”ونڈر بوائے“ شہباز ہی کرے گا پرواز۔۔۔۔

09:10 AM, 1 Jun, 2026

ہمارے ہاں یہ ایک روایت بن چکی ہے کہ حکومت کو دو یا تین سال مکمل ہوتے ہی کچھ سیاسی یتیم بے وقت کی راگنی گانے لگتے ہیں اور مداری کے تماشا کی طرح مجمع لگا کر یہ یقین دہانی کروانے لگتے ہیں کہ بس آخر میں کچھ خاص دکھایا جائے گا۔ تاہم یہ کھیل تماشا بغیر کسی نتیجے کے اختتام پزیر ہوتا ہے اور ماسوائے وقت کے ضیاع، کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اس وقت ایسے ہی کچھ مداری جو بارہا آزمائے بھی جا چکے ہیں تاہم تماشا یقیناً اچھا لگاتے ہیں وہ ایک مرتبہ پھر سے سرگرم عمل ہیں اور انواح و اقسام کی منطق یا تھیوریوں کے ذریعے ذہن سازی میں مصروف ہیں کہ بس شہباز حکومت چند دن بلکہ یہاں تک کہ چند گھنٹوں کی مہمان ہے۔ ایک قومی حکومت بنے گی اور وہ سسٹم چلائے گی کیونکہ سسٹم نہیں چل رہا اور ملک دن بدن کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ کچھ خود ساختہ ترجمان جن کا اپنا وجود بھی اب ناقابلِ فہم ہے وہ فرما رہے ہیں کہ سسٹم چلانے والے شہباز شریف کی کارکردگی سے بالکل نا خوش اور مایوس ہیں اور یہ فیصلہ کر لیا گیا یے کہ بجٹ کے بعد موجودہ نظام لپیٹ دیا جائے اور ایک ایسی حکومت بنائی جائے جس میں تمام سیاسی پارٹیوں کی نمائندگی ہو۔ یہ وہ احمق ترین لوگ ہیں جنہیں نہ تو اس ملک کی سیاست اور نہ سسٹم کا ادراک ہے بس یہ اتائی سیاسی تجزیہ کار روزانہ شام کو ٹیلیویڑن سکرین اور سوشل میڈیا پر ایک بوری بچھا کر ڈگڈگی بجا کر تماشائیوں کا مجمع لگا کر اپنا منجن بیچتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ یا سسٹم چلانے والے یا اس ملک کے طاقتور لوگ شہباز شریف کو کیوں ہٹائیں گے۔ جس شہباز شریف کا بحیثیتِ وزیر اعلیٰ پنجاب کا ٹریک ریکارڈ عالمی سطح پر شہباز سپیڈ کہلایا ، جس شہباز شریف کی کارکردگی کی مثال دنیا جہاں دیتا ہے بالخصوص چین کے موجودہ صدر، وزیراعظم اور رولنگ پارٹی کے ساتھ ساتھ اپوزیشن بھی معترف ہو۔ جس شہباز شریف کی سیاسی بصیرت و بلوغت کی مثالیں دی جاتی ہوں ، جس شہباز شریف کی برداشت اور تحمل مزاجی کا یہ عالم ہو کہ اپوزیشن بھی ان کے اوپر اس حوالے سے انگلی نہ اٹھا سکے اس شہباز شریف سے سسٹم کیونکر ناخوش ہوگا۔جب اپریل 2022 میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ عمران احمد خان نیازی کو آئینی طور پر بحیثیتِ وزیراعظم نا اہل قرار دیا گیا تو نا اہل عمران خان کی وجہ سے یہ ملک ڈیفالٹ ہو چکا تھا۔ اندرونی طور پر ملک کو شدید نقصان پہنچایا جا چکا تھا، طالبان کو آباد کر کے اپنی ذاتی فوج بنایا جا چکا تھا۔ اور سفارتی تعلقات کی بات کی جائے تو پاکستان اپنے دیرینہ ، غمخوار اور بے لوث دوستوں کو بھی کھو چکا تھا عمران خان کی نا اہلی نے سفارتی سطح پر پاکستان کو تنہا کر دیا تھا۔ یہ ایک منظم سازش تھی جس کا سرغنہ عمران خان نیازی تھا اور وہ اپنے سسرال اسرائیل کے منصوبے پر عمل پیرا تھا۔ جب شہباز شریف پہلی مرتبہ 11 اپریل 2022 کو پاکستان کے 23ویں وزیر اعظم بنے تو پاکستان ہر لحاظ سے ڈیفالٹ لائن پر تھا۔ پھر اس مرد حر شہباز شریف نے اس ملک کی باگ ڈور سنبھالی اور سب سے پہلے ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا کیونکہ اگر پاکستان ڈیفالٹ ہو جاتا تو سب سے پہلے ایٹمی پروگرام رول بیک ہوتا اور عمران خان اور اسرائیل کا منصوبہ کامیاب ہو جاتا۔ شہباز شریف نے 24 گھنٹے میں 18 گھنٹے کام کیا باوجود اس کے پی ٹی آئی قیادت نے آئی ایم ایف کو پاکستان کو قرض نہ دینے اور امریکہ کو خطوط لکھے اور پاکستان کو ناکام کرنے کیلئے ہر ممکن کوشش کی تاکہ اسرائیل کا نا مکمل منصوبہ کامیاب ہو سکے۔ اس بات کا اظہار فیاض الحسن چوہان سمیت پی ٹی آئی کے کچھ محب وطن لوگ کر چکے ہیں کہ اصل منصوبہ کیا تھا کشمیر کیسے بیچا اور ایٹمی پروگرام کو کس طرح رول بیک کرنا عمران خان نیازی کی پلاننگ میں شامل تھا۔عاقبت نااندیش مداریو سسٹم اس شہباز شریف کو نکالے گا جس نے ملک کو ڈیفالٹ سے نکالا، وہ شہباز شریف جس نے روٹھے دوستوں کو منایا ، ان کے ہاتھ جوڑے یقین دہانیاں کرائیں ، رات دن ایک کر کے پاکستان کو پھر سے وینٹی لیٹر سے اتارا اس شہباز شریف کو بھلا کیوں نکالا جائے گا۔ پھر 9 مئی جیسے منظم واقعات جو بھارت نہ کر سکا اس کے کرنے والوں کے سامنے شہباز شریف ایسے ڈٹ کر کھڑا ہوا جیسے میدان جنگ میں ایک سپاہی وطن کی خاطر جان قربان کرتا ہے۔ وہ شہباز شریف جس پر اندرونی و بیرونی ملک دشمنوں کا پریشر تھا مگر وہ ڈٹا رہا اس نے پاکستان کو مضبوط کیا۔ فوج کو اس کی حقدار قیادت دی اور عسکری قیادت کو اعتماد دیا اس اعتماد کا نتیجہ بھارت کے خلاف کامیابی کی صورت تاریخ کا حصہ ہے۔شہباز شریف نے پاکستان کی ترقی میں حائل فیض حمید اور عمران خان کی وہ گرہیں کھولیں جن کی مثال کالے جادو کی گرہوں سے دی جا سکتی ہے۔ شہباز شریف نے اپنی سیاست ، پارٹی اور مستقبل کو داو¿ پر لگا کر پاکستان کو تاریکیوں ، نا امیدیوں اور دلدل سے نکالا ، جو شہباز شریف اس ملک کی خاطر اس وقت حکومت کی باگ ڈور سنبھال سکتا ہے جب کوئی تیار نہیں تھا ملک کی صورت حال یہ تھی کہ خدا نخواستہ رات سوتے تھے تو یقین ہوتا تھا کہ صبح پاکستان دیوالیہ ہوگا جب پرائے تو دور کی بات اپنے بھی منہ موڑ چکے تھے اس شہباز شریف کو بھلا کیوں سسٹم نکالے گا۔ سیاسی آڑھتیوں اور اتائیوں کو باور کراتا جاو¿ں کہ کوئی تبدیلی نہیں آ رہی ، یہی سسٹم چلے گا اور شہباز شریف کے قائدانہ کردار میں چلے گا۔ فیض حمید اور عمران خان کی گرہیں ایک ہی شخص کھول سکتا ہے وہ شہباز شریف ہے ان شاءاللہ تعالیٰ یہ ملک شہباز شریف کی قیادت میں ہی آگے بڑھے گا وہ پانچواں کیا اگلے 5 اور بجٹ پیش کرے گا۔
