گیارہویں پارے  کا خلاصہ

09:17 AM, 1 Mar, 2026

دسویں پارے کے آخر میں ان منافقین کا ذکر تھا جو جہاد میں نہ جانے کیلیے حیلے بہانے بنارہے تھے۔ اب ان آیات میں ان منافقین کاذکر ہے جو جہاد میں نہیں گئے اور وہ اس پر جھوٹے عذر پیش کررہے ہیں۔ آیت نمبر 94 تا 96 میں منافقین کے بارے میں تین حکم دیئے گئے ہیں: 
 -1آپ ان سے کہہ دیجیے کہ بیکار اور جھوٹے عذر پیش نہ کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں تمہارے تمام حالات وواقعات سے آگاہ فرمادیا ہے کہ تم جھوٹے ہو۔ 
-2 نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا جارہا ہے کہ آپ ان سے اعراض کریں یعنی نہ ہی ان پر ملامت کریں اور نہ ہی ان سے تعلقات رکھیں۔ 
-3 منافقین قسمیں کھا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو راضی کرنے کی کوشش کریں گے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے راضی نہیں ہونا۔ 
شروع والی آیات میں منافقین کا ذکر تھا۔ پھر اس کے بعد ان کے مقابلے میں مؤمنین مخلصین کا ذکر ہے۔ جو مسلمان غزوہ تبوک میں شریک نہ ہوسکے وہ دس تھے۔ ان میں سے اس آیت میں سات حضرات کاذکر ہے جنہیں اپنی غلطی پر ندامت ہوئی اور انہوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی غزوہ تبوک سے واپسی سے پہلے اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستونوں سے باندھ لیا تھا یہ کہہ کر جب تک خود اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں معاف کرکے نہیں کھولیں گے اس وقت تک ہم یہیں بندھے رہیں گے۔ پھر ان کی توبہ قبول ہوئی اور انہیں کھول دیا گیا۔ بقیہ تین کا ذکر آگے آرہا ہے۔ پھر مسجد ضرار اور منافقین کی ایک خطرناک سازش کا ذکر ہے۔ انہوں نے مسجد کے  نام پر ایک عمارت تعمیر کی جس کا مقصد ایک ایسا محاذ بنانا تھا جس کے ذریعہ مسلمانوں کو نقصان پہنچایا جائے، مسلمانوں کی جمعیت کوتوڑا جائے، اللہ اور اس کے رسول کے دشمنوں کوپناہ دی جائے وغیرہ۔ انہوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ کسی وقت تشریف لاکر نماز پڑھیں تا کہ اسے برکت حاصل ہو! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے چاہا تو میں غزوہ تبوک سے واپسی پر آؤں گا۔ غزوہ تبوک سے واپس پہنچنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اس کی حقیقت کھول دی اور نمازپڑھنے سے بھی منع فرمادیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوصحابہ کرامؓ کوبھیج کراس عمارت کوتباہ وبرباد کروادیا۔  اس کے مقابلے میں مسجد قباء کی فضیلت بیان فرمائی جس کی بنیاد تقویٰ اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی پر ہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے مدینہ ہجرت کرکے تشریف لائے تو اس وقت کچھ دن قباء میں قیام کے دوران اس مسجد قباء کی بنیاد رکھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اہل قباء کی تعریف فرمائی کہ مسجدِ قباء میں نماز پڑھنے والے ایسے لوگ ہیں جو ظاہری اور باطنی پاکیزگی وصفائی کا خوب اہتمام فرماتے ہیں۔ 
