ہم توسمجھ رہے تھے کہ اقتدارمیں آکریہ نہ صرف افعانستان کوامن،محبت اوراخوت کاگڑھ بنائیں گے بلکہ اسے اس اسلام کاحقیقی مرکزاورقلعہ بھی بنائیں گے جواسلام اول سے آخرتک امن اوربھائی چارے کادرس دے کراپنوں کے ساتھ بیگانوں کے لئے بھی حفاظت کی ضمانت دیتاہے مگریہ کیا۔؟یہ توبدقسمت افغانستان کوپھرسے امن اوراسلام دشمنوں کی کالونی بنانے پرتلے ہوئے ہیں۔آخریہ کونساامن اورکیسااسلام ہے کہ افغانستان سے آج کلمہ طیبہ کے نام پربننے والاملک بھی محفوظ نہیں۔اسلام میں تومسلمان مسلمان کابھائی ہے پھریہ ہمارے کیسے بھائی ہیں جوہمارے ہی خون کے پیاسے اور درپے ہوچکے ہیں۔کیاہماری ماؤں اور بہنوں نے روس وارکے دوران اپنا زیور اس لئے ان کے لئے چندے میں دیاتھاکہ اقتدارمیں آکریہ پھران کے ہی معصوم وبے گناہ بچوں کے پرخچے بم دھماکوں اور خودکش حملوں میں اڑانے والوں کے نگہبان وسہولت کار بنیں گے۔؟ کیا ہم ان کی کامیابی اورفتح کے لئے دعائیں اس لئے مانگاکرتے تھے کہ افغانستان کے سیاہ وسفیدکے مالک بننے کے بعدیہ اپنی بندوقیں ہماری طرف سیدھی کریں گے۔؟ان کے آباؤاجدادنے ان پراتنے احسانات نہیں کئے ہوں گے جتنے احسانات ہمارے ان پرہیں۔یہ شائدبھول گئے ہوں لیکن ہمیں اچھی طرح یادہے کہ روس اورنیٹوسے کامیابی اورجان خلاصی میں ان سے زیادہ پاکستان کا ہاتھ اور کردار ہے۔ افغانستان کا وہ کونسا علاقہ اور ذرہ ہے جہاں افغانستان کی حفاظت اوردفاع کے لئے ہماراخون نہیں گرا۔یہ جب روسیوں سے غاروں اورپہاڑوں میں چھپ کرپناہیں تلاش کرتے پھررہے تھے ہمارے بچے اس وقت سروں پرکفن باندھ کرمیدان میں ان کی حفاظت اوردفاع کررہے تھے۔ہمارے ایسے کتنے بچے ہیں جوروس وارکے دوران افعانستان جاکرپھرکبھی واپس نہیں آسکے۔بھارت سمیت دیگرپاکستان دشمنوں کی اندھی محبت و عقیدت میں باؤلے ہونے والے یہ بہادرہمیں آنکھیں دکھانے سے پہلے افغانستان پرقربان ہوکرافغان مٹی میں مٹی ہونے والے پاکستانی شہداء کی قبروں پر کھڑے ہو کر شرم وغیرت سے مرکیوں نہیں جاتے۔؟کیاپاکستانی طلبہ اورجوانوں نے افغان سرزمین پراپنی جانوں کے نذرانے اس لئے پیش کئے تھے کہ یہ بہادرروس اورنیٹوجیسی طاقتوں سے بچ کرپاکستان کوپھرآنکھیں دکھائیں گے۔؟سوچنے کی بات ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں، پشاور، اسلام آباداوردیگرشہروں میں ان کے ہاں سے آنے والے خودکش بمبارجب بازاروں،مارکیٹس،تعلیمی اداروں وعبادت گاہوں کے اندر بے گناہ ومعصوم بچوں،جوانوں اوربوڑھوں کونشانہ بنائیں گے توان ماؤں،بہنوں اوربیٹیوں پرکیاگزرے گی جوکل تک طالبان کی کامیابی کے لئے گڑگڑاکردعائیں مانگاکرتی تھیں۔کوئی مسلمان کتنا ہی براکیوں نہ ہو۔ کافروں،یہودیوں اور ہندوؤں سے وہ پھربھی ہزارنہیں لاکھ درجے بہتر ہو گا۔ افغان حکمران غیروں کے اشاروں پرناچ کر پاکستان سے مفت میں پنگا لینے کاشوق ضرور پورا کریں لیکن ایک بات یادرکھیں کہ آئندہ بھی ان پر جب کوئی برااورمشکل وقت آئے گاتوپھریہی پاکستان ان کے ساتھ کھڑاہوگا۔مودی اوراس کے یارانہیں دوردورتک نظرنہیں آئیں گے۔پہلے بھی یہی پاکستان تھاجس نے ہزاروں نہیں لاکھوں افغان مہاجرین کوبرسوں تک سایہ وٹھکانہ فراہم کیا۔ افغان حکمران آج جن کے اشاروں پرناچ کرپاکستان کے خلاف سازشوں کاحصہ بن رہے ہیں یہ اگرافغانستان کے اتنے خیرخواہ ہیں توروس اور نیٹووار کے دوران یہ افغانستان کی مددکیلئے آگے کیوں نہیں آئے۔؟افغان حکمران اورکچھ نادان افغانی عوام جومودی جیسے اسلام ومسلم دشمنوں کے گیت گاتے ہوئے نہیں تھکتے یہ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ مودی جیسے لوگ اگرپاکستان کے مقابلے میں اتنے اچھے ہیں توپھریہ مشکل وقت میں ان کے ساتھ ہاتھ کیوں کرجاتے ہیں۔یہ ایک نہیں ہزاربارمودیوں اورموذیوں کے گن گائے لیکن ساتھ یہ مودیوں کاریکارڈبھی ایک بارضرورچیک کرلیں کہ ماضی اور حال میں مودیوں نے ان کے ساتھ کیا کیا۔؟ پشتو میں کہتے ہیں (چہ زئے زئے ابازولہ بہ رازئے)یہ مودی کیاموذی کے باپ کے پاس جائیںآخریہ ہمارے پاس ہی واپس آئیں گے۔پاک افغان دونوں ہمسایہ ممالک ہیں،ان دونوں ممالک کی بہت سی قدریں مشترک ہیں۔ ایسے تعلق کو محض جذبات کی نظرسے دیکھنا تاریخ اور جغرافیہ دونوں سے آنکھیں بند کرنے کے مترادف ہے۔مودیوں کے اشاروں پرناچنے والوں کوایک بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ پاکستان کاافغانستان کے بغیرگزاراہوسکتاہے مگرافغانستان کاپاکستان کے بغیرگزاراممکن نہیں۔ہم افغانستان سے ہرگزجنگ نہیں چاہتے لیکن ایک بات واضح کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ اگرافغان قیادت کو مودی کی طرح پاکستان سے سینگ لڑانے کاکچھ زیادہ شوق ہے تو پھر اللہ بسم اللہ۔ یہ گز اور یہ میدان۔ جو پیکیج مودی کیلئے تھاوہی ان کیلئے حاضر ہے۔ مسٹر مودی کی طرح یہ بھی اپنایہ شوق پوراکرلیں۔دس مئی کے بعدسے ان کے یارمودی جس طرح منہ چھپاکے پھررہے ہیں ان شاء اللہ پھریہ بھی اس یار کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کردنیاسے منہ چھپا کر پھر رہے ہوں گے۔ کل کی اس شرمندگی، رسوائی اور تباہی سے بچنے کے لئے اب وقت ہے لیکن پاکستان نے اگرسچ میں ایک بارآنکھیں پھیرلیں توپھر نہ بھاگنے کیلئے کوئی مہلت ملے گی اورنہ منہ چھپانے کے لئے کوئی وقت ۔اس لئے پاکستان فتح کرنے کے خواب دیکھنے کے بجائے یہ اگراپنی اوقات میں رہیں تواسی میں نہ صرف ان کی بلکہ برسوں سے دربدہونے والے بدقسمت افغان عوام کی بھی بھلائی ہے۔
مودی کے یار۔۔شوق پوراکرلیں
09:14 AM, 1 Mar, 2026