یہ کہنا کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے سوائے ایک فکری مغاطے کے کچھ بھی نہیں ۔ حقیقت میں تاریخ نہیں انسان اپنی غلطیاں دہرا کر جب ماضی جیسے نتائج موصو ل کرتے ہیں تو اُسے تاریخ کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں ۔ اگر انسان اپنی غلطیاں نہ دہرائے تو تاریخ کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ گرد آلو دبند کتابوں سے نکل کراپنے آپ کودہرانے کا مشکل مرحلہ طے کرتی پھرے۔ افغان طالبان کی ہٹ دھرمی اور بھارت سے بڑھتے ہوئے مراسم کا منطقی نتیجہ یہی نکلنا تھا انہوں نے پاکستان سے وعدہ خلافیاںاور تحریک طالبان کو پاکستان میں دہشتگردی کے مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہوئے اُن کی ہر طرح کی مدد کی۔ پاکستان میں موجود اپنے رابطے بھی اُن کے حوالے کیے تاکہ انہیں اپنے ٹارگٹس تک پہنچنے میں آسانی ہو سکے ۔افواج ِ پاکستان کی جانب سے بار بار نرم اور سخت الفاظ میں افغانستان کی قائم مقام حکومت کو سمجھایا گیا کہ وہ تحریک طالبان کو کنٹرول کرے اور انہیں افغانستان کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہ دے ۔ یہ رعایت اُس جعلی رشتہ کی وجہ سے تھی جو وہ اسلام کی بنیاد پر ہم سے بنا کر پاکستانی عوام کو گمراہ کررہے تھے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ پاکستانیوں کو مسلمان ہی نہیں سمجھتے اور ان کی بیویوں اور بیٹیوں کو گھروں میں لونڈیاں بنا کر رکھنا بھی جائز تصور کرتے ہیں ۔معمولی نوعیت کی جھڑپوں اور نرم زبان نے افغان طالبان کو کسی غلط فہمی میں مبتلا کردیا تھا اور بجائے اس کے کہ وہ ٹی ٹی پی کو کنٹرول کرتے انہوں نے خود ٹی ٹی پی کی زبان بولنا شروع کردی ۔ پاکستان فتح کرنے کے خواب نہ صرف دیکھنا شروع کیے بلکہ اس کا اظہار بھی منظر پر آنا شروع ہو گیا ۔ جو یقینا کرائے کے ان ٹٹووں کی اوقات سے باہر ہی نہیں ناممکن ہے لیکن بھارت اس حد تک تو کامیاب بہر حال ہو ا ہے کہ اُس نے اپنے گلے سے خوف کا ڈھول اتار کر افغان طالبان کے گلے میں ڈال دیا ہے۔ افواجِ پاکستان نے غضب للحق کے نام سے آپریشن شروع کردیا ہے اور اب صورت حال یہ ہے کہ بہادری کی جعلی تاریخ لکھوانے والے زمین پر نظر آ رہے ہیں اور نہ ہی آسمان پر۔ خود افغانستان کے اندر سے طالبان کیخلاف آوازیں اٹھنا شروع ہو چکی ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ توانا ہو تی جائیں گے ۔پاکستان نے اس آپریشن کو ٹالنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن یہ تو ہونا ہی تھا ۔ میں گزشتہ دو سال سے تواتر اور تسلسل کے ساتھ لکھ رہا ہوں کہ آپ کو افغا ن طالبان کے خلاف آپریشن ہر حال میں کرنا ہو گا۔ 22ستمبر 2025ء کو روز نامہ نئی بات کے ایڈیٹوریل پیج پر میرا کالم ’’ افغانستان جنگ چاہتا ہے تو پھر؟؟؟‘‘ میں لکھے یہ چند الفاظ ملاحظہ فرما لیں ’’افغانستا ن کے ساتھ اگر پاکستان جنگ نہیں بھی کرے گا تو یہ جنگ افغانی ضرور کریں گے کیونکہ اول تو وہ ہزاروں سال سے’’ پیشہ ورقاتل ‘‘ ہیں اور جنگ ہمیشہ اُن کی انڈسٹری رہی ہے ۔ دوم اس بار انہیں روس یا امریکہ سے نہیں لڑنا بلکہ امریکہ اور اُس کے حواریوں کے کہنے پر پاکستان سے لڑنا ہے اور انہیں اس بار ڈالر بھی ڈائریکٹ ملیں گے اور اس میں کسی کا بڑا حصہ بھی نہیں ہو گا ۔سو ایسی جنگیں ہمیشہ افغانیوں کا روز گار رہی ہیں ۔