میرے دوست میر صاحب کے پڑوس میں ایک شیخ صاحب رہتے ہیں۔ ان کے گھر پی ٹی سی ایل کا کنکشن لگا ہے۔ کل شیخ صاحب کا فون بند ہوگیا۔ فون بند ہونے کی تو گھر والوں کو اِتنی تکلیف نہیں تھی لیکن اس کے ساتھ جو وائی فائی بند ہوا تو گویا سب کی آکسیجن بند ہوگئی۔ پورا گھر پریشان تھا کہ اب کیا کریں۔ چنانچہ شیخ صاحب نے اپنے ایک دوست کو فون کیا جو پی ٹی سی ایل میں ایک بڑا افسر ہے۔
فون کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک گھنٹے بعد ایک لائن مین ان کے گھر آگیا۔ لائن مین نے اندر کے تمام کنکشن چیک کیے اور پھر وہ باہر نکل گیا۔ تھوڑی دیر میں اس نے آکر بتایا کہ آپ کی تار کسی نے کاٹ دی ہے۔ اب آپ کسی بڑے افسر کی سفارِش لائیں تاکہ یہ تار ڈالی جاسکے۔ یہ کہہ کر لائن مین چلا گیا۔شیخ صاحب نے پھر اپنے دوست کو فون کیا اور اسے یہ بات بتائی۔ دوست نے کہا کہ آپ ٹھہریں میں کچھ کرتا ہوں۔ ایک گھنٹے کے بعد پھر لائن مین آیا۔ اس نے گھنٹی بجائی۔ خاتونِ خانہ باہر نکلیں تو اس نے پوچھا کہ آپ لوگ گھر پر ہی ہیں نا۔ انہوں نے بتایا کہ ہم گھر پر ہی ہیں۔ وہ اچھا کہہ کر چلا گیا۔ جب مغرب کا وقت ہوگیا اور کچھ نہ ہوا تو شیخ صاحب نے پھر فون کیا۔ دوست بڑا شرمندہ تھا۔ اس نے بتایا کہ کئی لوگوں کی تار کٹ گئی ہے۔ غالباً کوئی نشئی تاریں کاٹ کر لے گیا ہے۔ دوست نے کہا کہ میں لگا ہوا ہوں۔ عشا ء کے قریب وہی لائن مین تار لے کر آگیا۔ اس نے پوچھا کہ کیا آپ کے گھر میں وائر کٹر ہے۔ اسے کٹر دے دِیا گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ چھری مانگنے کے لیے آیا۔ اسے چھری بھی دیدی گئی۔ اِسی اثنا میں شیخ صاحب کے دوست کا فون آیا اور اس نے معذرت کی کہ یہ کام اب کل پر پڑ گیا ہے۔ اس کی پوری کوشش کے باوجود کچھ نہیں ہوسکتا۔ شیخ صاحب نے بتایا کہ لائن مین تو باہر کام کررہا ہے۔ دوست نے کہا کہ یہ لائن مین کی مہربانی ہے کہ وہ کام کررہا ہے۔ دوست نے یہ بھی بتایا کہ اس نے لائن مین کو کہا تھا کہ یہ کام کردو تمہارا مجھ پر احسان ہوگا۔ بالآخر رات ساڑھے آٹھ بجے کے قریب فون ٹھیک ہوگیا۔
یہ سارا قصہ یہ بتاتا ہے کہ ہمارے یہاں اِدارے کیسے کام کررہے ہیں۔ شیخ صاحب ہر مہینے ساڑھے چھ ہزار روپے سے زائد کا بل ادا کرتے ہیں۔ اِس کے باوجود یہ حال ہے کہ انہیں بتایا گیا کہ تار کٹ گئی ہے لہٰذا آپ کسی بڑے افسر کی سفارِش لے کر آئیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ جس کے پاس سفارِش نہ ہو وہ کیا کرے۔ اگر شیخ صاحب کا دوست پی ٹی سی ایل میں بڑا افسر نہ لگا ہوتا تو شیخ صاحب کا فون غالبا ًکئی دِن بند رہتا۔ بل پھر بھی پورا ہی آتا۔ مزید یہ کہ اِدارے کو پتا ہی نہیں چلا کہ کسی جگہ پر کنکشن ٹوٹ گئے ہیں۔ وہ آرام سے اپنے دفتروں میں بیٹھے ہیں۔ جب تک کوئی انہیں جاکر بتائے گا نہیں انہیں کچھ پتا نہیں چلے گا۔نہ جانے ہمارے ملک میں کس زمانے کا سسٹم کام کررہاہے؟ پھر یہ کہ وہ لائن مین جو تار لگانے آیا ہے اس کے پاس اوزار ہی نہیں ہیں۔ وہ لوگوں سے اوزار مانگ رہاہے۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ پروفیشنل انداز میں کام ہورہا ہے؟
اِس کے علاوہ لائن مین کا یہ جواب کہ آپ بڑے افسر کی سفارِش لے کر آئیں ایسا ہے کہ اسے نوکری سے برخواست کردِیا جانا چاہیے۔ اس کا کام یہ تھا کہ وہ اپنے دفتر جاکر یہ بتاتا کہ جناب فلاں علاقے کی تاریں کوئی کاٹ کر لے گیا ہے۔ پھر وہ تار لیتا اور اپنی ٹیم کے ساتھ آکر تار لگا دیتا۔ لیکن غالباً نئی تار نکلوانے کے لیے لمبی چوڑی کاغذی کارروائی درکار ہے جس میں وہ پڑنا نہیں چاہتا تھا۔ اس نے آسان راستہ اِختیار کیا کہ کسٹمر پر بوجھ ڈال کر خود سکون میں آگیا۔ شیخ صاحب کے دوست افسر کو نہ جانے کتنے فون کرنے پڑے ہوں گے۔ وہ خود اسی محکمے میں ملازم ہیں۔ اِس کے باوجود کسی کے کانوں پر جوں بھی نہیں رینگ رہی تھی۔ آخر میں بات ذاتی مہربانی اور احسان پر آکر ختم ہوئی۔ گویا فون کا ٹھیک کرنا کسی کی ڈیوٹی میں شامل نہیں تھا بلکہ وہ بھی ان صاحب پر احسان کرکے ٹھیک کیا گیا۔
