دن اچھے برے آتے رہتے ہیں اور وقت بھی سدا ایک سا نہیں رہنا لیکن انسانی کردار اور روئیے یاد رہتے ہیں۔ 2019میں جب پلوامہ واقعہ ہوا تو بانی پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ” کیا میں ہندوستان پر حملہ کر دوں “ ۔ یہ بانی پی ٹی آئی نے کہا تھا اور اب انہی کی جماعت کے عمر ایوب خان کو موجودہ حکومت کے اس بیانیہ پر شدید اعتراض ہے کہ اس نے ہندوستان کو پہلگام واقعہ کی تحقیقات میں تعاون کا کیوں کہا ہے ۔
بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے
لیکن بات یہیں تک محدود نہیں ہے بلکہ تحریک انصاف کا سوشل میڈیا اس وقت جس کردار کا مظاہرہ کر رہا ہے اسے بھی قوم یاد رکھے گی اور یہ سب کچھ اس کے باوجود کیا جا رہا ہے کہ ملک و قوم اس وقت حالت جنگ میں ہیں اور اس حقیقت کو لوگوں کی نظروں سے اوجھل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ پلوامہ واقعہ ہو یا مودی نے جب کشمیر کو ہندوستان میں ضم کیا تھا تو اس وقت دنیا کا کوئی ایک ملک حتیٰ کہ کوئی برادر اسلامی ملک بھی پاکستان کے ساتھ کھڑا نہیں ہوا تھا لیکن اس کے باوجود بھی تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کی جانب سے پروپیگنڈا کا ایک طوفان ہے کہ جو سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ بنانے پر تلا ہوہے کہ تحریک انصاف کی حکومت دنیا میں بڑی مقبول تھی حالانکہ حقیقت وہی ہے کہ جو ہم نے بیان کی کہ کوئی ایک ملک بھی اس وقت پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونے کو تیار نہیں تھاجبکہ اس کے بر عکس موجودہ حکومت کے ساتھ امریکا سمیت پوری دنیا کھڑی نظر آ رہی ہے ۔
سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے پاکستان کا دورہ کیا ۔ چین کے سفیر خود چل کر دفتر خارجہ پہنچے اور پاکستان کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کرنے اور یک جہتی کا اظہار کیا اور چینی قیادت سے پاکستانی قیادت مسلسل رابطے میں ہے ۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارت اپنی مرضی کی قرار داداد منظور نہیں کروا سکا اور یہ پاکستانی دفتر خارجہ کی ایک بڑی کامیابی اور دنیا کے پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کی دلیل ہے ۔ اس کے علاوہ خالصتان موومنٹ کے رہنما گرپتونت سنگھ نے پاکستان کے ساتھ اظہار یک جہتی کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج کو پاکستان پر حملہ کرنے کے لئے پنجاب سے گذرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ہم اور تمام سکھ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس کے علاوہ سعودی عرب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو ایران نے بھی ثالثی کی پیشکش کی ہے ۔ ترکی ہر طرح کے تعاون کے لئے تیار ہے جبکہ امریکن صدر ٹرمپ کہ جس پر مودی سرکار کو بڑی امید تھی کہ وہ پاکستان کے مقابلے میں ہندوستان کا ساتھ دیں گے وہاں بھی دال نہیں گلی اور ایسے موقعہ پر امریکن صدر کا نیوٹرل رہنا پاکستان کی بڑی فتح ہے ۔ پوری دنیا کے ممالک ہندوستان کے مقابلے میں پاکستان کا ساتھ دے رہے ہیں اور اس حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں کہ جس کے متعلق تحریک انصاف کا سوشل میڈیا چوبیس گھنٹے پروپیگنڈا کرتا ہے کہ اس حکومت کی تو دنیا میں کوئی وقعت ہی نہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ 2019میں پاکستان کے ساتھ کوئی کھڑا ہونے کو تیار نہیں تھا اور اس وقت حکومت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی کی وجہ سے پاکستان دنیا میں تنہا ہو چکا تھا لیکن یہ تمام ممالک صرف زبانی کلامی پاکستان کے ساتھ نہیں کہ صرف رسمی طور پر پاکستان کے حق میں بیان دے کر خاموش ہو گئے بلکہ عملی طور پر بھی جو کچھ کر رہے ہیں اس کی تفصیل جان کر قارئین حیرت میں پڑ جائیں گے ۔
چین روزانہ کی بنیاد پر پاکستان کی عملی مدد کر رہا ہے اور ہندوستان کے پاس جو فرانسیسی رافیل طیارے ہیں ان کے مقابلے میں جدید ترین جے ایف سیریز کے حوالے سے میزائلوں سے لیس جنگی جہاز دے رہا ہے کہ انڈین میڈیا نے جن کی تصویریں لگا کر واویلا کیا کہ چین کس طرح پاکستان کی مدد کر رہا ہے ۔ کبھی PF-15±ٍ میزائل تحفے میں پاکستان کو دئیے جو ڈھائی سو سے تین سو کلو میٹر تک مار کرتے ہیں ۔ایک اور خبر کے مطابق چین کی طرف سے J20مائٹی ڈریگن نامی دو طیارے ملے ہیں ۔ یہ اس حد تک کارگر ہیں کہ انھیں امریکن جدید ترین جنگی طیاروں کے ہم پلہ سمجھا جاتا ہے اور یہ طیارے ریڈار پر نظر نہیں آتے اورہزاروں کلو گرام وار ہیڈ اپنے ساتھ لے کر جاتے ہیں ۔چینی حکومت کی جانب سے ابھی ان کو مارکیٹ میں نہیں لایا گیا لیکن پاک چین دوستی زندہ باد ۔ اس کے ساتھ ساتھ ترکی نے TP2سے زیادہ ایڈوانس1000 جنگی ڈرون دیئے ہیں جو1500کلو وزنی جنگی ہتھیاروں کے ساتھ 25گھنٹے فضا میں رہ سکتے ہیں اور ان کی رینج 7500کلو میٹر تک ہے ۔ ان کا کنٹرول سسٹم بھی پاکستان کے حوالے کر دیا گیا اور یہ جاسوسی کے مقاصد کے لئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ جو خبریں ہیں وہ یہ ہیں کہ چین ، ایرن ، ترکی اور یو اے ای کی جانب سے پاکستان کی ڈرون فورس کو تیار کر کے اسے پاکستان کی فضائیہ میں شامل کیا جا رہا ہے ۔ یہ وہ ساری پیش رفت ہے کہ جس کے بعد ہندوستان کی مودی سرکارپاکستان پر حملہ تو کرنا چاہتی ہے لیکن افسوس کہ جب عسکری ماہرین کی رائے آتی ہے تو وہ حملہ نہیں کرنے دیتی ۔ یہ سب تو جنگی سازو سامان کے حوالے سے انتہائی مختصر طور پر قارئین کو آگاہ کیا لیکن خود بھارت میں بھی تقسیم واضح ہو چکی ہے اور خدا نے چاہا تو پاکستان اس صورت حال سے سرخرو ہو کر نکلے گا ۔
پاک انڈیا کشیدگی اور حکومتوں کا فرق
09:36 AM, 1 May, 2025