پانی پر سیاسی کشمکش اور کشیدگی

09:43 AM, 1 May, 2025

پاک بھارت سرحد پرگرما گرمی کی صورتحال ہے۔سرحد کے دونوں اطراف انتہائی کشیدہ صورتحال ہے۔ یہ کشیدگی اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے کہ نوبت پانی کی تقسیم اور سیاسی کشمکش پر آگئی ہے۔ ماضی کی کتاب کی ورق گردانی کریں تو یہ آشکار ہوتا ہے کہ بٹوارے کے بعد 1960 میں انڈس واٹرٹریٹی کے نام سے پاک بھارت کے درمیان پانی کا ایک معاہدہ ہوا۔یہ ایک اہم اور پیچیدہ معاہدہ ہے جس کے تحت پاکستان اور بھارت کے درمیان دریائوں کے پانی کے حقوق کا تعین کیا گیا۔ اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان پانی کے وسائل کو منصفانہ طریقے سے تقسیم کرنا ہے تاکہ تنازعات سے بچا جا سکے اور دونوں ممالک کو فائدہ پہنچے۔ اس معاہدے کی ثالثی عالمی بینک نے کی تھی۔
اس معاہدے کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی کیونکہ 1947 میں ہندوستان کی تقسیم کے وقت پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کے مسائل ابھرنے لگے ۔ بھارت نے 1948 میں پاکستان کے لیے پانی کے بہاؤ کو روک دیا تھا، جس سے پاکستان میں زرعی بحران پیدا ہوا تھا۔انڈس واٹرٹریٹی کے مطابق، بھارت کو پاکستان کے دریاﺅں پر کوئی بھی منصوبہ بنانے سے پہلے پاکستان کو مطلع کرنا ہوتا ہے اور یہ یقینی بنانا ہوتا ہے کہ اس سے پاکستان کے پانی کے حقوق متاثر نہ ہوں۔
پاکستان نے بھارت کے ہائیڈروپاور پراجیکٹس کے حوالے سے کئی بار عالمی بینک میں شکایات درج کرائیں۔ عالمی بینک نے کئی مرتبہ اس بات کا نوٹس لیا اور بھارت سے کہا کہ وہ ان پراجیکٹس کی تفصیلات پاکستان کے ساتھ شیئر کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ پاکستان کے پانی کے حقوق متاثر نہ ہوں۔امر واقع یہ ہے کہ موجودہ صورتحال میں بھارت کی طرف سے پاکستان کا پانی بند کرنے کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ اس کے بدلے میں پاکستان نے بھارت کا فضائی راستہ بند کردیا ہے ۔فضائی حدود کی بندش سے بھارتی ایئرلائنز کی پروازوں کا شیڈول متاثر ہو رہا 
ہے۔رپورٹ کے مطابق بھارت کی ایوی ایشن انڈسٹری کو اس فیصلے کے نتیجے میں 400 پروازوں کی روزانہ متاثر ہونے کا سامنا ہے۔ بھارتی ایئر لائنز روزانہ 100 طیاروں کے ساتھ پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرتی تھیں، لیکن اب ان کی پروازوں کو نئے راستوں پر جانا پڑ رہا ہے جس سے ان کی آپریشنل لاگت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق، اضافی اخراجات اور پروازوں کی منسوخی کی وجہ سے ایئر انڈیا کو 372 کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا، جو روزانہ 6 کروڑ روپے کے برابر ہے۔ 
سرحد کے دونوں اطراف اگرچہ شدید گرما گرمی ہے لیکن پاکستان کے لیے سکھ رہنماﺅں کی حمایت قابل ستائش ہے۔ سکھ رہنما¶ں کی طرف سے جو جوابات اور ردعمل ملے ہیں اس سے پاکستان کے موقف کی حمایت ظاہر ہوتی ہے ۔بھارت مختلف مواقع پر عالمی قوانین اور معاہدوں کی خلاف ورزی کرچکا ہے۔ بھارت نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں ایک طرفہ فیصلوں کا سہارا لیا ہے ۔مغربی دنیا، خاص طور پر امریکہ اور یورپ، بھارت کی عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں پر خاموش رہتی ہے جس کی وجہ مبصرین کے نزدیک یہ ہے کہ بھارت کو عالمی سطح پر ایک اہم سٹریٹجک اتحادی سمجھا جاتا ہے۔