یہی حال ہمارے دیگر اِداروں کا بھی ہے۔ آج سے چند سال قبل زیادہ بارِشوں کے باعث ہمارے علاقے کا ایک ٹرانسفارمر جل گیا۔ میں نے جب لیسکو کے دفتر جاکر بات کی تو انہوں نے کہا کہ کسی ایم این اے یا ایم پی اے کی سفارِش کے بغیر یہ ٹرانسفارمر تبدیل نہیں ہوگا۔ چنانچہ میں اپنے گھر والوں کو لے کر ایک گیسٹ ہاؤس میں شفٹ ہوگیا اور چار دِن کے بعد بجلی بحال ہونے کے بعد میں واپس آگیا۔
بڑے افسر کی سفارِش کے بغیر کام کا نہ ہونا تین باتیں بتاتا ہے۔ ایک تو یہ کہ لوگ کام نہیں کرنا چاہتے۔ وہ آرام سے دفتروں میں بیٹھے رہنا چاہتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ کوئی انہیں تنگ نہ کرے۔ دوسرے یہ کہ تار یا ٹرانسفارمر ایشو کرانا اِتنا لمبا اور دردسر والا کام ہے کہ کوئی اِس میں نہیں پڑنا چاہتا۔ ہر جگہ سرخ فیتہ ان کا راستہ روکتا ہے۔ یہ فارم بھرو، اِتنی فوٹو کاپیاں کراؤ، پوری فائل بناؤ، فلاں فلاں سے دستخط کراؤ،سب سے اوپر والے افسر سے اپروول لو تب کہیں جاکر کچھ ہوگا۔ تیسرے یہ کہ ہمارے یہاں بڑے افسروں نے نیچے اِختیارات تفویض ہی نہیں کیے۔ ہر بڑا افسر یہ سمجھتا ہے کہ اگر میں نے نیچے والوں کو اِختیار دے دِیا تو ایک غدر مچ جائے گا۔ ہر کوئی مال کھانے کے لیے تیار بیٹھا ہے۔ چنانچہ ہر طریقہ کار پیچیدہ اور وقت ضائع کرنے والا بنا دیا گیا ہے۔ بے اِیمانی پھر بھی ہورہی ہے اور بہت ہورہی ہے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ طریقہ کار کو مشکل بنادینے سے بے ایمانی رک جائے گی تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے۔ طریقہ کار کی پیچیدگی کا حرام کھانے یا نہ کھانے سے کوئی تعلق نہیں۔ جس نے حرام کھانا ہے وہ ہر صورت میں راستہ نکال لیتا ہے۔ آج بھی دفتروں سے تاریں اور ٹرانسفارمر چوری ہوجاتے ہیں۔ خریداری میں گھپلے ہوتے ہیں۔ جو چیز بنائی جاتی ہے، خاص طور پر عمارتیں اورسڑکیں وغیرہ ان کے ذریعے کئی لوگوں کے اپنے گھر بن جاتے ہیں۔
بے اِیمانی یا کرپشن بیماری نہیں ہے۔ اصل بیماری معاشرے کی اخلاقی قدروں کا گر جانا ہے۔ جس معاشرے میں اخلاقی قدریں گر جائیں وہاں کرپشن کا ہونا لازمی ہے۔ ہم مرض کی جڑ کو پکڑنے کے بجائے معاشرے کو بخار کی گولی دینا چاہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یوں معاشرہ ٹھیک ہوجائے گا۔ ایسا قیامت تک نہیں ہوگا۔ معاشرے کی اخلاقی قدروں کو ٹھیک کرنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ اِس کیلئے تربیت گھروں اور سکولوں سے شروع ہوتی ہے۔ مسجد کے منبر سے ہوتی ہے۔ بدنصیبی سے یہ کام اِن تینوں جگہوں پر نہیں ہورہا۔
اِس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہمارے اِدارے پروفیشنل انداز میں کام کریں۔ دنیا کسی اور طرح چل رہی ہے۔ لوگوں کے گھر بیٹھے سب کام ہوجاتے ہیں۔ یہاں ہر چھوٹے سے چھوٹے کام کے لیے گھنٹوں بلکہ کئی دِنوں تک ذلیل ہونا پڑتا ہے۔ ہر کام کو کل پر ڈال دینا، ایسے کام کرنا گویا کسی پر احسان کیا جارہا ہے، کسٹمر کو کسی قسم کی کوئی اہمیت نہ دینا اور اس سے ایسا سلوک کرنا گویا ٹیلی فون یا بجلی یا پانی کی سہولت دے کر اس پر احسان کیا جارہا ہے وہ بیماریاں ہیں جن کا سدباب کرنا ازحد ضروری ہے۔ جب تک یہ نہیں ہوگا ملک یونہی ڈانواں ڈول طریقے پر کام کرتا رہے گا۔
بڑے افسر کی سفارِش
09:47 AM, 1 Jun, 2025