امریکا اور ایران میں پھر فوجی ٹکراؤ، امن معاہدے سے قبل ایک دوسرے کے فوجی اڈوں پر بمباری

11:10 AM, 1 Jun, 2026

تہران / واشنگٹن:امن معاہدے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کے درمیان امریکا اور ایران ایک بار پھر آمنے سامنے آ گئے ہیں اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی فوجی تنصیبات پر میزائل اور بموں کی برسات کر دی ہے۔

امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے جاری کردہ بیان کے مطابق، امریکی افواج نے ایران کے علاقوں گورک، جزیرہ قشم اور جزیرہ سیرک پر فضائی حملے کیے ہیں۔ ان حملوں میں ایرانی فضائی دفاعی نظام، ٹیلی کمیونیکیشن ٹاورز اور ڈرون کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ بمباری بین الاقوامی فضائی حدود میں امریکی ڈرون کو مار گرانے کے ایرانی اقدام کا جواب ہے۔

اس کے برعکس، ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بھی امریکی جارحیت کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے انکار کرتے ہوئے فوری جوابی کارروائی کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے نشانہ بناتے ہوئے براہِ راست اس فضائی اڈے پر حملہ کیا ہے جہاں سے امریکی طیاروں نے ایران کے خلاف پروازیں بھری تھیں۔ دونوں طاقتوں کے درمیان اس تازہ جھڑپ نے خطے میں جنگ کے بادل مزید گہرے کر دیے ہیں۔

مزیدخبریں