یوں تو لاہور کے حالات آج سے ستر سال قبل بھی کچھ اتنے مثالی نہ تھے کہ اڑسٹھ برس قبل وفات پانے سے چند سال قبل شہرہ آفاق مزاح نگارپطرس بخاری نے اپنے مضمون "لاہور کا جغرافیہ" میں طنزومزاح کے انداز میں لاہور کی منظر کشی کچھ اس طرح کی تھی "یوں سمجھئے کہ لاہور ایک جسم ہے جس کے ہر حصے پر ورم نمودار ہو رہا ہے لیکن ورم موادِ فاسد سے بھرا ہے"۔ کچھ آگے چل کر لکھا "لاہور کی آب و ہوا کے متعلق طرح طرح کی روایات مشہور ہیں جو تقریبا سب کی سب غلط ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ لاہور کے باشندوں نے حال ہی میں یہ خواہش ظاہر کی ہے کہ اور شہروں کی طرح ہمیں بھی آب و ہوا دی جائے۔"
پطرس بخاری کی یہ منظر کشی کم و بیش ستر سال پہلے کی ہے کہ جب لاہور کی آبادی بھی اتنی نہیں تھی جتنی آج ہے۔ اسی تناسب سے ٹریفک بھی اتنی زیادہ نہ تھی، تعمیرات کا انداز بھی اتنا جدید نہیں تھا۔ گھروں اور دفاتر میں ایئر کنڈیشنر کا استعمال بھی نہ ہونے کے برابر تھا۔ صنعتیں بھی اتنی تعداد میں نہیں تھیں۔ اس کے باوجود بھی اس وقت کے ایک ادیب نے یہ محسوس کر لیا کہ شہر ورم زدہ ہو چکا ہے جس کا نہ پانی اچھا ہے نہ ہوا۔
آج تو صورت حال اس سے بھی کہیں زیادہ خراب ہو چکی ہے، اگرچہ دوسرے شہروں سے آنے والے اب بھی لاہور کو شہر بے مثال سمجھتے ہیں۔ یقینا یہ ہے بھی بے مثال شہربلکہ اس کے بعض حصے تو بے مثالی کے درجے سے بھی کہیں آگے نکل چکے ہیں۔ ان حصوں پر تو مغربی دنیا کے کسی شہر کا گمان ہوتا ہے۔ صاف ستھری کشادہ سڑکوں کے دونوں جانب ایستادہ جدید طرز تعمیر کی حامل بلند و
بالا عمارتیں، سڑکوں پر مہنگی مہنگی گاڑیوں کی لمبی قطاریں، بین الاقوامی برانڈز کی طعام گاہیں اور خریداری مراکز اس شہر کو بے مثال ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں لیکن یہ تمام حصے وہ ہیں جن کا پطرس بخاری کے دورمیں کہیں نام و نشان بھی نہ تھا۔ لاہور کی یہ توسیع گزشتہ چند دہائیوں کے دوران ہوئی ہے۔ اس توسیع میں وہ اصل لاہور واقعی کہیں کھو گیا ہے جو پطرس کے مضمون کا موضوع تھا اور انھوں نے اس وقت بھی اس کا نقشہ کچھ یوں کھینچ دیا تھا کہ "اب لاہور کے چاروں طرف بھی لاہور ہی واقع ہے اور روز بروز واقع تر ہو رہا ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ دس بیس سال کے اندر لاہور ایک صوبے کا نام ہو گا، جس کا دارالخلافہ پنجاب ہو گا۔"
لاہور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ آج اس کے توسیع شدہ حصوں کو اصل لاہور سمجھا جانے لگا ہے اور اصل لاہور کو یکسر نظر انداز کرنے کی روش اپنا لی گئی ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ طبقہ اشرافیہ کا تمام تر رجحان انھی توسیع شدہ حصوں کی طرف ہے۔ لاہور کی تمام تر ترقی بھی انھی علاقوں میں ہو رہی ہے، جملہ وسائل بھی وہیں خرچ ہو رہے ہیں اور سب مسائل بھی انھی علاقوں کے حل ہو رہے ہیں جبکہ لاہور کے قدیمی علاقے آج بھی مسائل کا گڑھ نظر آتے ہیں۔
لاہور کا یہ درد دل میں یوں جاگا کہ گزشتہ دنوں کراچی کے میئر مرتضی وہاب لاہور تشریف لائے تو پنجاب کے وزیر برائے ہاو¿سنگ بلال یاسین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کراچی کا موازنہ لاہور سے نہیں کیا جا سکتا کیونکہ کراچی میں ہمیں پانی 125 کلومیٹر دور سے لانا پڑتا ہے جبکہ لاہور میں زیر زمین پانی موجود ہے۔ ان کی یہ بات سن کر ہمیں فورا منیر سیفی کا یہ شعر یاد آ گیا:
دن کی تاریکیاں دکھاو¿ں تجھے
ایک دوپہر میرے ساتھ گزار
مرتضیٰ وہاب کی یہ بات تو درست ہے کہ لاہور میں زیر زمین پانی موجود ہے لیکن یہ بات صرف اس پانی کو استعمال کرنے والے ہی جانتے ہیں کہ اس کا معیار کیسا ہے۔ لاہور کے زیر زمین پانی میں دو تین بڑے مسائل ہیں۔ ایک تو یہ کہ کثرت استعمال سے لاہور کے زیر زمین پانی کی سطح بہت کم ہو چکی ہے اور یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ چند سال میں یہ پانی کہیں بالکل ہی ختم نہ ہو جائے۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ لاہور کے ارد گرد صنعتوں کی بھرمار کے باعث زیر زمین پانی انتہائی آلودہ اور مضرِ صحت ہو چکا ہے۔ اس میں بڑی مقدار میں آرسینک پائی جاتی ہے۔ اگرچہ آبادیوں کو سپلائی کرنے سے پہلے اسے ٹریٹمنٹ پلانٹ سے گزارا جاتا ہے لیکن شہر میں بچھائی گئی پائپ لائنیں پرانی ہونے کے باعث جگہ جگہ سے کمزور ہو چکی ہیں اور اکثر علاقوں میں پینے کے پانی میں سیورج کا گندا پانی مل کر لوگوں کے گھروں تک پہنچتا ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد اپنے گھروں میں آنے والا پانی پینے کے لیے استعمال نہیں کرتی بلکہ بازار سے خریدتی ہے یا فلٹریشن پلانٹس سے بھر کر لاتی ہے۔ جو لوگ یہ دونوں کام نہیں کر سکتے وہ ابال کر پانی کو پینے کے لیے محفوظ کر لیتے ہیں اور جو یہ کام بھی نہیں کر سکتے وہ آلودہ پانی کے استعمال سے خود کو پیٹ کی بیماریوں اور ہیپاٹائٹس جیسے امراض کے رحم وکرم پر چھوڑ دیتے ہیں۔ ایسے میں آدمی سوچتا ہے کہ چاہے ہمیں بھی 125میل دور سے پانی لا دیا جائے لیکن وہ صحت بخش تو ہو۔
پانی کے علاوہ لاہور کے اور بھی بہت سے مسائل ہیں جنھیں حل کرنے کے لیے موجودہ صوبائی حکومت نے بہت سے منصوبے شروع کر رکھے ہیں اوریہ مسائل بڑی حد تک حل ہو بھی رہے ہیں البتہ زیر زمین پانی کا مسئلہ بہت اہم ہے جو حکومت کی فوری توجہ اور جنگی بنیادوں پر حل کا متقاضی ہے۔
لاہور کا نوحہ
09:07 AM, 2 May, 2026