نئی دہلی : بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان نے حال ہی میں اعتراف کیا ہے کہ پچھلی فوجی کارروائی میں غلطی ہوئی تھی، جسے بعد میں درست کیا گیا۔ اس انکشاف کے بعد مودی حکومت کی دفاعی حکمت عملی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دفاعی ناکامیوں کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینا چاہیے، جیسا کہ کارگل جنگ کے بعد کیا گیا تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس بلایا جائے تاکہ عوام کو اصل حقائق سے آگاہ کیا جا سکے۔
ملکارجن کھڑگے نے امریکہ کے صدر ٹرمپ کی ثالثی پر بھی سوال اٹھایا اور پوچھا کہ کیا مودی حکومت نے واقعی امریکی دباؤ پر جنگ بندی قبول کی؟ انہوں نے کہا کہ مودی صرف فوج کی بہادری کو سراہتے ہیں مگر پالیسی کے اہم فیصلوں سے کنارہ کشی کرتے ہیں۔ کانگریس نے کہا ہے کہ بھارت کے ہر شہری کو سیزفائر کی شرائط معلوم ہونی چاہئیں اور دفاعی تیاریوں کا مکمل اور شفاف جائزہ لینا ضروری ہے۔