پہلے میں نے سوچا اس کالم کا عنوان ”بے قراریاں“ رکھوں، پھر سوچا ”بےقراریاں“ بہت خوبصورت لفظ ہے، ممکن ہے یہ لفظ ہمارے نومولود سیاستدان اور سابقہ صحافی اقرار الحسن کی سمجھ میں نہ آئے کیونکہ جس قسم کی بدزبانی کرنے اور سننے کی اب اُنہیں عادت ہو گئی ہے ”بےقراری“ جیسے سیدھے سادھے لفظ اُن کے پلے ہی نہیں پڑنے، چنانچہ اپنا مدعا اُن تک پہنچانے کے لیے مجبوراً اس کالم کا عنوان مجھے ”بدقراریاں“ رکھنا پڑا ہے، اُن کے نام کے ساتھ ”سید“ لگا ہوا ہے، مجھے اس کی بڑی حیا ہے، چنانچہ اُن کی کچھ سیاسی و صحافتی بدکاریوں کے خلاف جو کچھ کُھل کر میں لکھنا چاہتا ہوں لکھ نہیں پاو¿ں گا، اگر کوئی گُستاخی نہ چاہتے ہوئے بھی ہو جائے پیشگی معذرت خواہ ہوں، اُن کے نام میں جو ”قاف“ یا ”کاف“ آتا ہے مجھے نہیں معلوم وہ قینچی والا ہے یا کُتے والا، کہیں اُنہیں ”اقرار“ تو کہیں ”اکرار“ لکھا ہوتا ہے، قاف قینچی والا ہو یا کاف کُتے والا ہو دونوں کا کام کاٹنا ہے، میں حیران ہوں اقرارالحسن اب اور ہی طرح کی شہرت کے لیے کیوں کوشاں ہیں؟ وہ اچھے بھلے تین بیویوں کے اکلوتے شوہر ہونے کی شہرت رکھتے تھے، دوسروں کی پگڑیاں اُچھال کر اُن کا کچھ نہ اُکھاڑنے کی شہرت رکھتے تھے، ممکن ہے ان کاموں میں اب پہلے جیسی کمائی نہ رہی ہو چنانچہ وہ سیاست میں آ گئے، صحافت میں اُن کی جو ”کاریگریاں“ تھیں وہ بھی سیاست میں وہ ساتھ لے آئے، مجھے خدشہ ہے صحافت میں جن ذلالتوں سے ایک معجزے کے طور پر وہ بچ گئے اب سیاست میں وہ اُن کے حصے میں آ کر رہیں گی، پہلے بھی لکھ چُکا ہوں آج پھر عرض کرتا ہوں ”ہمارے ہاں اکثر لوگ اب عزت نہیں صرف شہرت چاہتے ہیں، چاہے وہ گھٹیا قسم کی بدنامیوں کی صورت میں ہی کیوں نہ مل رہی ہو، اقرار الحسن نے تو شُکر ادا ہو گا لاہور ایئرپورٹ پر ایف آئی اے اہلکار نے ایک ایسا جُملہ اُن کی شان میں بول دیا جو فوری طور پر تو اُنہیں نامناسب لگا مگر بعد میں اس جُملے کی بدولت جو شہرت اُنہیں ملی وہ ہرگز نہ ملتی اگر ائیرپورٹ پر وہ تماشا نہ لگاتے، ممکن ہے یہ ایف آئی اے اہل کار اور اقرار الحسن کی آپس میں کوئی ملی بھگت ہو کیونکہ اس عمل سے دونوں مشہور ہوئے، ایف آئی اے اہل کار چونکہ سرکاری ملازم ہے وہ کُھل کر سامنے نہیں آ سکا ورنہ شہرت میں وہ اقرارالحسن سے آگے نکل جاتا، سچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے، اسے صرف اعلیٰ ظرف لوگ ہی ہضم کر سکتے ہیں، مجھ ایسے کم ظرف اپنے خلاف لکھا یا بولے جانے والا ایک لفظ برداشت نہیں کرتے، البتہ بطور ایک صحافی میرا یہ ”پیدائشی حق“ ہے میں جس کی چاہے پگڑی اُچھالوں، جسے چاہے گندا کروں، جس کی چاہے ٹانگیں کھینچوں، میری ان بداعمالیوں پر میرے خلاف کوئی بولے گا میں ”بصورت اقرار الحسن“ فوراً اُسے کاٹنے کو دوڑوں گا، اقرار الحسن شکر کریں ائیرپورٹوں پر امیگریشن چیکنگ کا نظام اُس ادارے کے ہاتھ میں نہیں ہے جس کے لیے آج کل وہ کام کرتے ہیں ورنہ اس سے زیادہ بدتمیزی اُنہیں ہنس کر برداشت کرنا پڑ جاتی، بلکہ ہو سکتا ہے امیگریشن افسر سے وہ کہتے ”بھائی آپ اپنے ہی بندے ہیں دو چار گالیاں مجھے اور جواد احمد کو اور دے دیں“، سمجھ نہیں آتی اقرارالحسن سیاست میں کیوں آئے؟ شاید اس میں مال بنانے کے مواقع اتنے زیادہ ہیں کچھ معتبر اداروں سے وابستہ اہم لوگ بھی سیاست میں منہ ماری کے بغیر نہیں رہ سکے اُن کا کوئی ہرکارہ کیسے رہ سکتا ہے؟ اللہ جانے لوگ اب کیوں نہیں سوچتے کسی کی بدتمیزی کا جواب اگر ویسی ہی بدتمیزی سے وہ دیں گے بدتمیزوں کی ایک ہی صف میں دونوں کھڑے ہوں گے، ان حالات میں اقرار الحسن کے ساتھ بدتمیزی کرنے والے ایف آئی اے اہل کار کی معطلی کی خبر اگر درست ہے تو یہ غلط اقدام ہے، ایف آئی اے اہل کار کے مقابلے میں اقرار الحسن کی بدتمیزی بہت زیادہ تھی، اہل کار کا قصور صرف یہ تھا ایک کڑوا سچ اُس نے ذرا اُونچی آواز میں بول دیا، اُس کے بعد وہ اگر حد سے زیادہ اپنی صفائیاں دے رہا تھا اقرارالحسن کو وہ قبول کر کے اپنی اور جواد احمد کی بچی کھچی عزت کا کچھ خیال کرنا چاہیے تھا، ہمارے ایک بہت خوبصورت شاعر ظفر اقبال کا شعر ہے
جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اُس پر ظفر
آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہیے
ظفر اقبال سے معذرت کے ساتھ ہلکی سی تبدیلی سے یہ شعر میں لاہور ایئر پورٹ پر اقرارالحسن کے ساتھ بدتمیزی کرنے والے ایف آئی اے اہل کار محسن چیمے کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں
سچ بولا ہے تو قائم بھی رہو اُس پر محسن
آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہیے
ایف آئی اے اہل کار انتہائی نرم رویہ اختیار کر کے اور بار بار وضاحتیں دینے کے بعد بھی اب اگر وہ معطل ہو گیا ہے بہتر تھا وہ موقع پر کہہ دیتا ”میں نے جو کہا ٹھیک کہا ہے آپ نے میرا جو بگاڑنا ہے بگاڑ لیں“، ہونا پھر بھی اُس نے معطل ہی تھا مگر اپنے سچ پر قائم رہ کے اپنے ضمیر کو کم از کم وہ مطمئن تو رکھ ہی سکتا تھا، اتنی بے عزتی برداشت کر کے ایف آئی اے اہل کار نے بھی ثابت کر دیا وہ اسی لائق تھا، ہم گالیاں دے کے اور گالیاں کھا کے اب ذرا بدذائقہ نہیں ہوتے، بلکہ خوش ہوتے ہیں، افسوس کی بات یہ ہے اب بات اقرار الحسن کے والد محترم تک آ گئی ہے، اُنہیں وضاحتیں دینا پڑ رہی ہیں، ظاہر ہے آپ کسی کے باپ کو گالی دیں گے جواب میں وہ خاموش تھوڑی رہے گا، ایک بار میرے ایک جاننے والے نے مجھے ”کُتے کا بچہ“ کہہ دیا، میں نے اُس سے کہا ”آپ نے میرے والد محترم کو گالی دی ہے، میں بھی آپ کے والد محترم کو گالی دینا چاہتا ہوں، آپ مجھے اُن کا نام بتائیں اگر آپ کو معلوم ہو تو“، شکر ہے اقرار الحسن کو اپنے والد کا نام معلوم تھا۔
بدقراریاں
09:13 AM, 2 May, 2026