جاری صدی کو سائنس اور ٹیکنالوجی کی صدی کے ساتھ ساتھ خواتین کی صدی بھی کہا جا سکتا ہے جو حیرت انگیز ترقی ان دو میدانوں میں ہوئی۔ اس سے ملتی جلتی اور تیز رفتار ترقی خواتین نے کی، ان کا رجحان تعلیم کی طرف بڑھا ایک زمانہ تھا جب خواتین صرف شعبہ تعلیم اور میڈیکل تک محدود تھیں پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ زندگی کے دیگر شعبوں کی طرف متوجہ ہوئیں۔ پہلے مرحلے میں یورپی خواتین نے مختلف شعبوں میں عملی کردار ادا کرنا شروع کیا، اس کی وجہ مشترکہ خاندانی نظام کا کمزور پڑنا تھا۔ اپنا کھاﺅ، اپنا کماﺅ کا فلسفہ وقت کی ضرورت ہونے کے ساتھ ساتھ تیزی سے مقبول ہوا۔ دنیا بھر میں خواتین کی تعداد مردوں کی نسبت قدرے زیادہ ہے لہٰذا اتنی بڑی تعداد میں خواتین کا گھروں میں بیٹھنا بوجھ سمجھ لیا گیا حالانکہ خواتین بوجھ نہ تھیں بلکہ اہم گھریلو ذمہ داریاں اٹھائے ہوئے تھیں۔ یورپی خواتین فیکٹریوں میں پہنچیں۔ ہوٹل، ائیرلائنز، فوج، پولیس، تعلیم، تحقیق، ٹیکنالوجی، کاروبار غرضیکہ کوئی شعبہ ایسا نہ رہا جہاں خواتین نہ آئیں۔ جنگ عظیم کے زمانے میں خواتین نے محاذ جنگ پر اور محاذ جنگ سے پیچھے اہم ذمہ داریاں انجام دیں بعض خواتین نے اپنے ملک کی جاسوسہ ہونے کا اہم اور مشکل کردار نہایت خوبی سے نبھایا۔ وہ وہاں تک جا پہنچیں جہاں مردوں کا پہنچنا ناممکن نظر آتا تھا۔ اس رجحان کو بہت فروغ حاصل ہوا۔ دنیا بھر کی خفیہ ایجنسیاں اپنے جاسوسوں پر جتنا انحصار کرتی ہیں وہ اس سے زیادہ انحصار اس شعبے سے منسلک خواتین پر کرتی اور اپنے اہداف حاصل کرتی نظر آتی ہیں۔
ترقی یافتہ ممالک میں اہم تنصیبات اہم دفاتر میں لمحہ بہ لمحہ ریکارڈنگ کے آلات نصب ہوتے ہیں، جن کی مدد سے ہر شخص کی موومنٹ ریکارڈ تو ہو جاتی ہے لیکن بنا اپنا نشان چھوڑے اہم ریکارڈ اور اہم دستاویزات کو غائب کرنے کے لئے آج بھی جاسوس اور جاسوسائیں اہم کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں۔ آئی ٹی ٹیکنالوجی اور نظر نہ آنے والے کیمروں نے جاسوسی کا کام قدرے آسان کر دیا ہے۔
زندگی کے دیگر شعبوں کے ساتھ ساتھ خواتین سیاست کے میدان میں آئیں۔ کچھ اپنے شوق کی تکمیل کے لئے آئیں، کچھ اپنے یا خاندان کے مفادات کے تحفظ کیلئے اور گزشتہ پچاس برس میں سیاست کاروبار بنی تو کاروباری منافع انہیں اس طرف کھینچ لایا۔ اسی عرصہ میں وراثت کی سیاست نے زور پکڑا۔ خدمت کہیں بہت پیچھے رہ گئی اور وراثتی سیاست اور اس سے حاصل ہونے والی مالی صنعت آگے آگئی یوں اپنی اپنی بزنس امپائر کے تحفظ کیلئے خاندان کی عورتوں کو آگے لانے کا رجحان تیزی سے بڑھا، کچھ خواتین ایسی بھی ہیں جن کے والد یا شوہر سیاست میں تھے لیکن ان کا اپنا ارادہ سیاست میں آنے کا نہ تھا۔ وہ حادثاتی طور پر سیاست میں آئیں حتیٰ کہ اپنی جان بھی اسی سیاست میں گنوا بیٹھیں۔ عجیب اتفاق ہے بعض خواتین کو کسی نہ کسی مرحلے پر سیاست چھوڑنے کا مشورہ دیا گیا لیکن وہ نہ مانیں اور قتل ہو گئیں۔ ان کے قتل کا فائدہ ان کی اولاد نے اٹھایا اور ”خون کا بدلہ“ لینے کی کہانی کے ساتھ انہوں نے اپنی سیاست شروع کی، ایسی مثالیں بھی موجود ہیں۔ خون کا بدلہ لینے اور قاتلوں کو بے نقاب کرنے کا مشن لے کر اپنی سیاست شروع کرنے والوں نے قاتلوں کی اعانت سے اقتدار حاصل کیا اور قاتلوں کو بے نقاب کرنے کی بجائے قاتلوں کے چہروں پر دوسرا نقاب ڈال دیا حتیٰ کہ پھر وہ خود قتل ہو گئیں۔
