محترمی و مکرمی! آپ اُس بیوہ کے درد غم کو محسوس کر سکتے ہیں، جس نے قریباً 35 سال شعبہ تدریس سے وابستہ رہ کرعلم کی روشنی کو پھیلایا ہو، طالبات کو حسن اخلاق کا درس دیا ہو، ریاست سے محبت کرنے کی تلقین کی ہو، جذبہ حب الوطنی پروان چڑھا یا ہو،اصول اور ایمانداری کے ساتھ عملی زندگی گذارنے کی نصیحت کی ہو، ایک گزٹیڈ آفیسر کے عہدہ سے ریٹائرڈ ہوئی ہوں تنخواہ سے باقاعدہ کٹوتی کراتی رہی ہوں کہ جب وہ ملازمت سے فارغ ہوں گی تو انہیں گھر کی چھت میسر ہو گی،لیکن ریٹائرڈمنٹ کے 19سال کے بعد بھی وہ گھر یا پلاٹ سے محروم ہیں جو انہیں پنجاب گورنمنٹ سرونٹس ہاﺅسنگ فاﺅنڈیشن کی سکیم کے تحت ملنا تھا، سنہری منصوبہ2004 سابق وزیراعلیٰ چودھری پر ویز الٰہی کے دورمیںباقاعدہ پنجاب اسمبلی ایکٹ کے تحت شروع ہوا ، ملازمین کی تنخواہ سے کٹوتی گریڈ کی بنیاد پر کی گئی 5مرلہ سے ایک کنال تک گریڈ 1 تا 22 تک گھر دیا جانا طے تھا ،گھر کے آپشن کو ختم کرکے بدقسمتی سے اب پلاٹ کی الاٹمنٹ پر اکتفا کیا گیا ، کیسے ہوا، راوی اس پر خاموش ہے۔
ظلم یہ کہ یہ سلسلہ بھی2012 سے منقطع ہے،راقم نے بیوہ سے استفسار کیا کہ آپ نے پلاٹ یا مکان کے حصول کے لئے مذکورہ فاﺅنڈیشن کے ذمہ داران کو کوئی درخواست گذار کی ہے، کہا کہ بہت پہلے عرضی دی مگر کسی نے نوٹس ہی نہیں لیا، درد بھرے لہجے میں سابقہ معلمہ نے بتایا کہ بدقسمتی سے میری بیٹی بھی اوائل عمر میں میری طرح بیوہ ہوگئی وہ بھی میرے ساتھ گھر کی چھت سے محروم ہے، موصوفہ اس واٹس ایپ گروپ کا حصہ ہیں جو متاثرہ ملازمین نے پنجاب کی سطح پر بنا رکھا ہے بلکہ ایک جنرل باڈی بھی تشکیل دی ہے تاکہ متاثرین کو پلاٹ یا مکان کا حق دلوانے کے لئے جدو جہد کی جائے۔
المیہ یہ 2012 کے بعد پنجاب کی سرکار نے یہ نوٹس ہی نہیں لیا، کروڑوں روپے ماہانہ کی بنیاد پر ملازمین کی تنخواہ سے کٹوتی کی صورت میں آرہے ہیں، انہیں کہاں صرف کیا جارہا ہے؟مذکورہ فاﺅنڈیشن کے پاس2004 سے ملازمین کا ڈیٹا اور اربوں روپے موجود ہیں مگر22سال کے بعد بھی صرف11789 ملازمین کو پلاٹ یا مکان دیئے گئے ہیں، ہزاروں مرد و خواتین اس بیوہ کی طرح مکان یا پلاٹس کی الاٹمنٹ کے منتظر ہیں۔
ملازمین کا دوسرا مسئلہ مروجہ اصول ہے کہ کسی بھی ملازم کی تنخواہ سے انشورنس کی رقم کی کٹوتی پر جو پالیسی آفر کی جاتی ہے وہ یہ جونہی ملازم ریٹائرڈ ہوتا ہے تو انشورنس کی رقم اسے بذریعہ چیک اد ا کی جاتی ہے، ارض مقدس میں60 کی دہائی سے ایک قانون موجود ہے کہ ملازم کی وفات کی صورت میں انشورنس کی رقم لواحقین کو ادا کی جائے گی،کیا طرفہ تماشا ہے کئی دہائیاں گذرنے کے بعد اس قانون کو بدلا نہیں گیا تنگ آمد بجنگ آمد کے تحت ملازمین نے اس رقم کے حصول کے لئے معزز عدلیہ سے رجوع کیا ہے، مختلف عدالتوں میں انشورنس کی رقم ملازمین کو ریٹائرمنٹ پر ادائیگی سے متعلق مقدمات زیر سماعت ہیں، مگر سابقہ قانون آڑے آجاتا ہے، باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ایوان بالا میں بل کی صورت میں یہ درخواست موجود ہ مگر قانون سازی کے مراحل میں ہے۔