پہلے بغیر عذر جہاد سے رکنے کی مذمت کا ذکر تھا، اب مجاہدین کی فضیلت کا بیان ہے۔ اس آیت میں بیعت عقبہ کا ذکر ہے۔ بعثت نبوی کے تیرھویں سال تیسری مرتبہ یہاں مدینہ منورہ سے آئے ہوئے ستر مرد وخواتین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت اور خصوصی طور پر جہاداور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت وحمایت کرنے پر بیعت کی۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر ہم اس پر عمل کریں تو ہمیں کیا ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجنت ملے گی۔ انہوں نے کہاہم اس سودے پر راضی ہیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں سے جنت کے بدلے میں ان کی جان ومال خرید لیے ہیں۔ 
اس کے بعد مؤمنین مخلصین میں سے تین حضرات (مرارہ بن ربیع العمری، ہلال بن امیہ اور کعب بن مالک رضی اللہ عنہم) کا ذکر ہے جو غزوہ تبوک میں شریک ہونے سے رہ گئے تھے۔ انہوں نے صاف صاف اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی غلطی کا اعتراف کیا تھا۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے بارے میں کوئی حکم نہیں آتا تب تک ان کا معاشرتی بائیکاٹ کیاجائے یہاں تک کہ بیویوں سے بھی الگ رہنے کا حکم دیا گیا۔ بالآخر پچاس دن کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کی توبہ قبول ہونے کوبیان فرمایا۔ 
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے  ایمان والوں کو متقی بننے کا بہترین نسخہ دیا ہے۔ فرمایا اگر تم متقی بننا چاہتے ہو تو متقین کے ساتھ رہو، جو  خدا سے ڈرتے ہیں۔ اور یہاں متقین کے لیے لفظ صادقین فرمایا ہے یعنی وہ لوگ جن کی خلوت و جلوت ایک جیسی ہے۔ تو متقی بننے کا سب سے آسان اور بہترین نسخہ متقین کے ساتھ رہنا ہے جو تنہائی میں بھی پاک باز ہوتے ہیں اور لوگوں کے سامنے بھی پرہیز گار ہوتے ہیں۔ 
پھر اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ ایسا پیغمبر ہم نے تمہیں دیا ہے جو تم میں سے ہے اور افضل ہے اور جس کو تمہاری تکلیف پر تکلیف محسوس ہوتی ہے۔ تمہاری دنیا اور آخرت کے بارے میں بہت حریص اور بہت زیادہ فکرمند ہیں۔ تمہارے لیے مہربان ہیں۔ سورۃ توبہ کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے کہ اگر کفار اعراض کریں اور دعوت کوقبول نہ کریں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبر اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں۔ 
سورۃ یونس
سورۃ یونس مکی ہے اور مکی سورتوں کی طرح اس میں بھی توحید،رسالت اور آخرت کے مضامین پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ مشرکین کے اعتراضات کے جوابات اور ان کی ہٹ دھرمی پر سابقہ قوموں کے حالات وواقعات کو بیان کرکے وعیدات سنائی گئی ہیں۔ عقائد اور ترغیب و ترہیب کا پہلو غالب ہے۔ اس سورۃ میں بطور خاص حضرت یونس علیہ السلام اور ان کی قوم کا ذکر ہے اسی مناسبت سے اس کا نام سورۃ یونس ہے۔ 
