آپریشن غضب اور سندور2.0

09:14 AM, 1 Mar, 2026

پہلی جنگ عظیم میں برصغیر کے مسلمانوں کے مرکز ترکی نے برطانیہ کے خلاف جرمنی کا ساتھ دیا۔اس جنگ عظیم نے خلافت عثمانیہ کا نقشہ یکسر تبدیل کردیا۔جرمنی کو شکست ہوئی تو ترکی اور اس کی خلافت کو بھی نقصان پہنچا۔ پہلی جنگ عظیم میں برطانیہ کی فتح کے بعد یہاں برصغیر میں برطانوی راج نے مزید طاقت پکڑی وہیں مسلمانوں نے خود کو اس خطے میں غیر محفوظ سمجھنا شروع کر دیا۔ 1920میں حالات اس قدر ابتر ہوئے کہ ہندوستان کے علما نے ہندوستان کو دارالحرب(جنگ کا گھر) قرار دے کر وہاں سے ہجرت کرجانے کا فتویٰ دے دیا۔اس فتوے کے بعد تحریک ہجرت کا آغاز ہوگیا۔اس تحریک کے نتیجے میں ہزاروں مسلمانوں نے سکون اور امن کے لیے افغانستان کی طرف ہجرت کرجانے کا فیصلہ کیا۔ان مسلمانوں نے سوچا کہ برصغر میں ان پر زمین تنگ ہے لیکن افغانستان میں ان کے اسلامی بھائی حکمران ہیں وہاں پناہ لی جائے اور اگر برصغر میں حالات سازگار ہوجاتے ہیں اور انگریز سے نجات مل جانے کی صورت میں واپس ہندوستان آجائیں گے۔
ہجرت کی غرض سے ہزاروں مسلمان خاندانوں نے ہندوستان میں اپنا سب کچھ ،گھر بار ،جانور ،زمین جائیدادیں چھوڑ کر افغانستان کا رخت سفر باندھ لیا۔جب یہ بے سروسامان مہینوں پیدل سفر کرکے کابل کی سرحد پر پہنچے اور دکھی دل کے ساتھ ہندوستان کی ابتر صورتحال سنائی اور ساتھ ہی اسلامی ریاست میں پناہ کی درخواست کی تو افغانستان کے حکمرانوں نے اپنے ان ’’اسلامی بھائیوں ‘‘ کو پہچاننے سے ہی انکار کر دیا اور اپنے ملک کے دروازے ان پربندکر کے واپس بھیج دیا۔جب یہ ہزاروں مسلمان خاندان اپنے اسلامی بھائیوں کی طرف سے ٹھکرائے جانے کے بعد واپس ہندوستان آئے تو ان کے پاس سفر کی تکلیفوں اور افغانیوں کے لیے دل میں شکوے ،مایوسی اور حیرت کے سوا کچھ نہیں تھا۔
یہ کردار انیس سو بیس میں ان افغان حکمرانوں کا تھا جن کے پاس ایک اسلامی ریاست تھی اور کچھ بے سرو سامان اسلامی بھائی ان کے ملک میں پناہ کی درخواست کے لیے گئے لیکن ان کو ٹھکرادیا گیا۔یہ وہ حکمران تھے جنہوں نے جب دل چاہا ہندوستان کو تاراج کیا۔ہندوستان کے وسائل لوٹے۔اس خطے کواپنے گھوڑوں کی ٹاپوں کے نیچے رکھا۔یہاں سے وسائل لوٹ کر اپنی دولت میں اضافہ کیا۔لیکن جب اسی خطے کے مصیبت میں مبتلا اسلامی بھائی ان کے پاس پناہ لینے پہنچے تو انکار ملا۔ایک طرف یہ افغانی فطرت ہے تو دوسری طرف ہم پاکستانی ہیں کہ جب روس نے افغانستان پر حملہ اور افغانستان دارالحرب قرار پایا تو پاکستان نے ہجرت کرکے یہاں آنے والوں کے لیے اپنے دل دروازے سب کھول دیئے ۔ مواخات مدینہ کی یادیں تازہ کرنے بیٹھ گئے۔ اپنا نقصان کراتے کراتے دہائیاں گزر گئیں۔ اپنے ملک میں دہشت گردی تک لے آئے۔ احسان کے بدلے نمک حرامی ہمارا قدر بن گئی ۔