تیسرا اہم ایشوملازمین کا یہ ہے کہ انکی تنخواہ سے بینوولٹ فنڈ کی رقم کی کٹوتی کی جاتی ہے،ملازم کی ریٹائر منٹ تک سلسلہ جاری رہتا ہے،اس کے عوض بچوں کے وظائف، بیٹی کی شادی کی گرانٹ اور تدفین کا خرچہ ضابطہ کے تحت دیا جاتا ہے،مگر کسی ملازم کو تحریری طور پر یہ نہیں بتایا جاتا کہ کتنی کل رقم اس نے ادا کی ہے، کتنی گرانٹ اس کو عطا کی گئی ، بہت سے ملازمین کے بچے وظیفہ کی شرط پر پورا نہیں اترتے، بعض ملازمین مرد خواتین عمر بھر شادی نہیں کرتے، کچھ اولاد یا بیٹی جیسی کی نعمت سے محروم رہتے ہیں انہیں کسی گرانٹ کی ضرورت نہیں ہوتی توا د اشدہ ر قم جو بلین روپے میں ہوسکتی ہے انہیں واپس ادا کیوں نہیں کی جاتی؟ ذرائع کہتے ہیں یہ معاملہ پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی کے سپرد ہے، صوبہ جات پر بھی اس کا اطلاق ہونا چاہئے۔
چوتھااہم ایشو سرکاری ملازمین کے جی پی فنڈ سے زکوٰة کاٹ لی جاتی ہے ،اس کی کٹوتی کی بابت ضلعی دفاتر خزانہ زکوٰةادائیگی کا کوئی ثبوت ملازم کو فراہم نہیں کرتے کہ کس محکمہ میں یہ رقم جمع کرائی گئی ، اس قانون کا از سر نو جائزہ لیا جائے اور ملازم کے فنڈ سے زکوٰة کی رقم منہا نہ کی جائے تاکہ ملازم خود اپنے ہاتھ سے اپنے خاندان کے ضرورت مند وں کو دے سکے شرعی طور پر یہی افضل اور پسندیدہ ہے۔
ہرچند آئین کی اٹھارویں ترمیم کا مقصد ،وفاق سے انتظامی بوجھ کم کرنا اور صوبوں کے مابین مسابقت کی فضا قائم کرنا تھا، وفاقی کے سالانہ میزانیہ میں جن مالی مراعات کا اعلان کیا جاتا ہے، تمام صوبہ جات اس پر من و عن عمل کرتے رہے ہیں، روایت یہی رہی ہے،مگر پنجاب سرکار نے ملازمین کی پنشن کی بابت2دسمبر2024 کا نیا نوٹیفکیشن جاری کیا اور اس کا اطلاق ان ملازمین پر کیا ہے جواوسطا ً30 سے 36 سال تک اپنے فرائض منصبی انجام دے چکے ،دنیا میںیہی مسلمہ اصول رائج ہے، جن شرائط پر ملازمین کو تعینات کیا جاتا تمام تر مراعات اسی حساب سے دی جاتی ہیں، پنجاب میں طرفہ تماشا یہ ہوا کہ 01دسمبر اور 02دسمبر 2024کے مابین چوبیس گھنٹے کے فرق سے ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین کی پنشن اور مراعات میں لاکھوں روپے کا مالی تفاوت پایا جاتا ہے،لیو ان کیشمنٹ کے قانون میں تبدیلی نگران سرکار نے کی جس کا مینڈیٹ ہی نہیں تھا،سب سے کم پنشن اس وقت پنجاب کے ملازمین کو مل رہی یہ ایک امتیازی سلوک اور خلاف آئین ہے جبکہ ٹیکس کی ادائیگی میں سب سے زیادہ شیئر پنجاب کے ملازم کا ہے آئین کا آرٹیکل (۳)184 اسی بابت ہے اور آپ کواز خود نوٹس لینے کا اختیار دیتا ہے۔
عزت مآب منصف اعلیٰ پاکستان! آپ کے نوٹس سے اگر کسی بیوہ کو گھر یا پلاٹ ملتا ہے، پنجاب کے ملازمین کی پنشن کے امتیازی قوانین کا خاتمہ ہوتا ہے، انشورنس اور بینوولینٹ فنڈ کی رقم ملک بھر کے ملازمین کومل جاتی ہے،تویہ معاشی گرداب سے نکل آئیں گے ان فرائض کو انجام دے سکیں گے جو سماجی اور عائلی طور پر ان کے ناتواں کندھوں پر ایک بڑابوجھ ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان کے نام کھلا خط
09:04 AM, 1 May, 2026