ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان تلخ کلامی، یوکرینی صدر کو وائٹ ہاؤس سے روانہ کر دیا گیا

02:34 PM, 1 Mar, 2025

واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کی سخت کلامی کے بعد یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کو وائٹ ہاؤس سے جانے کا حکم دے دیا گیا۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق، جمعہ کے روز وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران امریکی صدر اور نائب صدر نے زیلنسکی سے انتہائی تیز لہجے میں گفتگو کی۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے زیلنسکی سے پوچھا کہ انہوں نے اب تک صدر ٹرمپ کا شکریہ کیوں نہیں ادا کیا۔ اس پر ٹرمپ نے جواب دیا کہ زیلنسکی اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ وہ امریکہ کو احکامات دیں اور انہیں اپنی زبان پر قابو پانا چاہیے۔

ٹرمپ نے یوکرینی صدر پر الزام عائد کیا کہ ان کی وجہ سے جنگ بندی ممکن نہیں ہو پارہی اور وہ عالمی سطح پر تیسری جنگ کے خطرات کو بڑھا رہے ہیں۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر وہ صدر ہوتے تو روس-یوکرین جنگ کبھی نہ شروع ہوتی۔ انہوں نے اس معاملے کو "مشکل" قرار دیتے ہوئے کہا کہ سہ فریقی مذاکرات کوئی آسان کام نہیں ہیں۔

اس شدید گفتگو کے بعد دونوں صدور کی مشترکہ پریس کانفرنس اور معاہدے پر دستخط کی تقریب منسوخ کر دی گئی۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکی صدر کی سخت تنقید کے بعد زیلنسکی کو وائٹ ہاؤس سے روانہ ہونے کا کہا گیا۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر زیلنسکی امن کے لیے تیار ہوں تو وہ واپس آ سکتے ہیں۔

یہ واقعہ عالمی سفارتی تعلقات کی تاریخ میں ایک نیا موڑ ثابت ہوا، جہاں ایک صدر کی جانب سے دوسرے ملک کے صدر کو اس انداز میں برہمی کا سامنا کرنا پڑا۔

مزیدخبریں