اس وقت اسٹیبلیشمنٹ اور شہباز شریف اس ملک کو بحرانوں سے نکالنے کیلئے ناگزیر ہیں۔ جو قومی حکومت کا مطالبہ یا خواہش کر رہے ہیں وہ ذرا گلگت بلتستان کے انتخابات میں اپنی پسندیدہ پارٹی کو دیکھ لیں کہ سسٹم میں ان کی گنجائش کتنی ہے یا پھر آزاد کشمیر کے انتخابات میں دیکھ لیں کہ مقبول بیانیہ کہاں کھڑا ہے۔ اس وقت ایک ہی مقبول بیانیہ ہے اور وہ ہے پاکستان اس کے علاو¿ہ کسی کے لئے نہ کوئی گنجائش ہے اور نہ رعایت۔ سسٹم چلانے والے شہباز شریف سے نہ صرف خوش ہیں بلکہ ان کو مکمل اعتماد ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اور طاقتور حلقے شہباز کی پرواز ایک سال پہلے 2025 میں بھارت جنگ کی صورت دیکھ چکے ہیں۔شہباز شریف ہی ونڈر بوائے ہے۔ وزیراعظم پاکستان ایک کامیاب لیڈر کی تمام صفات کا مجموعہ ہیں۔ وہ ملکی سطح پر شر پسندوں کے ٹولے کے علاو¿ہ تمام سیاسی و پارلیمانی پارٹیوں کیلئے قابلِ قبول اور بین الاقوامی تشخص رکھنے والے رہنما ہیں۔ ان کی سفارتی کامیابیوں کی لازوال داستانیں رقم ہو چکی ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ تاریخی اور کامیاب دورہ چین میں چینی صدر کے کہے گئے الفاظ شہباز شریف کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور شہباز شریف ہی ونڈر بوائے اور پاکستان کی کامیابی کی ضمانت ہیں۔ سیاسی یتیم بے وقت کے راگ الاپتے رہیں گے اور پاکستان اپنی قیادت کی مجموعی کامیابیوں سے آگے بڑھ جائے گا۔ 9 مئی کرنے والے نشان عبرت بنیں گے ، ان کیلیے سسٹم میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ پاکستان ایک سکیورٹی اسٹیٹ ہے یہاں کی جغرافیائی حالات اور جیو پولیٹیکل پوزیشن اس وقت مرکز نگاہ ہے۔ ایسی صورت میں جب آپ اندرونی و بیرونی دشمنوں کو ناکوں چنے چبوا رہے ہوں، بین الاقوامی تنازعات کے حل میں کلیدی کردار کامیابی سے ادا کر رہے ہوں تو اس قسم کی سازشی تھیوریاں آپ کو پھنسانے اور ناکام کرنے کیلئے گھڑی جاتی ہیں۔ الحمدللہ پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی مثالی کارکردگی کے نتیجے میں تمام مسائل سے نکل کر 2016 میں نواز شریف کے ویژن کے عین مطابق پھر سے آگے بڑھے گا ، ملک میں خوشحالی آئے گی ، صنعت کا پہیہ چلے گا۔ شہباز شریف ہی امید صبح نو ہیں۔

مزیدخبریں