آتے ہیں انہیں خوب رگڑا لگا ہے۔ امارات کی قیادت جس کے دولت کی فراوانی، دوبئی کی رونقوں ، کاروباری سرگرمیوں اور عیاشی کے اڈوں اور تیل کی تنصیبات کی وجہ سے پاو¿ں زمین پر نہیں ٹکتے تھے، جس کی ایمریٹس اور اتحاد ائیر لائنز کے طیارے روزانہ سیکڑوں بلکہ مبالغہ نہ ہو تو ہزاروں کی تعداد میں پروازیں بھرتے تھے۔ اس طرح بے بسی، مایوسی، نامرادی، ضد اور ہٹ دھرمی سے دو چار ہوا کہ اسے ا ور کچھ نہ سوجھا تو اس نے پاکستان کی مالی مشکلات میں اضافہ کرنے کے لیے سٹیٹ بینک آف پاکستان میں رکھوائے ہوئے اپنے تین ارب ڈالر کے ڈپازٹ جو معمول کے مطابق 2029 تک رول بیک کیے جانا تھے فی الفور واپس کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ پاکستان کو سعودی عرب کی طرف سے تین ارب ڈالر کے ڈپازٹ مِل گئے اور اس نے متحدہ عرب امارات کے تین ارب پنتالیس کروڑ کے ڈپازٹ اُس کے منہ پر مار دئیے۔ 
متحدہ عرب امارات کے علاوہ کویت، بحرین اور قطر بھی اس سے ملتی جلتی صورتِ حال سے دو چار ہوئے ہیں تاہم ان کی طرف سے اپنی بے بسی کا اس طرح اظہار سامنے نہیں آیا جیسا کہ متحدہ عرب امارات کی طرف سے سامنے آیا ہے۔ ایران کی ضِد ، ہٹ دھرمی اور میں نہ مانوں کے رویوں اور اندازِ فکر و نظر کے کیا نتائج سامنے آ سکتے ہیں اس بارے میں آئندہ کسی کالم میں جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

مزیدخبریں