سرزمین پاکستان جسے قدرت نے بے پناہ نعمتوں سے نوازا ہے،اپنے اندر چار صوبوں، چار زبانوں، چار ثقافتوں اور تہذیبوں کا سنگم ہونے کا ملکہ رکھتی ہے۔ بلوچستان صرف ایک صوبہ نہیں، بلکہ پاکستان کے ماتھے کا وہ جھومر ہے جس کی چمک دشمن کی آنکھوں میں ہمیشہ سے کھٹکتی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے اور تاریخ بھی اسی امر کی تصدیق کرتی ہے کہ جب بھی کسی قوم نے ترقی کی شاہراہ پر قدم رکھا حاسدین نے سنگِ راہ بننے کی کوششیں جاری رکھیں۔ آج پاکستان کے ماتھے کا یہی جھومر یعنی بلوچستان ایک ایسے ہی دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف ریاست کی تعمیر و ترقی کے ان مٹ نقوش ہیں اور دوسری طرف غیروں کے اشاروں پر ناچنے والے چند آلہ کاروں کا بچھایا ہوا ریشہ دوانیوں کا جال بھی ہے۔
بلوچستان کے حقوق کی آڑ میں جھوٹا رونا رونے والے بعض عناصر درحقیقت اس مٹی کے خیر خواہ نہیں بلکہ اس کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے والے گروہوں (بی ایل اے، بی ایل ایف اور دیگر شرپسند تنظیموں) کے سہولت کار ہیں۔ یہ المیہ ہے کہ وہ لوگ جو خود کو بلوچ عوام کا نمائندہ کہتے ہیں وہی دشمن ایجنسیوں کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہو کر معصوم شہریوں کا لہو بہا رہے ہیں۔ ریاست کی ناکامی کا ''من گھڑت بیانیہ'' دراصل پاکستان کی ابھرتی ہوئی معیشت اور بہتر ہوتے ہوئے عالمی گراف سے پیدا ہونے والے خوف کا شاخسانہ ہے۔دشمن یہ جان چکا ہے کہ وہ میدانِ جنگ میں پاکستان کا مقابلہ نہیں کر سکتا، اسی لیے اس نے ''نفسیاتی جنگ'' کا سہارا لیا ہے۔ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر سیاسی ہیجان پیدا کرنا، بے بنیاد الزامات کی بوچھاڑ کرنا اور ''جنریشن زی'' (Generation Z) کی معصومیت اور جذباتیت کو ڈھال بنا کر ریاست کے خلاف اکسانا، اس گھنا¶نے کھیل کے مہرے ہیں۔
آج یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ لسانی دہشت گردوں اور خارجی فتنہ گروں کے ڈانڈے ایک ہی جگہ ملتے ہیں۔ ان کا اصل ہدف پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانا ہے۔ایک طرف قومی محافظوں پر حملےیعنی پاک فوج، پولیس اور سول آرمڈ فورسز کے جوانوں کو نشانہ بنانا اس لیے ہے کہ وہ اس ملک کے دفاع کی پہلی اور آخری لکیر ہیں۔ اور دوسری جانب غیر مسلح مزدوروں کا قتل یعنی پنجاب سے آئے ہوئے غریب مزدوروں یا چینی ماہرین کا خون بہانا کسی ''حق'' کی جنگ نہیں بلکہ پاکستان کو معاشی طور پر تنہا کرنے اور صوبائی عصبیت کو ہوا دینے کی ناکام کوشش ہے۔ان تمام تر سازشوں کے باوجود، ریاستِ پاکستان نے بلوچستان کی ترقی کے لیے جو عزم دکھایا ہے، وہ قابلِ تحسین ہے۔ بلوچستان آج محض ایک سنگلاخ خطہ نہیں بلکہ امن اور خوشحالی کا محور بن کر ابھر رہا ہے۔
ترقیاتی منصوبوں کی بات کی جائے تو سی پیک (CPEC) اور انفراسٹرکچرنظر آتا ہے، گوادر کی بندرگاہ اور اس سے جڑے سڑکوں کے جال نے بلوچستان کو عالمی تجارتی نقشے پر لا کھڑا کیا ہے۔ یہ صرف سڑکیں نہیں، بلکہ روزگار اور خوشحالی کی شاہراہیں ہیں۔تعلیم و صحت کی فراہمی کی بات کی جائے تو صوبے کے دور افتادہ علاقوں میں تعلیمی اداروں کا قیام اور صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کے معیارِ زندگی کو بلند کرنے کے لیے سنجیدہ ہے۔ جہاں تک مقامی قیادت سے مکالمہ کا تعلق ہے تو ریاست نے ہمیشہ بندوق کے بجائے بات چیت کو ترجیح دی ہے۔ مقامی کمیونیٹیز کو قومی دھارے میں شامل کرنا اور ان کے خدشات کو دور کرنا حکومتی حکمتِ عملی کا کلیدی حصہ رہا ہے۔
پاکستان نے حالیہ چند برسوں میں معاشی اور سفارتی محاذوں پر جو فتوحات حاصل کی ہیں ان سے دشمن بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری نے نہ صرف ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دیا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں اضافہ کیا۔ روپے کی قدر میں استحکام اور ایکسپورٹس میں اضافہ اس حقیقت کی گواہی ہے کہ پاکستان کی معیشت اب درست سمت میں گامزن ہے۔
انتہائی افسوسناک امر یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے ''پراپیگنڈوں اور ٹوئیٹس کی چمک دمک میں بعض اوقات ہم اپنی قومی کامیابیوں کو فراموش کر دیتے ہیں۔ منفی پہلو¶ں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا اور مثبت اقدامات پر پردہ ڈالنا ایک سوچی سمجھی مہم کا حصہ ہے۔ عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ملکی مسائل کا حل جذباتی نعروں میں نہیں بلکہ طویل المیعاد پالیسیوں اور استحکام میں پنہاں ہے۔
بلوچستان کی مٹی سے اٹھنے والی خوشبو اب بارود کے دھوئیں سے نہیں بلکہ تعمیر و ترقی کے پسینے سے مہکے گی۔ ریاست کی حدود میں رہتے ہوئے جو بیج بوئے گئے ہیں ان کے ثمرات اب واضح ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ جو لوگ پاکستان کو صرف تنقیدی کالموں یا منفی ٹوئیٹس کی عینک سے دیکھتے ہیں وہ حقیقت کی اس روشن تصویر کو دیکھنے سے قاصر ہیں جہاں پاکستان ایک مضبوط، مستحکم اور پرامن ریاست کے طور پر ابھر رہا ہے۔دشمن کے گماشتے چاہے جتنی بھی کوشش کر لیں، پاکستان کی جہدِ مسلسل اور کامیابیوں کی داستان کو مٹایا نہیں جا سکتا۔ بلوچستان کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے اور یہ سفر اب رکنے والا نہیں ہے۔
بلوچستان: تعمیر نو کی شمع اور فتنہ گری کی آندھیاں
09:06 AM, 1 May, 2026