‘‘یہاں ایک بات کی وضاحت انتہائی ضروری ہے کہ یہ کوئی جنگ نہیں بلکہ آپریشن ہے بالکل ویسا ہی آپریشن جیسا دہشتگردوں کے خلاف ہوتا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے ’’ دہشتگرد منڈوں ‘‘ کے خلاف ہو رہا تھا اب اُس میں ’’ دہشتگرد غنڈے ‘‘ بھی شامل کر لیے گئے ہیں ۔کسی بڑی جنگ کا کوئی تصور موجود نہیں اُس کیلئے افغانیوں کے حمایتوں کو خود افغانستان میں اترنا ہو گا اور آپریشن سندور کے زخم بھارت تو ابھی تک چاٹ رہا ہے اوراسرائیلی اس پوزیشن میں نہیں کہ اُس ملک میں جنگ لڑنے کی جرأت کریں جس کا ایک بارڈر ایران کے ساتھ بھی ملتا ہو ۔دہشتگردوں کے خلاف ہونے والا آپریشن پاکستانی عوام کی خواہش اور ایک پُر امید بہتر مستقبل کیلئے انتہائی ضروری بھی تھا ۔ پاکستان میں موجود افغانیوں کے ہمدردوں اور سہولت کاروں کے ساتھ افواج پاکستان کو وہی رویہ رکھنا ہو گا جو افغان طالبان کیلئے جائز سمجھا گیا ہے۔ ایک بڑا سماجی نیٹ ورک بنا کر پاکستان میں موجود افغانوں کو جلد از جلد وطن عزیز سے بے دخل کرنا ہو گا اور جو پختونوں کا لبادہ اوڑھ کر طالبان کے معاون اور مددگار بنے بیٹھے ہیں اُن کیلئے جیلوں کے علاوہ کوئی دوسری مناسب جگہ نہیں ہونی چاہیے۔ ہمیں رجعت پسند رویوں اور سوچ کی نفی کرنا ہو گی تاکہ پاکستانی سماج آگے بڑھنے کیلئے زیادہ بہتر طریقے سے اپنی افواج کے ساتھ کھڑا ہو سکے۔ وہ جنہیں افغان اورافغانستان عزیز ہے انہیں اطلاع دینا چاہتا ہوں کہ افغان طالبان غضب للحق کے زیر عتاب ہیں انہیں فوری طور پر اپنے افغان بھائیوں کی مدد کیلئے پہنچنا چاہیے تاکہ ساری گندگی ایک بار ہی صاف ہو سکے ۔ سوشل میڈیا پر افواج پاکستان کی مخالفت یا طالبان کی حمایت کرنے والوں کو گرفتار کرکے کسی جیل میں ڈالنے کی ضرور ت نہیں انہیں پاکستان کے بہادر جوانوں کے ساتھ اگلے مورچوں پر بھیج دیا جائے تاکہ انہیں ’’ حقیقی آزادی ‘‘ کی اہمیت اور قدر و قیمت معلوم ہو سکے کہ آزادی جوانوں کے خون کی بدولت ملتی ہے نہ کہ ڈی چوک میں رقص کرنے سے ۔ یہ آگ اور خون کا کھیل ہوتا ہے ٗ جس میں بچے یتیم ہوتے ہیں ٗ عورتیں بیوہ ٗماں باپ کے جوان بیٹے شہید ہو کر سرخرو ہو جاتے ہیں لیکن ہمیشہ کا دکھ دے جاتے ہیں ۔جنگ عظیم دوم کے تناظر میں ساحر لدھیانوی کی طویل نظم پرچھائیاں کا ایک بند یاد آ رہا ہے کہ
تمہار ے گھر میں قیامت کا شور برپا ہے
محاذ جنگ سے ہرکارہ تار لایا ہے
کہ جس کا ذکر تمہیں زندگی سے پیار تھا
وہ بھائی نرغہء دشمن میں کام آیا ہے۔
اب بال افغان طالبان کے کورٹ میں ہے کہ انہوں نے TTP پر سخت کنٹرول قائم کرنا ہے یا اپنے ’’ ماسٹرز‘‘ کی طرف دیکھنا ہے۔کو ئی چھپا ہوا پوشید ہ معاہدہ نہیں ہو گا کہ پراکسی کے پاس معاہدے کا اختیار ہی نہیں ہوتا سو افغانستان قیادت کو کھل کر TTP کی سرحدی کارروائیاں ہر حال میں روکنا ہو ں گی۔ آپریشن اتنی دیر تک جاری رہنا چاہیے جب تک پاکستان کو یقین نہ ہوجائے کہ حملے افغان سرزمین سے نہیں ہوں گے۔جن کے پاس اپنی فضائی اور بحری قوت نہیں ہے اُن کے ساتھ فل سکیل جنگ بالکل ممکن نہیں ہے ۔افغانوں کی بڑی تعداد پاکستان سے نکال کر افغانستان رخصت کریں تاکہ نازوں میں پلے یہ افغان جا کر اُن طالبان کا گریبان تو پکڑیں جن کی غلط پالیسی نے انہیں جنت سے نکال کر جہنم میں دھکیل دیا ہو گا ۔ پاکستان کا بچہ بچہ اس آپریشن میں اپنی فوج کے ساتھ کھڑا ہے کہ ایک پُرامن اور با وقار پاکستان ہم سب کی ضرورت ہے۔
محاذ جنگ سے ہرکارہ تار لایا ہے
09:17 AM, 1 Mar, 2026