وزیر برائے ”غیر مصدقہ اطلاعات“ عطا اللہ تارڑ نے خوشخبری سنائی ہے ”بھارت اگلے 24 گھنٹوں میں پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کا ارادہ رکھتا ہے“ ، جنگ کسی بھی حالت میں نقصان دہ ہی ہوتی ہے ، اس کے باوجود کہ پاکستان نے دنیا میں امن قائم رکھنے کے لیے کوئی بڑا کردار ادا نہیں کیا جو ا±سے کرنا چاہیے تھا ، مگر پاکستان کو کسی صورت میں جنگ پسند ملک نہیں کہا جا سکتا یہ بھی ایک حقیقت ہے پاکستان پر جنگ اگر مسلط کی گئی اپنی تمام تر اندرونی کمزوریوں کے باوجود یہ دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے ، سو اس پس منظر میں انڈیا اگر واقعی جنگ کا فیصلہ کر چکا ہے ہماری بہادر مسلح افواج اور پاکستانی عوام کے لیے یہ ایک خوشخبری ہی ہے کہ اس طرح ہمیں اپنے روایتی دشمن کو مزہ چکھانے کا ایک اور موقع مل جائے گا ، ایک طرف مودی نے فوج کو کارروائی کا اختیار دے دیاہے دوسری طرف بھارتی فوج کو آپس میں لڑنے سے ہی فرصت نہیں مل رہی ، ابھی کل کی خبر ہے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد بھارتی فوج بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی جس کے بعد اس نے اپنے ہی سکھ فوجیوں پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں پانچ سکھ اہلکار ہلاک ہو گئے ، میرے خیال میں سکھ فوجیوں پر فائرنگ ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ اس لیے بھی ہو سکتی ہے کہ سکھ کمیونٹی کسی صورت میں پاکستان کے ساتھ جنگ نہیں چاہتی ، یہ بھی حقیقت ہے دنیا بھر میں قیام پذیر سکھ کمیونٹی پاکستان کے ساتھ والہانہ محبت رکھتی ہے ، پاکستان نے سکھوں کے حقوق کا ہمیشہ خیال رکھا پاکستان کے ساتھ سکھوں کی محبت کا یہ عالم ہے وہ پاکستان کو محبتوں کے حوالے سے اپنا دوسرا ملک سمجھتے ہیں، چنانچہ بھارتی فوج کے دو یونٹوں میں فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں پانچ سکھ فوجیوں کی ہلاکت کے بعد بھارتی افواج میں موجود سکھوں میں غم و غصے کی جو لہر دوڑے گی اس کا فائدہ پاکستان کوہی ہوگا ، امریکہ اور کینیڈا میں میرے بے شمار سکھ دوست ہیں گزشتہ دو روز سے وہ مجھ سے رابطے میں ہیں ، جنگ کی صورت میں وہ پاکستان کے لیے ہر قسم کی جانی اور مالی قربانیوں کے لیے پرعزم ہیں ، کچھ سکھ دوست اس قدر جذباتی ہیں ا±نہوں نے ارادہ باندھ رکھا ہے اگر جنگ ہوئی وہ امریکہ میں مقیم سکھوں کی ایک بہت بڑی”فوج“ لے کر پاکستان آئیں گے اور پاکستانیوں کے ساتھ مل کر ہندوستان کا مقابلہ کریں گے ، پاکستان میں ہمارے ایک سکھ دوست معروف صحافی و اینکر ہرمیت سنگھ ان دنوں اپنے مخصوص انداز میں پاکستان کے ساتھ جو اظہار یکجہتی فرما رہے ہیں اس سے بھی بخوبی اندازہ ہوتا ہے دنیا بھر میں موجود سکھ کمیونٹی جنگ کی صورت میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دے گی ، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے سکھوں کے بے