عوام پولیس سے کیسے تعاون کر سکتی ہے؟

09:42 AM, 1 May, 2025

دنیا بھر میں مین سٹریم میڈیا پر زوال دیکھنے میں آ رہا ہے لیکن کمیونٹی جرنلزم ایک ایسا میڈیم ہے جس کی ضرورت،اہمیت اور افادیت کبھی کم نہیں ہو گی،دنیا بھر کے ممالک میں کمیونٹی بیس ہفت روزے ،ماہنامے بڑی تعداد میں نہ صرف شائع ہوتے ہیں بلکہ انہیں بہت پذیرائی بھی ملتی ہے،پاکستان میں بد قسمتی سے کمیونٹی جرنلزم کو فروغ نہیں دیا،جا سکا جس کی کئی وجوہات ہو،سکتی ہیں ،وسائل بہر حال ایک اہم اور بڑی وجہ ہے،لیکن اس سب کے باوجود اگر کوئی فرد یا ادارہ کسی خاص شعبے میں کام کر رہا،ہے تو،وہ لائق تحسین ہے۔
لاہور سے عرصہ 27 سال سے تعلیم کے شعبے میں راقم کے پرچے ہفت "سکول لائف" اور پولیس کے محکمے اور کرائم کے حوالے سے گزشتہ سترہ سال سے طارق ضیا صاحب کے ماہانہ میگزین انسپیکشن ٹیم کی اشاعت ایک قابل تقلید مثالیں ہیں۔ انسپیکشن ٹیم میگزین کی کامیاب اور مسلسل اشاعت کا سہرا جہاں اس کے چیف ایڈیٹر طارق ضیا کی معاونت اور تعاون پر مبنی ہے وہیں برخوردار کامران ابرار کی دن رات کی انتھک محنت کے سر جاتا ہے ان کے اندر جنون ہے جو اسے لیئے چل رہا ہے۔ اس پر پھر کسی وقت تفصیل سے اظہار خیال کیا کیا جاے گا۔
سر دست اتنا ہی کافی ہے کہ اس پرچے میں قلمی تعاون فرمانے والے بھی معتبر نام ہیں جن کی تحریروں تجزیوں ،تحقیقاتی سٹوریوں اور فیچرز نے اس پرچے کو چار چاند لگا،رکھے ہیں اور محکمہ پولیس اور عوام کے درمیاں بہترین سفارت کاری کے ذریعے پولیس کا،امیج بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
گزشتہ دنوں اور اس،قبل کئی بار انسپیکشن ٹیم کی ساری ٹیم کے اعزاز میں سی سی پی او آفس میں جناب عمران کشور ڈی آئی جی جو آج کل ایڈمن کے فرائض سراانجام۔دے رہے ہیں، جبکہ اس سے پہلے کئی اہم سیٹوں پر تعینات رہے،وہ ہر دلعزیز شخصیت ہونے کے ساتھ اپنے محکمے کے بہترین اور ملنسار آفیسر ہیں جن کے کریڈیٹ میں بڑی اہم کامیابیاں ہیں ،انہوں نے سی سی پی آفس میں منعقدہ تقریب میں انسپیکشن ٹیم کے تمام ممبران کو اعزازی شیلیڈ زسے نوازا اور بہترین تواضع کی جبکہ نجم مزاری کی جانب سے دیئے گئے فیملی تحائف ایک یادگار تحفہ تھے۔ میں سمجھتا ہوں اس،ساری کاوش کے پیچھے کامران ابرارکی اپنے ساتھیوں کے لئے خلوص ،محبت اور اخلاص جھلکتا نظر ارہا تھا جبکہ ڈی آئی جی عمران کشور کی خصوصی محبت شامل تھی۔اس طرح کی تقریبات کاایک مقصد یہ بھی ہے کہ پولیس کا،عوام کے اندر مثبت امیج اجاگر کیا جاے تاکہ عوام پولیس کی معاون بن کر شہروں میں جرائم کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کرے، دیکھا گیا ہے کہ کہیں کوئی واقعہ یا حادثہ یا جرم ہوتا ہے تو عوام چپ کر دڑ وٹ والی پوزیشن اختیار کرتے ہیں اس کی وجہ پولیس کا خوف ہی ہے۔اگر یہ خوف عوام کے ذہنوں سے نکل جاے تو عوام سے بہتر مدد گار اور کوئی نہیں ہو سکتا یوں جرائم کے خاتمے میں عوام پولیس کے شانہ بشانہ کھڑی ہو سکتی ہے۔
ڈی آئی جی عمران کشور بطور ایڈمن اس ضمن میں بہتر کردار ادا کر رہے ہیں انہوں نے سینئر صحافیوں سے ملاقاتیں شروع کی ہیں جس کا مقصد پولیس کی کارکردگی اور امیج کو اجاگر کرنا ہے۔آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کہ کمانڈ میں نہ صرف پولیس کا امیج بہتر ہوا ہے بلکہ جرائم میں کمی واقع ہونے کے ساتھ محکمہ پولیس کے اہلکاروں سے لیکر افسران تک کے مسائل بھی کافی حد تک حل ہوئے ہیں۔
ضرورت بھی اس امر کی ہے کہ اگر ملک سے جرائم کے خاتمے ساتھ امن وامان کو بہتر کرنا ہے تو پولیس خو عوام کے ساتھ دوستی کرنی ہو گی بطور ایڈمن ڈی آئی جی عمران کشور کو چاہیے کہ وہ کالم نگاروں،دانشوروں اور اینکرز سے ملاقاتوں کا سلسلہ بڑھائیں کیونکہ ہی لوگ اپنی تحریروں، تجزیوں اور گفتگو کے ذریعے امیج بہتر کرنے میں اپنا بہتر کردار ادا،کر سکتے ہیں۔

مزیدخبریں