اس سورۃ کے شروع  میں مشرکین کے ایک شبہ کا جواب دیا جارہا ہے۔ شبہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف انسان کو نبی بنا کر کیوں بھیجا ہے،کسی فرشتہ کو نبی بنا کرکیوں نہیں بھیجا؟  تو انہیں جواب دیا کہ اس پر شبہ اور تعجب نہ کریں اس لیے کہ اگر کسی فرشتہ کو نبی بنا کر بھیجتے توجو رسالت کا مقصد تھا وہ فوت ہوجاتا۔ انسان فرشتہ کی بات کیسے سمجھتا؟ اس لیے زمین پر بسنے والے انسانوں کی ہدایت ورہنمائی کیلئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو نبی بنا کر مبعوث فرمایاہے۔ اس کے بعد توحید اور قدرت باری تعالیٰ کے موضوعات پر بات کی گئی ہے: اللہ تعالیٰ کی ربوبیت، آسمان وزمین کی تخلیق، سورج اور چاند کا اپنے محور اور مرکز میں مقرر وقت کے مطابق چلنا، دن اور رات کا آنا جانا۔ پوری کائنات کے نظام کا چلنا یہ ثابت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر، یکتا اور اکیلے ہیں، اللہ تعالیٰ کو کسی شریک کی کیا ضرورت ہوسکتی ہے! پھر اہل ایمان اور اہل کفر کے ٹھکانوں کو بیان فرمایا۔ کفار کا ٹھکانہ جہنم ہے اور ایمان والوں کا ٹھکانہ جنت ہے۔ 
جب مشرکین کو دعوت دینے کیلیے ان کے سامنے قرآن کریم کی واضح آیات تلاوت کی جاتیں تو بجائے ماننے کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کرتے کہ اس قرآن کے بجائے دوسرا قرآن لے آئیں یا اس کوتبدیل کردیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جواب دیا کہ مجھے دونوں کاموں میں سے کسی کااختیار نہیں، میں تو اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر نازل کی گئی ہے۔ 
تغییر کہتے ہیں کہ پہلے والی چیز رکھ لیں اور دوسری لے آئیں جیسے بیٹا والد کے لیے کپڑے لے آئے والد کو پسند نہ آئیں تو وہ کپڑے بیٹا اپنے لیے رکھ لے اور والد کے لیے دوسرے لے آئے۔ تبدیل کہتے ہیں پہلے والی چیز واپس کرکے اس کے بدلہ دوسری لے آئیں جیسے کپڑے والد کوپسند نہ آئیں تو واپس کرکے دوسرے لے آئے۔ اس کے بعد مشرکین سے چند سوالات کئے جا رہے ہیں مشرکین کا عقیدہ تھاکہ ساری کائنات کا خالق اللہ تعالیٰ ہے لیکن اللہ نے بہت سے اختیارات بتوں کو بھی دے رکھے ہیں جو اللہ کے شریک ہیں لہذا ان کو راضی رکھنے کیلیے ان کی عبادت کرنی چاہیے۔ اس آیت میں ان سے پوچھا گیا ہے کہ کون ہے جو تمہیں آسمان وزمین سے روزی دیتا ہے، کون تمہارے کانوں اور آنکھوں کا مالک ہے، کون ہے جو زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے، کون ہے جوہرکام کا انتظام کرتاہے؟ تو یہ لوگ کہیں گے: اللہ،۔۔۔۔ تو تم ان سے کہو کہ پھر بھی تم اللہ سے ڈرتے نہیں؟ جب ہر چیز کا مالک اللہ تعالیٰ ہے تو پھر عبادت کے لائق و مستحق بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ 
پھر قرآن پاک کی صداقت کے حوالے سے مشرکین کو چیلنج دیا ہے مشرکین اعتراض کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے قرآن کو گھڑلیاہے یہ اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں۔ انہیں چیلنج دیا کہ اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ قرآن کریم ہمارے پیغمبر اپنی طرف سے گھڑکر لے آئے ہیں تو تم بھی اللہ تعالیٰ کے سوا جن کو چاہو مدد کے لیے بلا لاؤ اور ایک سورۃ اس جیسی بناکر لے آؤ اگر تم اس بات میں سچے ہو! جب ایک سورۃ تم سارے مل کر نہیں لاسکتے تو پھر یہ کیسے مان لیا جائے کہ یہ قرآن کریم کسی انسان نے گھڑا ہوگا! گزشتہ آیات میں مشرکین کو وعیدات سنائی گئی تھیں کہ ان کو عذاب میں مبتلا کیاجائے گا۔ اب اس کے بعد  ان کے مطالبہ کا ذکر ہے کہ وہ عذاب کب ہوگا؟ ان کا مقصد تکذیب تھی۔ انہیں اگلی آیت میں نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی جواب دیا گیاکہ میں تو اپنی ذات کے لیے نفع حاصل کرنے کا اور کسی ضرر کو دفع کرنے کا اختیار بھی نہیں رکھتا تو میں دوسروں کے نفع اور نقصان کا کیسے مالک ہوسکتا ہوں؟ لہٰذا عذاب واقع کرنا میرے اختیار میں نہیں ہے۔ 