میں جب بھی افغانستان کا کردار کسی بھی سطح پر دیکھتا ہوں تو 1920کی تحریک ہجرت میرا کلیجہ کاٹ دیتی ہے۔اس لیے افغانیوں اور افغانستان کے بارے میں مجھے کبھی ابہام نہیں رہا۔ یہاں اس ملک میں بہت سے ادوار میں ہمیں اسلامی بھائی چارے اور برادر اسلامی ملک کے دورے پڑتے رہے لیکن ہمیشہ یہ بھائی چارہ یکطرفہ ہی رہا۔افغانیوں نے ہمیشہ ثابت کیا ہے کہ وہ لٹیرے ہیں ۔ان کی فطرت میں اسلامی بھائی چارے جیسے کسی جذبے کی کوئی جگہ نہیں انکی فطرت صرف پیسا اور طاقت کا حصول ہے چاہے وہ کسی بھی راستے سے ملے،کسی بھی کام کے بدے ملے یا کسی بھی ملک کے ذریعے ملے۔ پاکستان نے اپنا اسلامی بھائی اور ہمسایہ سمجھ کر ہمیشہ افغانیوں کی مدد کی ۔ان کی روس جیسی طاقت سے جان چھڑائی، ان کے لیے لڑائی کی۔پچاس لاکھ افغانیوں کو سنبھالا دیا لیکن بدلے میں زہر،نفرت اور دشمنی پائی ۔ہمارے خلاف زہرپالنے والوں نے کبھی سوچا کہ اگر پاکستان بھی انیس سو بیس کی طرح ان پر اپنے دروازے بندکردیتا تو ا ن کے آباؤاجداد کہاں جاتے؟ پاکستان کی نفرت میں اندھے ہوتے آج کے افغانی لونڈے کیا اتنا بھی نہیں سوچ سکتے کہ اگر پاکستان روس کے وقت ان کے والدین کو پناہ نہ دیتا تو یہ نسل پیدا ہی نہ ہوئی ہوتی؟۔
اسلامی بھائی چارے کا جذبہ غالب رہا یا ہمسائیگی کا جذبہ ۔ پاکستان نے افغانیوں کے حوالے سے ہمیشہ غلط اندازے ہی قائم کیے۔نیٹو افواج نے ان کا ناطقہ بند کیا تو یہ بھیگی بلیوں کی طرح چھپ کر بیٹھ گئے۔اس دوران ہندوستان نے نیٹو کی چھتری کے نیچے افغانستان میں سرمایہ کاری شروع کر دی۔ دیکھتے ہی دیکھتے درجنوں شہروں میں بھارتی قونصل خانے کھل گئے۔حامد کرزئی گئے تو اشرف غنی آگئے لیکن بھارت سے دوستی بڑھتی گئی ۔ہندوستان سے دوستی گہری ہونے کا واحد مطلب پاکستان سے دشمنی تھی اور یہ افغانی پاکستان کے احسانات بھول کر چند ٹکوں اور ترقیاتی کاموں کے عوض ہندوستان کے ہوگئے۔دوہزار بیس میں جب امریکا یہاں سے گیا ۔اشرف غنی بھاگ نکلا اور طالبان رجیم افغانستان کی حکمران بنی تو ہندوستان وقتی طورپر پیچھے ہٹ گیا ۔پاکستان کو امید تھی کہ طالبان اشرف غنی والی روش ترک کرکے ذمہ داریاست بنے گا۔ملک میں ریاستی ڈھانچہ بنائے گا تاکہ دنیا کے لیے قابل قبول بن جائے۔لیکن ریاستی ڈھانچہ بناکر ذمہ دارریاست بن جانا افغانیوں کے خون میں ہی نہیں ہے۔طالبان نے پاکستان کے دشمن دہشتگردوں کو سینے سے لگالیا
جب ہندوستان کو معلوم ہوگیا کہ طالبا ن کسی بھی قیمت پر ٹی ٹی پی کو پناہ دینے پر تیار ہیں تو اس نے اشرف غنی والی پیشکش طالبان کو کرنا شروع کردی۔وزیرخارجہ امیرمتقی کوایک ہفتے تک ہندوستان میں قیام کرایا اور دیوبند لے جایا گیا ۔وہ ہندوستان جو طالبان کو دہشت گرد کہتا تھا اچانک ان سے بھائی بندی شروع ہوگئی ۔اس بھائی چارے کا کلائمیکس اس وقت آیا جب آپریشن سندور میں ذلت آمیز شکست ہندوستان کامقدر بن گئی۔ہندوستا ن جان چکا تھا کہ براہ راست جنگ میں وہ پاکستا ن کا مقابلہ نہیں کر سکتا اس لیے اب جنگ کے لیے آپریشن سندور 2.0 کے ذریعے افغانیوں کو کرائے پر لیا گیا۔ اس بات کا فیصلہ اسی وقت ہوگیا تھا جب پہلی بار ہندوستان نے کہا تھا کہ آپریشن سندور ابھی جاری ہے اور پھر بعد میں سندور ٹو کی بازگشت سنائی دینے لگی ۔ہندوستان کا آپریشن سندور ٹواور کچھ نہیں بلکہ افغانستان کے ذریعے پاکستان مخالف لڑی جانے والی پراکسی دہشت گردی ہے۔اس لیے پاکستان کی یہ جنگ افغانستان کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے ساتھ بھی ہے ۔اس کا انجام بھی وہی ہونا ہے جو مئی میں آپریشن سندور کا ہوا تھا۔

مزیدخبریں