تائیوان سے تعلق رکھنے والی خیرتک انچیما دنیا کی پہلی خاتون ہیں جو سربراہ مملکت بنیں۔ وہ 1940ءمیں اقتدار میں آئیں۔ سری لنکا سے تعلق رکھنے والی مسز سریمائیو بندرانائیکے 1960ءمیں وزیراعظم بنیں ارجنٹائن کی ازابیل پرون 1974ءمیں اقتدار کے ایوان تک پہنچیں۔ برطانیہ کی مارگریٹ تھیچر 1974ءمیں برطانیہ کی وزیراعظم بنیں۔ آئس لینڈ کی وگرس فن بوگاڈوٹیئر 1980ءمیں حکومت کی سربراہ بنیں۔ پاکستان سے ایک سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد ان کی بیٹی بے نظیر بھٹو سیاست میں آئیں اور 1988ءمیں پاکستان کی وزیراعظم بنیں۔ بنگلہ دیش کی شیخ حسینہ 1996ءمیں وزیراعظم بنیں، ان کے والد شیخ مجیب الرحمن سابق صدر و وزیراعظم بنگلہ دیش قتل کئے گئے۔ وہ دو ادوار میں بنگلہ دیش کی وزیراعظم رہیں۔ انہوں نے مجموعی طور پر بیس برس تک وزارت عظمیٰ سنبھالے، رکھی جو کسی خاتون وزیراعظم کا طویل ترین ریکارڈ ہے۔ بھارتی وزیراعظم کا منصب سنبھالنے کا اعزاز مسز اندراگاندھی کو ہوا جن کے والد پنڈت نہرو تھے۔ اندراگاندھی کو بھی قتل کر دیا گیا۔ وہ 1966ءمیں وزیراعظم بنیں اور 1977ءتک وزیراعظم رہیں۔ وہ دوسری مرتبہ 1980ءمیں بھارت کی وزیراعظم بنیں اور 1984ءمیں اپنے قتل ہونے تک اس منصب پر فائز رہیں۔
سربراہ حکومت یا سربراہ مملکت کے طور پر جن خواتین نے مثبت نام کمایا ان میں نیوزی لینڈ کی جیسنڈرا اور جرمنی کی انجیلا مرکیل قابل ذکر ہیں جبکہ دنیا میں ناپسندیدہ ترین سربراہ مملکت کے طور پر یاد رکھی جانے والی اسرائیل کی سابق وزیراعظم مسز گولڈا میئر ہیں۔ وینزویلا، تنزانیہ، میکسیکو، نمیبیا، کوسٹاریکا اور سرنیم میں خواتین سربراہ حکومت یا سربراہ مملکت ہیں۔
آسٹریلیا نے ایک خاتون کو اپنا آرمی چیف مقرر کیا ہے، غالباً انہیں صلاحیتوں سے بھرپور کوئی مرد نہیں ملا جو لیفٹیننٹ جنرل سوسن کولے سے بہتر ہو۔ وہ گزشتہ سوا سو برس میں پہلی خاتون آرمی چیف ہیں جو آسٹریلوی فوج کی کمانڈر مقرر کی گئی ہیں۔ وہ جولائی میں اپنا عہدہ سنبھالیں گی۔
امریکی خواتین بڑی تعداد میں میدان سیاست میں آئیں۔ انہوں نے اہم عہدے حاصل کئے۔ وہ اداروں کی سربراہ بنائی گئیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دور میں خواتین خبروں کا موضوع بنتی رہیں۔ ان میں چار خواتین اہم ہیں جنہیں اہم عہدے دیئے گئے اور انہیں مستعفی ہونے پر مجبور کیا گیا۔ ان میں ایک خاتون کا تعلق امریکہ کے مشہور سیاسی خاندان یعنی کینیڈی خاندان سے ہے۔ یہ امریلز فاکس کینیڈی سے ہیں جو ڈپٹی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس کے طورپر کام کرتے ہوئے تین عہدوں پر کام کر رہی تھیں۔ انہوں نے دو عہدے چھوڑ دیئے ہیں۔ تلسی گیبرڈ ڈائریکٹر کے طورپر اٹھارہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے معاملات دیکھتی تھیں، وہ بھی مستعفی ہو گئیں۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کے موقف کے خلاف کانگریس کمیٹی بریفنگ میں کہا کہ ایران ایٹم بم نہیں بنا رہا، ہمیں اس سے کوئی خطرہ نہیں تھا۔ وہ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کرنل بھی تھیں۔ پامیلا جوبوندی اٹارنی جنرل کے عہدے پر کام کررہی تھیں۔ وہ ایپسٹین فائلز کیس میں ریلیف نہ دلوا سکیں، انہیں مستعفی ہونے کا کہا گیا۔ لوری شاویز ڈی ریمر سیکرٹری لیبر تھیںان پر بھی الزام لگائے گئے اور استعفیٰ لے لیا گیا۔ کرسٹی نویم¾ ہوم لینڈ سکیورٹی کی انچارج تھیں، ان سے بھی عہدہ چھوڑنے کو کہا گیا۔ ٹرمپ حکومت کی چار اہم خواتین نے اصولی موقف نہ چھوڑے، انہوں نے اپنے عہدے چھوڑ دیئے۔ مردوں کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ دو درجن کے قریب اہم عہدوں پر موجود فوجی افسران اور جنرلز سے استعفے لے لئے گئے۔ ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ملکوں میں پردے کے پیچھے ایک ہی نظام ہے۔ نظام کا حصہ بن جاﺅ یا نظام سے علیحدہ ہو جاﺅ۔
پردے کے پیچھے ایک ہی نظام جاری
09:08 AM, 1 Jun, 2026