اسلام آباد : بھارتی زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں حالیہ حملے کی حقیقت کے حوالے سے نیا انکشاف سامنے آیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلی گرام پر لیک ہونے والی مبینہ خفیہ دستاویزات میں بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی "را" پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ یہ حملہ دراصل ایک "فالس فلیگ آپریشن" تھا، جس کا مقصد پاکستان پر الزام لگا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنا تھا۔
ذرائع کے مطابق دستاویزات میں یہ بتایا گیا ہے کہ "را" نے حملے کے بعد ایک خاص بیانیہ ترتیب دینے کی ہدایت کی تھی تاکہ اسے غیر مسلموں پر منظم حملہ ظاہر کیا جا سکے۔ اس بیانیے کے تحت، حملے کے 36 گھنٹے بعد پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی "آئی ایس آئی" پر الزام عائد کرنے کی منصوبہ بندی تھی۔ تاہم، بھارتی میڈیا نے منصوبے کے برخلاف فوراً پاکستان کو اس حملے کا ذمہ دار ٹھہرا دیا، جس سے اس سازش کی حقیقت بے نقاب ہو گئی۔
رپورٹ کے مطابق اس کے علاوہ، دستاویزات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ "را" کے فیلڈ آپریٹرز کو مخصوص علاقوں میں تعینات کیا گیا تاکہ جعلی گواہ اور شواہد تیار کیے جا سکیں۔ ان گواہوں کی مدد سے حملے کی تخلیق نو کی جانی تھی اور ساتھ ہی آئی ایس آئی کے ساتھ اس کے تعلقات کو ثابت کرنے کے لیے جعلی فرانزک شواہد پیش کیے جانے تھے۔
دستاویزات میں یہ بھی درج ہے کہ میڈیا مہم چلانے کے لیے 200 سے زائد جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا استعمال کیا گیا، تاکہ عالمی سطح پر بھارت کے موقف کو تقویت دی جا سکے۔ اس کے علاوہ، اس حملے کو ایک خاص تاریخ اور وقت پر انجام دینے کی حکمت عملی تیار کی گئی تھی، تاکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جنوبی ایشیا میں موجودگی کا فائدہ اٹھایا جا سکے اور بین الاقوامی سطح پر بھارت کو دہشت گردی کے خلاف یکجہتی کے پیغام کے طور پر پیش کیا جا سکے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق، یہ دستاویزات بھارتی حکومت کی "را" کے ذریعے کی جانے والی سازشوں کی تاریخ کو سامنے لاتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت نے ماضی میں بھی ایسے فالس فلیگ آپریشنز کیے ہیں، جیسے پلوامہ اور اوڑی حملے۔ ان حملوں کو سیاسی اور سفارتی فائدے کے لیے استعمال کیا گیا تھا، اور پہلگام حملہ بھی اسی سلسلے کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔
اب تک بھارتی حکومت یا "را" کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