اس صورتحال میں چین پاکستان کا اہم اتحادی تصور کیا جاتا ہے۔ تاریخ کی ورق گردانی کی جائے تو چین اور بھارت کے درمیان پانی کے حوالے سے تعلقات پیچیدہ اور حساس ہیں، اور ماضی میں دونوں ممالک کے درمیان پانی کے وسائل پر کشیدگی کے کئی اشارے ملے ہیں۔ چین اور بھارت کے درمیان سب سے اہم آبی رشتہ دریائے برہماپترا (جو چین میں یارلونگ تسنگپو کہلاتا ہے) کا ہے۔ یہ دریا تبت کے پہاڑوں سے نکل کر بھارت کے شمال مشرقی علاقوں میں بہتا ہے، خاص طور پر آسام اور دیگر شمال مشرقی ریاستوں میں۔ اس دریا کا پانی بھارت کے لئے انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ اس کے کئی علاقوں میں زراعت اور پینے کے پانی کی فراہمی کا ذریعہ ہے۔چین نے اس دریا پر متعدد ڈیمز اور ہائیڈرو پاور پروجیکٹس شروع کیے جن سے بھارت کو تشویش ہوئی تھی کہ یہ اس کے پانی کے ذخائر کو متاثر کر سکتا ہے۔ 2010 میں چین نے یارلونگ تسنگپو پر دنیا کا سب سے بلند ترین ڈیم بنانے کا منصوبہ شروع کیا تھا، جس کے بعد بھارت میں یہ خدشات پیدا ہوئے کہ اس کے نتیجے میں پانی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔
چین عالمی سطح پر اپنے آبی منصوبوں کو نظرانداز نہیں کرتا، کیونکہ اس کے آبی اقدامات عالمی تعلقات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ چین اور بھارت نے ماضی میں اپنے آبی تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے کچھ معاہدے کیے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان پانی کے مسائل پر کشیدگی نہ ہو۔ پانی کی وجہ سے دریائے نیل شمال مشرقی افریقہ کا سب سے اہم دریا ہے، جو کئی ممالک میں بہتا ہے، جن میں مصر اور ایتھوپیا شامل ہیں پر تنازعات ہیں۔ ایتھوپیا نے دریائے نیل پر ایک بڑا ڈیم، ''ہِیلو ٹین'' (Grand Ethiopian Renaissance Dam - GERD) بنایا ہے، جس پر مصر اور سوڈان کو تشویش ہے کہ اس سے ان کے پانی کے وسائل متاثر ہوں گے۔اس فہرست میں دریائے سندھ (پاکستان اور بھارت ) ، دریائے برہماپترا (چین اور بھارت) کے درمیان بھی تنازعات کاشکار رہتا ہے۔ اگرچہ دنیا بھر میں پانی کے تنازعات شدید نہیں ہوئے، لیکن بڑھتی ہوئی آبادی اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے یہ خطرہ بڑھ رہا ہے کہ مستقبل میں پانی کے وسائل پر شدید کشیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
سرحد کے آرپار لفظی گولہ باری ہورہی ہے پر نتھو اور پتھو کی اپنی ہی منطق ہے۔نتھو نے کہا کہ پانی کی بندش کا سن کر میں نے گھر جاکر ڈرتے ڈرتے نلکا کھولا۔۔۔ہائیں پر یہ کیا؟۔۔۔ بھائیو!۔۔ میرے گھر میں توپانی آرہاتھا۔۔میں نے گھر والی سے کہا نجانے پانی کی بندش کی درفنطنی جو اب شرفنطنی کی صورتحال اختیار کرچکی ہے نجانے کس نے چھوڑی ہے؟۔۔۔میں تو چلا نہانے! ۔۔۔سچ ہے صاحبو !سرحد پار سے پانی کی جوبھی صورتحال ہو فی الحال تو بھارت کو فضائی بندش کی وجہ سے شدید نقصان کا سامنا ہورہا ہے۔۔۔ باقی رہے نام اللہ کا!۔

مزیدخبریں