پھر وسعتِ علم باری تعالیٰ کو بیان کیا گیا ہے مشرکین مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے کو اس وجہ سے ناممکن سمجھتے تھے کہ جب انسان مرکر مٹی میں مل جائے گا تو قیامت کے دن یہ کیسے پتا چلے گا کہ مٹی کا یہ ذرہ فلاں انسان ہے اور یہ ذرہ فلاں انسان ہے؟ تو انہیں جواب دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے علم اور قدرت کو اپنے علم پر قیاس نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ کاعلم اتنا وسیع ہے کہ کائنات کی کوئی چیزخواہ چھوٹی ہویا بڑی اللہ تعالیٰ سے مخفی نہیں ہے۔ تو پھر اللہ تعالیٰ کیلیے ان ذرات کو اکٹھا کرکے انسان بنانا کیا مشکل ہے؟ پہلے مشرکین وکفار اور ان کے اعتراضات کا ذکر تھا۔ اب اس کے بعد امم سابقہ کے حالات وواقعات کوبیان کیا جارہا ہے یہ بتانے کیلئے کہ جھٹلانے والوں کا وہی حال ہوگا جو سابقہ امتوں کا ہواتھا۔ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو بہت طویل عرصہ تک وعظ ونصیحت کی اور اللہ تعالیٰ کی توحید کی دعوت دی۔ سوائے چند ایک افراد کے قوم نے نہ مانا۔  بالآخر اللہ تعالیٰ نے منکرین ومکذبین کو طوفان میں غرق کردیا۔ 
اس کے بعد حضرت موسیٰ وہارون علیہم السلام کی بعثت اور فرعون اور اس کی قوم کی بدبختی اور اس کے غرق ہونے کو بیان کیا جارہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون کے بدن کو محفوظ کرلیا جو قیامت تک آنے والی انسانیت کے لیے عبرت ہے کہ یہ ہے وہ شخص جس نے بادشاہ بننے  کے بعد خدائی کا دعویٰ کیا تھا اور اس کا انجام دیکھو کیا ہوا ہے۔ فرعون عذاب کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرنے کے بعد ایمان لایا، اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ ایسی حالت کا ایمان قبول اور معتبر نہیں ہوتا۔گزشتہ آیت میں تھا کہ انسان کا ایمان اسی وقت قبول ہوتاہے جب وہ موت سے پہلے اور عذاب الہی کا مشاہدہ کرنے سے پہلے ایمان لائے۔ سابقہ امتیں عذاب دیکھنے سے پہلے ایمان نہیں لائیں اسی وجہ سے عذاب کا شکار ہوئیں البتہ حضرت یونس علیہ السلام کی ایک ایسی قوم تھی کہ وہ عذاب کے نازل ہونے سے تھوڑا پہلے سچی توبہ کرکے ایمان لے آئی تھی اس لیے ان کا ایمان قبول ہوااور ان سے عذاب کو ہٹالیا گیا۔ 
اس پارے کے آخر میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم بات سمجھا رہے ہیں کہ لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق آگیا ہے، اب جو شخص ہدایت کا راستہ اپنائے گااس کی ہدایت کا فائدہ خوداسے پہنچے گا اور جو گمراہی اختیار کرے گا، اس کی گمراہی کا نقصان خود اسی کو پہنچے گا اور میں تمہارے کاموں کا ذمہ دار نہیں ہوں۔ یعنی میرا کام دعوت و تبلیغ ہے، ماننا نہ ماننا تمہارا کام ہے، تمہارے بار ے میں مجھ سے پوچھ نہیں ہوگی۔ 

مزیدخبریں