شمار مقدس مقامات پاکستان میں ہیں ، جنگ کی صورت میں ان میں سے کسی ایک کو کوئی نقصان پہنچا سکھ کمیونٹی کے لیے یہ ناقابل برداشت ہوگا ، ہرمیت سنگھ نے بالکل درست فرمایا ہے”جرنیل جنگ کے نقشے تو بناتے ہیں مگر امن کی راہیں نہیں ، امن کے اصل معمار وہ لوگ ہوتے ہیں جو ادب فن اور ثقافت سے جڑے ہوتے ہیں جو نفرت کے اندھیروں میں محبت اور انسانیت کے چراغ جلاتے ہیں اور دلوں کے فاصلے مٹا کر قوموں کو قریب لاتے ہیں“ ، میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں دونوں ملکوں کے ادب و فن اور ثقافت سے ج±ڑے ہوئے لوگ جنگ نہیں چاہتے ، وہ چاہتے ہیں نفرتوں کو ختم کر کے محبتوں کے ایسے چراغ روشن کئے جائیں جو کبھی نہ ب±جھیں ، ان حالات میں جنگی جنون میں ب±ری طرح مبتلا بھارت کو چاہیے وہ ہوش کے ناخن لے ورنہ پاکستان نے اس بار ا±س کے صرف ناخن نہیں پورے بازو کاٹنے کا پورا بندوبست کر رکھا ہے، ہندوستانی فوج میں صرف ایسے سکھ ہی رہ جانے ہیں جیسے بھارتی فوج کے ایک سکھ سپاہی نے 1965ءکی انڈیا پاکستان جنگ کے دوران ایک پہاڑ کی چوٹی سے اپنے میجر کو آواز دی”میجر صاحب میں دشمناں دا اک فوجی پھڑ لیا جے“ ، میجر صاحب بہت خوش ہوئے اور ا±س سے کہا”ویل ڈن کرتار سنگھ ہ±ن اینو پھڑ کے میرے کول لے کے آ “ ، سکھ فوجی بولا”سر جی میں اینوں کیویں لے کے آواں ، ایہہ تے مینوں چھڈ ای نئیں ریا “ ، ابھی تو جنگ شروع ہی نہیں ہوئی”اجے تے صرف لین گے نے“ کہ ہندوستان کی فوج میں ٹ±وٹ پھوٹ شروع ہوگئی ہے ، آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا ، اگلے روز شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق مودی سرکار نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد پاکستان کے خلاف فوری طور پر مہم جوئی سے انکار کرنے والے بھارتی لیفٹیننٹ جنرل ایم وی سچندر کمار کو کمانڈر نادرن کمانڈ کے عہدے سے نہ صرف فوری طور پر الگ کر دیا بلکہ اسے حراست میں لے لیا ، ایک اور بھارتی جنرل پراتک شرما نے سومنات ہال سری نگر میں فوجیوں سے ملاقات کی اسے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا ، اس موقع پر فوجی افسروں اور جوانوں نے مودی کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کی اور جنرل شرما بلکہ جنرل ” بے شرما “ کو صاف صاف بتایا ”کشمیری مسلمانوں میں بھارتی فوج اور مودی سرکار کی انسان دشمن پالیسیوں کے خلاف سخت نفرت پائی جاتی ہے جو فوج میں بغاوت کا باعث بن سکتی ہے ، ان حالات میں ہم نے مودی کو کیا مشورہ دینا ہے اس کے اپنے لوگ اے جنگ سے باز رہنے کے مشورے اور وارننگیں دے رہے ہیں ، ہم بھی یہی عرض کریں گے ” رین دیو مودی جی ، جنگ کھیڈ نئیں ہوندی ”مودیاں“ دی ، “اگر آپ کا مقصد صرف الیکشن جیتنا ہے تو پیار محبت سے ہمارے حکمرانوں کے ساتھ بیٹھیں ، وہ الیکشن جیتنے کے کئی جائز ناجائز طریقے آپ کو بتا دیں گے۔
جنگ کھیڈ نہیں ہوندی”مودیاں“ دی
09:52 AM, 1 May, 2025